اسماء البلتاجى - جسے حق بہت عزيز تها

عمّاره رضوان

ابهى كل كى بات ہے ، مئى كى چلچلاتى  دهوپ ميں ايك ماں  مشرقى قاہره كے قبرستان كے  بڑے گيٹ سے اندر داخل ہوئى اور اپنى اكلوتى بيٹى كى قبر كو تلاش كرنے لگى ، عموما اس قبرستان ميں قبروں پر كتبے لگے ہوئے ہيں جن كے ذريعے زائرين اپنے عزيزوں كى مستقل رہائش كوپہچان ليتے ہيں ، مگر اس قبر سے وه پتهر غائب ہے  جس پر أسماء كا نام لكها ہوا تها ، كيونكہ جنرل سيسى كے كارندوں كو يہ بات راس نہ آئى كہ اسماء كى قبر كے ذريعے تحريك مزاحمت پهر زور نہ پكڑ لے

اسماء چار بهائيوں كى اكلوتى بہن تهى  جو رابعہ (مصر ) ميدان ميں حق كى لڑائى ميں شہيد ہوئى ، يہ ماں كبهى آنچل سے اپنے آنسؤوں كو پونچھتى ہے اور كبهى دعا كے لئے اپنے ہاتھ اوپر كى جانب اٹھا ليتى ہے ، ليكن آنسو بهى باغى ہو گئے ہيں ، ركنے كا نام ہى نہيں لے رہے ہيں 

آخر آپ يہاں كيوں آتى ہيں ؟  قبرستان كے  جاروب كش نے پوچها 

ماں نے اپنےآپ كو سنبهالتے ہوئے كہا !  جب ميرا دل بہت زيادہ گھبرانے لگتاہے تو اس شہر خموشاں كا رخ كر ليتى ہوں ، سالہاسال گزر گئے مگرميں اس كے خون كا قصاص ڈهونڈتى رہى اور اب تك ناكام ہوں ، اسى كى معافى مانگنے آئى ہوں اپنے جگر كے ٹكڑے سے "

اسماء البلتاجى نے رابعہ كے ميدان ميں  پرامن مظاہرے ميں شركت كى تهى اور پورے خاندان كے ساتھ حقوق كى لڑائى ميں پيش پيش تهى ، أسماء نے ابهى بارہويں كا امتحان ديا تها  اور پورے مصر ميں تيسرى پوژيشن حاصل كى تهى . مگر 14 اگست 2013 كو  جنرل سيسى كے ذريعے انجام دئے گئے قتل عام ميں    شہيد ہوگئى . اسماء كى عمر شہادت كے وقت صرف ستره سال تهى 

اسماء  اپنے والد ڈاكٹرمحمد البلتاجى سے بہت قريب تهى مگرظالم حكومت كى ستم آرائيوں كى وجہ سے  وه خود اپنى لاڈلى كے آخر ى سفر ميں شريك نہ ہوسكے جس پر انهوں نے اس طرح خراج عقيدت پيش كيا 

" جان سے پيارى ميرى بيٹى ! ميں حد درجہ مغموم وافسرده ہوں كہ ميں تم كو آخرى بار الوداع نہيں كہ پا رہا ہوں ، تجھ كو ديكھ كر تو ميرى آنكھيں روشن ہو جايا كرتى تھيں ، كيا ميں اتنا مجبور ہوں كہ آخر ى بار تيرى پيشانى كا بوسہ نہ لے سكوں، جنازے كى نماز پڑهانے كا حقدار تو تيرا يہ باپ ہے نا  - ميرى لخت جگر ، قسم خدا كى ! مجھے ان ظالموں كا كوئى خوف نہيں ، جس راستے ميں تو قربان ہوئى اسى راستے كا ميں راہى ہوں ، اور ان شاء الله جيت حق كى ہوگى "

اسماء نے رابعہ كے ميدان سے ہى ايك پوسٹ اور لكهى جو اس كى منزل كى جستجو اور تڑپ كى عكاس ہے " يا تو ہم لوگ سرزمين مصر كو جنت نظير بناديں گے يا پهر جنت كو اپنا آشيانہ"

 

اس وقت بهى  اسماء كے والد ڈاكٹر بلتاجى اور بهائى عمار دونوں ،ہزاروں بےگناہوں كے ساتھ مصر كى جیلوں ميں سنت يوسفى ادا كررہے ہيں ، مگر حقوق انسانى كے  علم برداروں كے منہ پر تالے پڑے ہيں

 

 

مضمون نگار ، سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کی درجہ بارھویں کی طالبہ ہیں   


0 comments

Leave a Reply