بدایوں کے' ماڈل ولیج بسولیا' سے ایشیا ٹائمز کی گراونڈ رپورٹ
وژن 2026 نے 67 گاوں کو لیا گود ؛'ماڈل ولیج' کے طور پر ترقی دیے جانے کا عمل شروع
بدایوں /نئی دہلی : (اشرف علی بستوی ) اگرآپ 'چلو گاوں کی اور' کا نعرہ سچ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو بدایوں ضلع کے 'بسولیا' گاوں جانا ہوگا ۔ یہاں وژن 2026 نے گاوں والوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی پروجیکٹ شروع کیے ہیں ، وژن کا 'ماڈل ولیج ٹرسٹ' تبدیلی کی یہ مہم صرف بسولیا میں ہی نہیں بلکہ ملک کی 9 ریاستوں کے 18 اضلاع کے 67 گاوں میں چلا رہا ہے ۔ وژن 2026 گاوں کوگود لیکر انہیں 'ماڈل ولیج' کے طور پر ترقی دینے کا کام کر رہاہے ۔ وژن نے پہلا ماڈل ولیج 2010 میں مغربی اترپردیش کے مرادآباد کے ملک پلو پورا کو گود لیا تھا ۔
وژن 2026 کے تبدیلی کے اس دعوے کو زمین پر پہونچ کر جانچنے اور پرکھنے (گراونڈ رپورٹ ) کے لیے ہم نے 24 اگست کا دن طے کیا اورصبح پانچ بجے ہم دہلی سے لگ بھگ 240 کلومیٹر دور مغربی اترپردیش کے ضلع بدایوں کے بسولیا ،اسماعیل پور اور قربان پور کے لیے نکل پڑے ۔

اسماعیل پور میں تعلیم بالغان کا مرکز
ہم صبح ساڑھے دس بجےاسماعیل پور میں وژن 2026 کے 'امید پروجیکٹ ' تعلیم بالگان کے مرکز پہونچے۔ یہاں ہمیں بڑی عمر کی خواتین کا ایک گروپ ایک گھرکی دالان کے ایک کونے میں لکھنا پڑھنا سیکھنے میں منہمک ملا ، سبھی گھریلوخواتین اپنی گھر کی مصروفیات سے وقت نکال کر روزانہ یہاں جمع ہوتی ہیں اور غزالہ خان انہیں لکھنا پڑھنا سکھاتی ہیں، بتایا گیا کہ یہ نیا بیچ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی شروع ہوا ہے لیکن خواتین کی سیکھنے کی لگن اوران کا اعتماد یہ بتا رہا تھا کہ یہ خواتین سیکھنے کے لیے یہاں لائی نہیں گئی ہیں بلکہ خود آئی ہیں ، ہماری درخواست پر دو خواتین نے فورا ہندی اورانگریزی میں بلیک بورڈ پر اپنا نام پتہ لکھ کر دکھا دیا کتاب میں سے سبق پڑھ کرسنانے لگیں ۔

ایک بچی کے لہجے میں بے چارگی نمایاں تھی
ایک نوعمرلڑکی بھی سیکھنے والوں میں تھی میں نے پوچھا کیا اورآگے بھی پڑھنا چاہیں گیں ؟ تھوڑی دیر سکوت اختیارکرنے کے بعد کہنے لگی " ںہیں ، مجھے اورآگے پڑھنے نہیں دیا جائے گا گھر کے بڑے کہتے ہیں پڑھ کر کیا کروگی، گھرپر رہو کام دیکھو"۔ اس کے لہجے میں بے چارگی نمایاں تھی ۔

'ماڈل ولیج' بسولیا میں یوتھ میٹ میں شرکت
ہم اب وہاں سے سیدھے 'ماڈل ولیج' بسولیا پہونچے یہاں خواتین و مرد اور نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ ہمارا پہلے سے انتظار کر رہا تھا ،آج یہاں 'گرامین دوستی – یوتھ میٹ 2022 ' کا پروگرام تھا ۔ مقامی مدرسہ احسن البرکات کے ہال میں پروگرام شروع ہوا وژن 2026 کے ماڈل ولیج پروجیکٹ ہیڈ محمد شاہد سمیت دیگر نے مقامی لوگوں کو اپنے شہری حقوق کے تئیں بیدارکرنے اور ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی بھر پورکوشش کی ۔ گاوں کی ترقی میں ان کی حصہ داری کیا ہو سکتی ہے ، وہ کیا کیا کر سکتے ہیں سبھی امور پر عام فہم انداز میں سمجھنانے کی کوشش کی ۔

