ہندوستانی فوج کا ایک اعلیٰ مسلمان آفیسر اور شکر گڑھ کا ہیروبریگیڈی ئر ظفر علی

حرف نیم کش

 

عظیم اختر

سرکاری دفتروں میں چھوٹے اور نان گزیٹیڈ عہدوں پر کام کرنے والے مسلمان عام طور پر زندگی بھر مسلمان ہی رہتے ہیں،دفتری اوقات میں قرب و جوار کی کسی مسجد میں باقاعدگی کے ساتھ نماز کا اہتمام کرتے ہیں،تندہی اور جانفشانی سے کام کرکے افسرانِ بالا کو خوش رکھتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی مذہبی اور تہذیبی جڑوں سے جڑے رہنے اور رہائش اختیار کر نے کے لیے مسلم علاقوں کا رخ اختیار کرتے ہیں، سر پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی کا اضافہ ہو جاتا ہے  اور مغربی طرزِلباس کی جگہ کرتا اور شرعی پائے جامہ روزمرہ کی زندگی کا لازمی جز بن جاتا ہے،لیکن سرکار کی ہائی پروفائل ملازمتوں کے لیے مقابلہ جاتی امتحان پاس کر کے اختیارات و دبدبہ اور شان وشوکت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی کلمہ گو افسروں کے یہاں مین اسٹریم میں بہنے اور سیکولر سمجھے اور کہلائے جانے کے انکر پھوٹنے لگتے ہیں۔

مین اسٹریم میں بہنے اور سیکولر ہونے کا ثبوت دینے کے لیے اپنوں سے دوری بنائے رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے، چنانچہ شہرکے کسی ہائی فائی علاقے میں سرکاری رہائش ملتے ہی سوشل ڈسٹینسنگ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس سوشل ڈسٹینسنگ کی پرچھائیاں عملے والوں اور دوست احباب پر پڑتی ہیں۔

چند ماہ و سال کے بعد جب سینیئریٹی میں اضافہ ہوتا ہے تو غیر معمولی ذمہ داریاں اور کام کی زیادتی کی پرچھائیاں سگے رشتوں پر بھی پڑنے لگتی ہیں اور دوریاں اس نہج پر بڑھتی ہیں کہ ورثے میں ملی ہوئی تہذیبی اور دینی قدریں مکمل طورپر گہنا جاتی ہیں اور سرکار کے اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچے ہوئے مسلم افسران کی دفتری اور نجی زندگی سیکولرازم اور قومی دھارے میں بہتی ہوئی اُس زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے جہاں مذہب اور مذہبی قدریں صرف ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔

ہماری عام سماجی زندگی میں اور ہائی فائی طبقوں میں ایسے کلمہ گو اعلیٰ سرکاری مسلم افسران وسیع المشرب اور وسیع الخیال سمجھے جاتے ہیں۔ اس وسیع المشربی اور وسیع الخیالی سے عام طورپر ریٹائر ہونے والے اعلیٰ سرکاری مسلم افسران کو فائدہ پہنچتا ہے اورریٹائر ہوتے ہی کسی سرکاری کمیشن یا بورڈ وغیرہ میں سجا دیے جاتے ہیں۔

ہم نے گزشتہ تیس چالیس برسوں میں قومی دھارے میں بہنے اور وسیع المشربی اور وسیع الخیالی کا عمل ثبوت دینے والے انگنت مسلم آفیسروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد عہدوں پر پہنچتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن ایک ہاتھ کی چند انگلیوں کے پوروں پر شمار کیے جانے والے ایسے اعلیٰ سرکاری مسلمان آفیسر دیکھے ہیں جنھوں نے قومی دھارے کے مفروضے میں بہنے اور اپنی مذہبی، تہذیبی قدروں کو وسیع المشربی اور وسیع الخیالی کی دہلیز پر گروی رکھنے کی بجائے تندہی، جانفشانی اور ایمانداری سے دفتری فرائض انجام دیے اور ہر جگہ اپنے کردار کی ایک چھاپ چھوڑی۔

