جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

بہار میں مجلس کے ارکان اسمبلی نے مسلم سیاست کا خواب چکنا چور کردیا

عبد الغفار صدیقی

بہار میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے چار ممبران اسمبلی نے اپنی پارٹی چھوڑ کر راشٹریہ جنتا دل کا دامن تھام لیا۔ان کے اس اقدام سے مسلم سیاست اور مسلم قیادت کاخواب دیکھنے والوں کو بہت بڑا دھکا لگا ہے۔کہنے کو تو کہا جاسکتا ہے کہ بھارت میں یہ کام کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔بلکہ ہر بار کہیں نہ کہیں ہوتا رہتا ہے۔جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے تو دل بدلی کاعمل تیز ہوگیا ہے.

اس وقت جب کہ بہار میں مجلس کے ارکان اسمبلی پالا بدل رہے تھے اسی وقت مہاراشٹر میں شیوسینا کے ارکان اسمبلی بغاوت کررہے تھے۔ ان کی بغاوت رنگ لائی اور مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت گر گئی۔جسے ایک دن گرنا ہی تھا۔کوئی بھی اتحاد اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس اتحا د میں شامل پارٹیوں کامقصد متحد ہ نہ ہو۔کانگریس اور شیوسینا میں اتحاد کی کوئی بنیاد ہی نہیں پائی جاتی تھی سوائے اس کے کہ بی جے پی کو اقتدار سے روکا جائے۔منفی مقصد کو لے کر قائم ہونے والا اتحاد دیر پا نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ ادو ٹھاکرے نے کہا کہ ہماری بات امت شاہ جی نے نہیں مانی تھی ورنہ بی جے پی کی سرکار عزت سے بھی بن سکتی تھی۔ہم نے ڈھائی ڈھائی سال کا فارمولہ پیش کیا تھا جسے بی جے پی نے نہیں مانا۔اس کا مطلب ہے کہ ادو ٹھاکرے خود اس اتحاد سے مطمئن نہیں تھے۔

مجلس اتحاد المسلمین نے جب بہار میں پانچ سیٹیں جیتیں تھیں تو مسلمانوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی تھی۔اس کے بعد مجلس کی قیادت نے ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہاتھ پیر مارنے شروع کیے تھے۔خاص طور پر اترپردیش میں بہت محنت کی تھی مگر کامیابی نہیں ملی۔کامیابی ملنے کے بعد بھی کوئی امید نہیں تھی کہ وہ ارکان اسمبلی مجلس سے وابستہ رہتے اس لیے کہ اترپردیش میں پیس پارٹی کے ارکان اسمبلی ماضی میں بغاوت کرچکے تھے۔یوں تو ملک میں بیشتر سیاسی پارٹیوں میں آیا رام گیا رام کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔لیکن مسلم سیاسی پارٹیوں میں یہ قدم بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔دیگر تمام پارٹیاں ایک ہی مذہب کی ہوتی ہیں۔اگر ان کے لوگ پالا بدلتے بھی ہیں تو ان کے ویژن اور مشن میں زیادہ فرق نہیں آتا۔وہ ہم مذہب بھی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ذات بھی یکساں ہوتی ہے۔حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ ارکان اسمبلی بی ایس پی کو چھوڑ کر بھاگے ہیں۔سب سے کم لوگ بی جے پی کو چھوڑ تے ہیں۔

بہار حادثے پر مجلس کو غور کرنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ پارٹی اپنے کیڈر کو اپنا مقصد سمجھانے میں ناکام رہی ہے۔اول تو مجلس کا مقصد واضح نہیں ہے۔صرف مسلم سیاست اور مسلم قیادت کی بات کرنے سے بات نہیں بننے والی۔مجلس کو اپنی جماعت کا مقصد اور طریقہئ کار واضح کرنا چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مجلس کی جانب سے کبھی کیڈر کی ٹریننگ ورکشاپ نہیں ہوتی۔کبھی اس کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوتا نظر نہیں آتا۔نیشنل سطح پر کوئی تنظیمی اسٹرکچر بھی عوام کو نہیں معلوم،ذمہ داران کے جائزے اور احتساب کا کوئی لائحہ ئ عمل نہیں ہے۔کوئی جواب دہی نہیں،کوئی بازپرس نہیں،قومی صدر کا اپنی جماعت کے وابستگان سے کوئی انٹریکشن نہیں،عام کارکنان کو اپنی بات اعلیٰ کمان تک پہنچانے کا کوئی راستہ نہیں،کوئی ہیلپ لائن نمبر نہیں،دہلی میں قومی سطح کاکوئی دفتر نہیں،بھارتی مسلمانوں کے لیے کوئی تعلیمی اورمعاشی،منصوبہ نہیں،بس ایک شخصیت ہے جس کے اردگرد پوری جماعت گھوم رہی ہے۔وہ شخص بہت نیک ہوسکتا ہے،اس کا خلوص شک سے بالا تر ہوسکتا ہے،اس کی محنت اور جد جہد قابل ستائش ہوسکتی ہے،اس کا کردار بے داغ ہوسکتا ہے،لیکن کسی جماعت کو بھی خواہ وہ سیاسی ہو یا سماجی اسے اپنا تنظیمی اسٹرکچر تو کھڑا کرنا چاہئے۔اسے پورا ایک سسٹم وضع کرنا چاہئے جہاں ایک عام کارکن بھی اپنی بات کہہ سکے۔کسی ریاستی ذمہ دار کی شکایت کرسکے اور اس کی شکایت کا ازالہ ہوسکے۔یہ کونسا سسٹم ہے کہ ایک شخص قومی سطح پر سیاہ و سفید کا مالک ہے،اس کی جناب میں کوئی پر نہیں مارسکتا اور ریاستوں کو بھی فرد واحد کے حوالے کردیا گیا ہے۔فرد خواہ کتنا بھی نیک ہو اس پر نفسانی خواہشات غالب آسکتی ہیں،وہ اپنی پسند و ناپسند کو تھوپ سکتا ہے،وہ کسی بھی عصبیت کا شکار ہوسکتا ہے۔اگر وہ چاپلوس پسند ہوگا تو اس کے ارد گرد خوش آمدی لوگ اکٹھا ہوجائیں گے اور اسے برباد کردیں گے،اگر اس کے اندر ہٹلر شاہی اور فرعونیت ہوئی تو اس کے پاس کوئی نہیں پھٹکے گا،اس طرح بھی پارٹی کو برباد ہونا ہے،ایسے میں مسلم قیادت کے لیے اخلاص سے کام کرنے والے گھر بیٹھاجائیں گے یا انھیں بیٹھادیا جائے گا۔جیسا کہ اکثر ریاستوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