ہم گاوں میں گراونڈ رپورٹنگ کے لیے نکلے
پروگرام کے اختتام پر میں نے چاہا کہ کہ گاوں میں چلکر تبدیلی کی کوششوں کو دیکھا جائے اورمستفدین سے سیدھے ملاقات کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ کوششیں بسولیا کے لوگوں کے لیے کس قدر نفع بخش ثابت ہو رہی ہیں ؟ چنانچہ ہم گلیوں میں نکلے برسات کے موسم میں گاوں کی لبالب کیچڑ بھری سڑکوں سے بچ کر نکلنے کا اگر آپ کا تجربہ نہیں ہے تو آپ کو کیچڑمیں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ میں نے گاوں میں زندگی کے اولین جو 27 برس گزارے ہیں آج ان تجربات کا بھر پور فائدہ ملا ۔ بچ بچاکر سڑک کے کناروں اور کیچڑ میں رکھے اینٹ پتھروں سے گزرنا یقینا مداری کے 'رسی پر چلنے' سے کم مشکل نہیں ہے ،یہ ایک آرٹ ہے۔
دو کمروں والے گھر کی مالکن دادی ماں سے ملاقات
یہاں سے بچتے بچاتے ہم دو کمروں والے ایک گھرپر پہونچے ،مجھے بتایا گیا اسے وژن 2026 نے بنایا ہے ۔ گھرکی مالکن ایک دادی ماں ہیں جن کا نام چندا ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی ، اپنی پرانی جھوپڑی کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگیں " بابو ، پہلے ہم سردی ،گرمی برسات اسی میں گزارتے تھے ،برسات میں مشکل بڑھ جاتی تھی لیکن اب میں اپنے پکے گھرمیں سکون سے سوتی ہوں ،اللہ بھلا کرے ان لوگوں کا جنھوں نے ہماری مدد کی ہے "۔
ہم اورآگے بڑھے تو ایک اور خاتون اپنے پکے گھر کی دہلیزپر کھڑی ملیں ، ہم نے پوچھا گھر بنانے والوں نے آپ کو کیسا گھر بنا کر دیا ہے ؟ کہنے لگیں " بھائی، ہم بہت خوش ہیں ، ہمیں جھوپڑی سے پکا مکان ملا ۔ سب کچھ ہے کچن باتھ روم دو کمرے ہماری ضرورت پورئ ہوجاتی ہے "۔

انڈیا مارکا ایک ہینڈ پمپ سے 200 گھروں کو ملتا ہے پانی
مجھے بتایا گیا کہ اس گاوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی بڑا مسئلہ رہا ہے، وژن 2026 نے کچھ واٹر پروجیکٹ بھی کیے ہیں ، اگے بڑھے تو ہمیں دور اشارہ کرکے ایک ساتھی نے بتایا وہ انڈیا مارکا ہینڈ پمپ ہم نے لگایا ہے ،قریب جاکر دیکھا تو یہ ہینڈ پمپ اچھا کام کر رہا ہے ۔ یہاں علی حسن صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ اس نل سے پورا محلہ پانی لے جاتا ہے ، وژن نے ہماری بڑی دشواری دور کر دی ہے۔ یہاں پانی کے چار پروجیکٹ لگائے ہیں ۔

گھر گھر میں ہوتی ہے قالین سازی
ہم ایک گھر کے سامنے سے گزر رہے تھے کہ ایک مقامی ساتھی نے اشارہ کیا ، آئیے اوپر چڑھ کر دیکھتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت کسی تنظیم نے یہاں گھر گھرقالین سازی کی ایک یونٹ لگارکھی ہے ۔ گھر کی عورتوں کو تربیت دیکر انہیں کچا مال فراہم کراتی ہے اور اس طرح گھر میں کام سے فارغ ہوکرعورتیں، نوجوان لڑکیاں قالین سازی کرتی ہیں جس سے انہیں اچھی اجرت مل جاتی ہے ۔ جب ہم پہونچے تو شمع اپنی بہن کی مدد سے قالین سازی میں مصروف تھیں کافی خوش نظر آئیں ،کہنے لگیں ہمیں اس کام کے اچھے پیسے مل جاتے ہیں ، لیکن بعد میں مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہ قالین ایکسپورٹ ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں کافی مہنگا بکتا ہے، لیکن محنتانہ اس حساب سے کم ہے ۔