انگلیوں کے پوروں پر گنے جانے والے ان چند اعلیٰ سرکاری افسروں میں ہمیں سب سے پہلے اپنے بے تکلف دوست ظفر علی کا نام یاد آتا ہے جس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کرنے کے بعد کیپٹن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ 1965 میں کشمیر کے محاذ پر پاکستانی حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ 1971 کی جنگ میں راجستھان سیکٹر میں شکر گڑھ کے مقام پر اپنے دستے کی کمانڈ کرتے ہوئے پاکستانی حملہ آوروں کی پیش قدمی کا نہ صرف دندان شکن جواب دیا بلکہ حملہ آوروں کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ بھاگتے ہوئے پاکستانی حملہ آوروں کی اندھا دھند فائرنگ اور بمباری سے ظفر شدید زخمی ہوئے۔ پیٹ میں بم کا ایک اچٹتا ہوا ٹکڑا لگا، جس سے آنتیں باہر نکل آئیں، لیکن حملہ آوروں کے دانٹ کھٹے کرنے اور وطنِ عزیز کی دھرتی کے حفاظت کے جنون میں ظفر نے اس زخم کی کوئی پرواہ نہیں کی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھا تا وقتیکہ بے ہوش نہ ہوگئے۔

ظفر کی اس دلیری کو حکومتِ ہند کے گزٹ میں یوں جامہ پہنایا گیا ہے

 ''Captain Zafra Ali was the observation post officer with a squadron of the 7th light Cavalry in the advance in the Shakargarh Sector on the 5th December 1971. During its acvance, the Squadron came under heavy enemy fire. Our tanks were inable in manoeuvre into suitable positions to engage the enemy, due to the presence of the infantry. Captain Zafar Ali, therefore, came out of the tank and under heavy shelling selected a suitable point and directed artillery fire.

Again on the 13th December 1971, the squadron was ordered to cut the road from Shakargarh to Zafarwal. During this action, the squadron came under accurate fire from the enemy tanks dug in behind the road embankment: this together with the minefield between the enemy and the squadron stopped its further advance. Captain Zafar Ali; disregarding enemy shelling and with utter disregard for his safety, climbed the top of a building and brought down accurate artillery fire on the enemy positions.

He also diredted own tanks through the sugar-cane fields, and while doing so, he was wounded due to shelling. Throughout, Captain Zafar Ali displayed courage, determinition and  devotion to duty."

 

ہمیں یاد ہے کہ ظفر کی خداداد بہادری اور شجاعت کا یہ کارنامہ جب اخباری خبر کی شکل میں سامنے آیا تو ملک کے عوام نے بلاتفریق مذہب و ملت داد و تحسین کے وہ ڈونگرے برسائے کہ ظفر کا نام بہادری اور شجاعت کا ایک سمبل بن گیا۔ حکومتِ وقت نے بھی ظفر کے بہادرانہ کارنامے کی پذیرائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور سینا میڈل سے نواز۔ غیر معمولی شجاعت، بہادری اور فوجی خدمت کے عوض دیا جانے والا سینا میڈل ایک اہم اور بڑا ایوارڈ ہے، جس کی قدر و منزلت صرف فوجی ہی لگا سکتے ہیں۔ ظفر کو صرف سینا میڈل ہی نہیں دیا گیا بلکہ اس کو ہیرو آف شکر گڑھ کے نام سے یاد کیا جانے لگا اور آج بھی شکر گڑھ میں ظفر کو ہیرو آف شکر گڑھ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ظفر بریگیڈئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے جو فوج کے اعلیٰ عہدوں میں سے ایک ہے۔ ہمارے ملک کی بڑی کمپنیاں فوج کے اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں۔ ریٹائر منٹ کے بعد ظفر کو بہت سی کمپنیوں نے پر کشش ملازمت آفر کی، لیکن ظفر کے یہاں اپنی قوم کے کام آنے کا جذبہ موجزن تھا، چنانچہ ظفر نے ہمدرد کے حکیم عبد الحمید صاحب مرحوم سے رابطہ قائم کیا۔ حکیم عبد الحمید مرحوم نہایت ہی مردم شناس تھے اور ایسے لوگوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے جو قوم کے کام آنے کے جذبے سے سرشار ہوں۔

