ایوارڈ ڈپلومیسی اور عالمی سیاست

ٹی ایم ضیاء الحق

بین الاقوامی سیاست میں اعزازات، تمغے اور اعزازی خطابات صرف احترام و عقیدت کی علامت نہیں ہوتے بلکہ یہ سفارت کاری کی ایک مؤثر اور خاموش زبان بھی سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات کے ذریعے نہ صرف کسی شخصیت کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات، سیاسی اعتماد اور اقتصادی شراکت داری کے پیغامات بھی دیتے ہیں۔ اسی لیے جدید بین الاقوامی تعلقات میں ایوارڈ ڈپلومیسی  (Award Diplomacy) کو نرم طاقت (Soft Power) کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کی جانب سے بڑی تعداد میں اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ سویڈن، ناروے، فرانس، روس، مصر، یونان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور متعدد دیگر ممالک نے انہیں اپنے ممتاز ترین اعزازات عطا کیے ہیں۔ ان اعزازات نے نہ صرف ہندوستان میں سیاسی بحث کو جنم دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ سوال اٹھایا کہ کیا کسی رہنما کو ملنے والے اعزازات اس کی عظمت اور کامیابی کا پیمانہ بن سکتے ہیں؟
اس بحث کا ایک دلچسپ پہلو 14 دسمبر 2023 کو راجیہ سبھا میں سامنے آیا، جب بی جے پی کے رکن جی وی ایل نرسمہا راؤ نے حکومت سے سوال کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والے اعزازات کی تفصیلات کیا ہیں اور ان کی اہمیت کو حکومت کس زاویے سے دیکھتی ہے۔ اس کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے وزیرِ مملکت وی مرلی دھرن نے بتایا کہ 2023 تک وزیر اعظم مودی کو 15 بین الاقوامی اعزازات حاصل ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کی جانب سے وزیر اعظم کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جانا ان کی قائدانہ صلاحیتوں، عالمی سطح پر ان کی سیاسی حیثیت اور ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا اعتراف ہے۔ ان کے مطابق یہ اعزازات اس حقیقت کی عکاسی بھی کرتے ہیں کہ ہندوستان آج "گلوبل ساؤتھ" کی ایک مؤثر آواز بن کر ابھرا ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ 2023 تک تقریباً ساڑھے نو برسوں میں حاصل ہونے والے 15 اعزازات کی تعداد اگلے محض ڈھائی برسوں میں بڑھ کر 32 تک پہنچ گئی۔ اس غیر معمولی اضافے نے اس موضوع کو مزید نمایاں کر دیا۔ وزیر اعظم کے حامی اسے ہندوستان کی سفارتی کامیابیوں اور عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ثبوت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ جدید سفارت کاری کے اس رجحان کا حصہ ہے جس میں ممالک اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے پیش نظر ایک دوسرے کے رہنماؤں کو اعزازات سے نوازتے ہیں۔
درحقیقت اعزازات کی سیاست کو سمجھنے کے لیے عالمی سفارت کاری کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یورپ میں ریاستی اعزازات کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ فرانس کا "لیجن آف آنر"، برطانیہ کے شاہی اعزازات، جرمنی اور اٹلی کے ریاستی تمغے صرف سیاسی شخصیات ہی نہیں بلکہ سائنس دانوں، ادیبوں، تاجروں اور سماجی کارکنوں کو بھی دیے جاتے ہیں۔ ان اعزازات کے ذریعے ممالک اپنے قومی مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
خلیجی ممالک میں یہ روایت اور بھی زیادہ واضح نظر آتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا "آرڈر آف زاید"، سعودی عرب کا "آرڈر آف کنگ عبدالعزیز"، عمان کا "آرڈر آف عمان"، بحرین کا "کنگ حمد آرڈر آف دی رینیسانس" اور کویت کا "آرڈر آف مبارک الکبیر" محض اعزازات نہیں بلکہ سفارتی تعلقات کی علامت بھی ہیں۔ ان اعزازات کے ذریعے اقتصادی تعاون، توانائی کے معاہدوں، دفاعی شراکت داری اور سیاسی اعتماد کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ہندوستانی وزیر اعظم کو خلیجی ممالک کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا، کیونکہ ہندوستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعلقات غیر معمولی حد تک مضبوط ہوئے ہیں۔
تاہم اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عظمت کا تعلق ہمیشہ اعزازات کی تعداد سے نہیں رہا۔ ہندوستان کے کئی سابق وزرائے اعظم، مثلاً لال بہادر شاستری، چودھری چرن سنگھ، چندر شیکھر، راجیو گاندھی اور پی وی نرسمہا راؤ کو کوئی نمایاں بین الاقوامی اعزاز حاصل نہیں ہوا، لیکن ان کی سیاسی خدمات اور قومی کردار اپنی جگہ مسلم ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اپنے دس سالہ دورِ اقتدار میں صرف چند بین الاقوامی اعزازات ملے، مگر عالمی معیشت اور ہندوستانی اقتصادی اصلاحات میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب دنیا میں ایسے رہنما بھی گزرے ہیں جنہیں درجنوں بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ اعزازات حاصل ہوئے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کو بے شمار بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ فیدل کاسترو کو تو اپنی طویل سیاسی زندگی میں ستر سے زائد ریاستی اعزازات اور اعزازی خطابات حاصل ہوئے۔ لیکن تاریخ میں ان شخصیات کا مقام صرف تمغوں اور اعزازات کی بنیاد پر متعین نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے سیاسی نظریات، فیصلوں اور عوامی اثرات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات سیاسی حالات بدلنے کے ساتھ اعزازات کی حیثیت بھی بدل جاتی ہے۔ روس اور یوکرین جنگ کے بعد ولادیمیر پوتن کو ماضی میں دیے گئے بعض اعزازات اور اعزازی رکنیتیں واپس لے لی گئیں یا معطل کر دی گئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی اعزازات ہمیشہ مستقل اور غیر متغیر نہیں ہوتے بلکہ وہ سیاسی حالات اور سفارتی مفادات کے تابع بھی رہتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کسی رہنما کو کتنے اعزازات ملے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے ملک اور عوام کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔ کسی بھی رہنما کی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ عوام کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی، معاشی استحکام، سماجی انصاف، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی وقار ہوتا ہے۔ اگر ایک رہنما اپنے ملک کو ترقی، استحکام اور عزت کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے تو یہ کامیابی کسی بھی بین الاقوامی تمغے سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔
اعزازات بلاشبہ خوش آئند ہوتے ہیں اور کسی ملک یا رہنما کے لیے باعثِ فخر بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر کسی شخصیت کی پذیرائی اور کسی ملک کی سفارتی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ کسی اور میزان پر ہوتا ہے۔ تاریخ نہ تمغوں کی تعداد گنتی ہے اور نہ اعزازی خطابات کی فہرست مرتب کرتی ہے۔ وہ کردار، خدمات، بصیرت، دیانت اور عوامی اثرات کو دیکھتی ہے۔
اس لیے بین الاقوامی اعزازات کا احترام اپنی جگہ، لیکن قیادت کا اصل معیار ان اعزازات سے کہیں بلند ہے۔ دنیا کے تمام تمغے اور خطابات ایک طرف، اور عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی عزت ایک طرف۔ تاریخ کا سب سے بڑا اعزاز وہی ہے جو کسی دربار، شاہی محل یا حکومت سے نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی یادداشت سے ملتا ہے۔ یہی اعزاز سب سے پائیدار، سب سے معتبر اور سب سے بلند ہوتا ہے۔

0 comments

Leave a Reply