منزل کے تعین کے بغیر سفر جاری رکھنے کا یہی انجام ہوتا ہے جو بہار میں ہوا۔تقریباً چھ ماہ پہلے کچھ لوگ سیمانچل کے مجھ سے ملے اور انھوں نے مجلس کے ممبران اسمبلی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں سے تو ہر بار مسلمان ہی جیت حاصل کرتے ہیں۔اگر مجلس نہیں ہوتی تو کسی دوسری پارٹی کے مسلمان امیدوار جیت حاصل کرتے،ہم نے مجلس کو اس لیے وووٹ دیا تھا کہ یہ ہمارے دکھ درد میں کام آئیں گے مگر یہ تو پہلے والوں سے بھی بدتر ہیں۔عوام کی یہ رائے مجلس کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ مجلس جہاں سے ایک بار فتح حاصل کرلے اس کے بعد کبھی وہاں اسے شکست کا منھ نہ دیکھنا پڑے،یہ تبھی ہوسکتا ہے جب مجلس کے ممبران اسمبلی خادم بن کر قوم کے درمیان رہیں اگر وہ بھی وہی سب کام کریں گے جو نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے مسلم ارکان اسمبلی کرتے رہے ہیں تو پھر مجلس کا کیا فائدہ ہے۔مجلس کو ٹکٹ دیتے وقت یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ امیدوارکے پاس مال کتنا ہے،یہ دبنگ کتنا ہے بلکہ اس کے کردار کو دیکھنا چاہئے۔سیرت نبوی ﷺ پر اشکبار تقریر کرنے سے انقلاب نہیں آتا،انقلاب کے لیے اس ذات اقدس کے نقش قدم پر چلنا پڑتا ہے۔آپ مسلمان ہیں،آپ اللہ اور رسول کی دہائی دے کر قوم سے ووٹ مانگتے ہیں،اگر آپ بھی ٹکٹ فروخت کریں گے اور بے کردار لوگوں کو آگے بڑھائیں گے تو آپ کو اللہ کے غیض و غضب کا سامنا کرناہی پڑے گا۔

آزاد بھارت میں بہت سے مسلم قائدین اٹھے اور اپنی قبروں میں جاکر سوگئے۔ایسا نہیں ہے کہ انھیں قوم نے سر آنکھوں پر نہ بیٹھایا ہو۔قوم نے کسی کو بھی مایوس نہیں کیا۔آسام میں یوڈی ایف،کیرلا میں انڈین یونین مسلم لیگ اور تلنگانہ میں مجلس کو قوم ووٹ دیتی آرہی ہے۔اس نے یوپی میں پیس پارٹی کو،ماضی بعید میں مسلم مجلس کو بھی ووٹ دیا ہے،اب بہار میں مجلس اتحادالمسلمین کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔لیکن قوم کو مسلم لیڈر شپ نے مایوس کیا ہے۔اس لیے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر قوم کا سودا کرتے رہے ہیں۔مجلس کی ناکامی صرف مجلس کی ناکامی نہیں ہے بلکہ بھارتی مسلمانوں کی امیدوں کا سورج غروب ہونے کو ہے،ان چار ممبران اسمبلی نے خواہ کسی بھی وجہ سے پالا بدلا ہو ان کو اللہ کے یہاں اس کا حساب ضرور دینا ہوگا،مسلم اجتماعیت اورقیادت کو کمزور کرنے کا جرم کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔اس کے اثرات دہائیوں پر پڑتے ہیں اور نسلیں اس سے متاثر ہوتی ہیں۔مجلس کے قومی ذمہ داران کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا صاف،شفاف اور مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تیار کریں،جس کی منزل بھی واضح ہو اورراستا بھی متعین ہو۔

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

 

                مضمون نگار آزاد صحافی اور راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ کے چیرمین ہیں۔

9897565066



 

0 comments

Leave a Reply