ماڈل ولیج پروجیکٹ ' کے نیشنل کو آرڈینیٹر محمد شاہد سے گفتگو
بسولیا 'ماڈل ولیج' میں جاری کاموں کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے وہیں پر ماڈل ولیج پروجیکٹ ' کے نیشنل کو آرڈینیٹر محمد شاہد سے بات کی انہوں نے بتایا کہ" جب 2017 میں ہم نے بسولیا کو گود لیا تھا اس وقت 350 گھروں پر مشتمل اس آبادی کی حالت بہت خراب تھی ۔ یہاں کام کرنا بہت چیلنجوں والا تھا ، چنانچہ ہم نے گاوں کی ترقی میں وہاں کے مکینوں کی سرگرم شراکت داری پر خاص توجہ دی ۔ خود روزگار سمیت کئی اہم پروجیکٹوں کے ذریعے یہاں کے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش جاری ہے ۔ گرام پنچایت کی سرکاری یوجناوں کوگاوں میں لانے کاکام بھی ہم مقامی لوگوں کی مدد سے کرتے ہیں ۔ گاوں کی ترقی میں مقامی نوجوان اپنا سرگرم رول ادا کر یں اس کے لیے 'گرامین دوستی یوتھ میٹ 'کے ذریعہ نوجوانوں کو جوڑتے ہیں ۔

وژن نے یہاں 11 پکے مکان بنائے ہیں
شاہد بتاتے ہیں کہ وژن نے یہاں 11غریب ضرورت مند خاندانوں کے لیے پکے مکانات بنائے ہیں ، خواتین اور بڑی بچیوں کے لیے ‘امید پروجیکٹ 'کے تحت اڈلٹ لرنگ سینٹرقائم کیا ہے جس میں 80 خواتین لکھنا پڑھنا سیکھ رہی ہیں ، ون ٹیچر اسکول بنایا گیا ہے جس میں 256 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑنے کے لیے ٹیوشن اور کریر گائڈینس سینٹر قائم کیا جا رہا ہے ۔ پینے کے صاف پانی کے لیے 4 پروجیکٹ لگائے گئے ہیں ۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ملکر ہم مستقل صفائی بیداری مہم چلاتے ہیں ۔

عدم تغذیہ کا شکار 15 بچے ہوئے صحت مند
انہوں نے مزید بتایا کہ صحت ہماری ترجیحات میں شامل ہے گاوں میں غربت کی وجہ سے عدم تغذیہ کا شکار چھوٹے بچوں کی صحت کی بہتری کے لیے گھر گھر جاکر ہم تب تک کام کرتے ہیں جب تک یہ بچے بہتر پوزیشن میں نہ آجائیں ۔ بسولیا میں بڑی تعداد میں ایسے بچوں کو صحت مند زندگی دینے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں ۔ عدم تغذیہ کا شکار 15 بچوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے ۔ واضح ہو کہ وژن 2026 اپنے قیام کے اول روز سے ہی محروم طبقات کی مدد اور ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے ۔

گاوں کی چوپال پرموجود لوگ کافی خوش نطر آئے
چلتے چلتے گاوں کے چوپال پر بڑوں ، بزرگوں اور نوجوانوں سے ملاقات ہوئی ،سبھی وژن 2026 کے کاموں سے کافی مطمئن نظر آئے ۔ گاوں کی ترقی میں اپنی سرگرم حصے داری کا وعدہ کیا ۔ بسولیا ماڈل ولیج کے مقامی کو آرڈینیٹر محمد اجمل کہتے ہیں پہلے سمجھانا ذرا مشکل تھا، لوگوں کو یہ لگتا تھا کہ یہ لوگ ہمارے گاوں میں کیوں آئے ہیں ؟ ضرور کوئی بات ہوگی، لیکن اب انہیں یقین ہوچلا ہے کہ یہ لوگ ان سے کچھ لینے نہیں بلکہ انہیں دینے آئے ہیں ۔ ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہے ہیں ،اب لوگ سپورٹ کرتے ہیں ۔

گاوں کے سابق پردھان بدر احمد کہنے لگے بھائی یہ اچھے لوگ ہیں ہمارے بچوں کو پڑھانے کی فکر کر رہے ہیں ، گاوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں ، ہمیں بیدار کر رہے ہیں ۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔
اب شام ہو چکی تھی اور ہمیں دہلی کے لیے فورا نکلنا تھا، لہذا دورے کو یہیں مختصر کرتے ہوئے ، بسولیا کے لوگوں سے جلد لوٹنے کے وعدے کے ساتھ ہم دہلی کے لیے روانہ ہوگئے ۔


0 comments