بابری مسجد! میں تیرا مرثیہ نہیں لکھوں گا
مرثیہ تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملت اسلامیہ ہند کے دیگر پلیٹ فارموں پر ، جو اب صرف تعزیتی ومذمتی بیانات کے ادارے بن کر رہ گئے ہیں ۔
آج پانچ اگست ہے ، ہرسال یہ تاریخ ہمارے کیلنڈر کاحصہ بنتی ہے اور ہم اس سے گزر جاتے ہیں ، مگر ہندوستان کی ہندوتوا تحریک نے اس تاریخ کو اپنے ایجنڈے میں رنگ بھرنے کا ایک علامتی دن مقرر کررکھا ہے۔ آر ایس ایس اور اس کے دُم چھَلّے بہت پہلے سے اس ملک کو ، جو گنگا جمنی تہذیب کی علامت تھا ، اس کو ختم کرنے پر اتارو تھے ، لیکن ان کو موقع ملا آزادی ہند کے ستر سال بعد کہ وہ اپنی مرضی کا ہندوستان تعمیر کرسکیں ، انہوں نے اپنے مینی فسٹو میں دستور ہند کی ان دفعات کو کھرچ کر نکال باہر کرنے کا تہیہ کیا ، جو اس ملک کو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں تصور کرتا ہے ۔ گزشتہ سال آج ہی کے دن وزیرداخلہ نے بڑے طمطراق سے ہندوستانی جمہوریت کے مندر میں یہ بیان دیا کہ آج کادن تار یخی ہے کہ ہم شیاما پرساد مکھرجی کے خوابوں کا ہندوستان بنانے جارہے ہیں ، اور ریاست جموں و کشمیر کی خاص دفعہ 370 کو کالعدم کرکے ایک ہندوستان ،ایک سنبیدھان کو سچ کرنے جارہے ہیں ۔
آج بابری مسجد کی سرزمین پر کھڑے ہوکر انہیں لوگوں نے ، جو خود بابری مسجد کی شہادت کے ملزم ہیں پھر اپنے عزم کو دہرایا ، کہ ہم نئے ہندوستان کی بنیاد رکھنے جارہے ہیں ۔ کیا ہم اگلے سال 5 اگست اس بات کے لئے تیار رہیں کہ زعفرانی گروہ ، ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرکے ہندوستان کوعملا ً ہندوراشٹر میں بدل کر دَم لے گا ۔
ہمیں اس زعفرانی گروہ سے کوئی شکوہ نہیں ہے ، وہ تو اپنے ایجنڈے پر پوری یک سوئی اور چابک دستی سے لگے ہوئے ہیں ،ان کے اندر منافقت نہیں ہے ، وہ جو کرتے ہیں اسے ببانگ ِ دہل کہتے بھی ہیں ، مگر آج کے اس "تاریخی واقعہ " نے بہتوں کے چہرے سے نقاب اتار دئے ہیں ، کتنے ہی سیاسی رہنما اور سیاسی پارٹیاں ، جو سفید جامے میں خاکی نیکر پہنی ہوئی تھیں ، برسرِ عام برہنہ ہو گئی ہیں ۔
سیکولرزم اور سوشلزم ، ڈیموکریسی کا جنازہ بڑے آب وتاب کے ساتھ نکلا ہے ، اور تعجب خیر امر یہ ہے کہ اس جنازے کو کندھا دینے میں اسی کے ہرکارے کام آرہے ہیں ۔ ظالم نے بڑی دور کی چال چلی ہے کہ تما م بساطیں الٹ پلٹ کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ چانکیوں کی فوج رکھنے والی کانگریس کے سامنے بھی "جے شری رام " کا نعرہ لگانے کے علاوہ چارہ نہیں ۔
سبرامنیم سوامی نے صحیح کہا کہ رام مندر کی تعمیر کا کریڈٹ تو راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کو دیاجانا چاہئے اور دہلی یو تھ کانگریس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے راجیو اور سونیا کی تصویر شیئر کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کی کہ " فیتہ کاٹنے والے کچھ اور لوگ ہوتے ہیں اور مہم کو انجام پہونچانے والے کچھ اور " اب تو کانگریس کو یہ زحمت نہیں دینی چاہئے کہ بی جے پی ایم پی اور ایم ایل اے کو خرید وفروخت کرے اور اپنے میں شامل کرے ، بلکہ اعلان کرکے بی جے پی میں ضم ہو جاناچاہئے ۔ اس سے مودی جی کاوہ سپنابھی ساکار ہو جائے گا کہ ایک ملک اور ایک پارٹی ۔
بابری مسجد کا مرثیہ کیوں لکھا جائے ؟
- مرثیہ تو اس نام نہاد ملّی و سیاسی قیادت کالکھناضروری ہے ،جو آندھی طوفان کے اس دور میں بھی گہری نیند میں سوئی ہوئی ہے ، نیند سے ذرا سی بے دار ہوتی ہے کہ پھر لوری سُن کر دوبارہ گہرا تان لیتی ہے ۔
مرثیہ تو سیکولرزم اور جمہوریت کے علم برداروں کا پڑھنا ضروری ہے کہ جنہوں نے سافٹ ہندوتوا کو اختیار کرکے ہندوستان کے کثیر المذاہب کردار کودریا برد کر دیا ہے ۔
مرثیہ تو ملت اسلامیہ ہند کے پچیس کروڑ نفوس پر بنتاہے ،جو اتنی بڑ ی تعداد میں ہونے کے باوجود ، ان کی اہمیت پرِ کاہ کے برابر نہیں۔
مرثیہ تو مسالک و فرقوں کے رہنماؤوں پر ، جنہیں ایک دوسرے کو کافر قرار دینے اور گرداننے سے فرصت نہیں
مرثیہ تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملت اسلامیہ ہند کے دیگر پلیٹ فارموں پر ، جو اب صرف تعزیتی ومذمتی بیانات کے ادارے بن کر رہ گئے ہیں ۔

0 comments