 

حکیم صاحب مرحوم نے ظفر کے جذبوں سے متاثر ہو کر معقول مشاہرہ پر ایک پر کشش عہدے کی پیشکش کی، لیکن ظفر نے حکیم صاحب مرحوم کے کارِ خیر کے کاموں میں حصہ لینے اور قوم کے تئیں اپنا فرض نبھانے کے لیے حکیم صاحب کو رضاکارانہ طورپر اپنی خدمات پیش کیں اور جب تک حکیم صاحب حیات رہے ظفر جامعہ طبیہ ہمدرد سے ہی وابستہ رہے، لیکن حکیم صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء اور دوسرے لوگوں کی خالص کاروباری روش سے دل برداشتہ ہو کر ہمدرد سے تعلق منقطع کر لیا.

 

لیکن مسلم اداروں کے کام آنے کے جذبے نے ظفر کو جلد ہی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر پہنچا دیا، اس زمانے میں اسلامک سینٹر ایک نئی کروٹ لے رہا تھا اور موجودہ بلڈنگ بن رہی تھی، یہاں بھی ظفر نے رضاکارانہ طوپر خدمات انجام دیں، بلڈنگ جب تیار ہو گئی اور اسلامک سینٹر مسلمانوں کا ایک اہم اور بڑا ادارہ بن کر سامنے آیا تو سینٹر کے ذمہ داروں سے زیادہ دنوں تک نہیں بن سکی کیونکہ قومی معاملات میں ظفر ہر شخص کو اپنی ہی طرح سراپا مخلص دیکھنا چاہتا تھا جب کہ آج ملت کے تئیں اخلاص اور خلوص کا جذبہ دینی رہنماؤں کے یہاں بھی دور دور تک نظر نہیں آتا، دنیادار مسلمان تو اپنے ذاتی اور کاروباری مفادات کو ترجیح دینے اور کسی بھی حد تک جانے کے لیے مجبور ہیں، اس لیے اس قسم کے مسلم اداروں اور تنظیموں کے ذمہ داروں سے اخلاص کی توقع رکھنا فضول ہے، بریگیڈ ئیر ظفر کو مایوس اور ناامید ہو کر اپنے جذبوں کو کوئی دوسرا روپ دے دینا چاہیے تھا.

 

لیکن ان جذبوں نے بریگیڈئیر کو جماعتِ اسلامی کے الشفاء ہوسپٹل میں پہنچا دیا جہاں وہ زندگی کے آخری لمحے تک رضاکارانہ طورپر خاموشی سے خدمت انجام دیتے رہے۔

  اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اعلیٰ فوجی افسروں کے یہاں مذہبی اور تہذیبی قدریں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں،روشن خیالی، آزاد روی اور وسیع المشربی کی پرچھائیاں ان کے گھریلو اور نجی زندگی میں دور دور تک پھیلی ہوتی نظر آتی ہیں، ان پرچھائیوں نے ایک ایسے مخلوط کلچر کو جنم دیا ہے جہاں گھر کے افراد کا ایک میز پر بیٹھ کر مئے نایاب کی چسکیاں لینا معیوب نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہ یقینا خاندانی شرافت ہی کا اعجاز تھا کہ بریگیڈیئر ظفر کی نجی اور خانگی زندگی اس قسم کی آلودگیوں سے یکسر پاک صاف تھی، یہی وجہ ہے کہ اس کے یہاں قوم پرستی کے جراثیم بدرجہ اتم موجود تھے، جنھوں نے تمام تر آسائشوں کے باوجود اس کو زندگی کے کسی بھی دوراہے پر بے راہ رو نہیں ہونے دیا اور اس نے ایک اعلیٰ فوجی افسر ہونے کے باوجود ایک سچے اور دیندار مسلمان کی طرح زندگی گزاری۔

M: 9810439067 

0 comments

Leave a Reply