شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

یاور رحمن

نام بڑا ہو سکتا ہے لیکن قابل اعتبار بھی ہو یہ ضروری تو نہیں؟ انسان مشہور و معروف ہو سکتا ہے مگر واقعی لائق عزت و شرف ہو، یہ ضروری تو نہیں ؟ کسی کی ناموری شہرت کی دلیل تو ہو سکتی ہے مگر اسکے کردار کے اچھے ہونے کی سند تو نہیں ہو سکتی ؟ کیونکہ شہرت کا حصول ایک لالچی اور بے اصول  شخص کے لئے کبھی بھی ناممکن  نہیں رہا۔ 

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام -  بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا 

کیونکہ شہرت سے دولت ہاتھ آتی ہے اور دولت سے معاشرے میں 'مقام' ملتا ہے۔ وہ مقام جو انسان کے باقی تمام عیوب و نقائص کو زیرو کر کے سماج میں اسے 'ہیرو' بنا دیتا ہے۔ اور اسی معاشرے کے 'نیک اور شریف لوگ' اس کے ساتھ چاۓ پینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ چاہے ایک وقت کی بھی نماز نہ پڑھے، مسجد کی کمیٹی کا صدر وہی ہوگا، وہ چاہے ایک ایک حرف کا جاہل ہو ، علاقے کے مدرسے کا سیکریٹری وہی ہوگا، وہ اندر سے چاہے کتنا بھی بڑا پاجی ہو، دینی اور سیاسی جلسوں میں چیف گیسٹ بنایا جاۓ گا اور مقررین اسی کی توصیف سے اپنی تقریروں کا آغاز کریں گے۔ 

اگر وہ کسی 'رحمتہ اللّه علیہ' کا فرزند ہے تو پوری قوم میں پیدائشی ارجمند سمجھا جاۓ گا۔ لیاقت اور سعادت ہو نہ ہو  اداروں اور جمیعتوں کی قیادت اسی کے قبضۂ جہل میں ہوگی۔ علم و آگہی سے لاکھ محروم سہی، اپنے اسلاف کی عظمتوں کا وہی امین سمجھا جاۓ گا۔ ایک نمبر کا ڈھونگی ہوگا مگر صرف عوامی شہرت کی بنیاد پر ملت کے مشترکہ پلیٹ فارموں پر بھی اسی کی متقیانہ گرفت ہوگی۔عقل و دانائی سے پیدل ہوگا مگر اسکی توصیف و تعریف میں کتابیں اور مضامین لکھے جائیں گے۔ وہ جب تک زندہ رہیگا 'مد ظلہ العالی' بن کر رہے گا اور مرتے ہی 'رحمتہ اللہ علیہ' بن جاۓ گا۔ 

  اگر کوئی غریب اسکے خفیہ اور اعلانیہ مظالم پر بلبلا اٹھے تو یہی شریف ہستیاں بیک زبان اسے بد قماش، بد دماغ، بد تمیز اور جاہل کہکر اسے سماج کے کوڑا گھر کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ 

اصل مسلہ یہی ہے کہ ہم دو چہروں والے گھٹیا انسانوں کو صرف عوامی 'شہرت ' کی بنیادوں پر صاحب عظمت و افتخار سمجھ لیتے ہیں۔  جبکہ عوامی شہرتوں سے محروم خدا کے انتہائی نیک اور مخلص بندوں کو معمولی اور حقیر سمجھنے کا ظلم کرتے رہتے ہیں۔ اسی عمومی رویے نے معاشرے کو دوغلے لوگوں سے بھر دیا، اسی طور نے مکاروں کے مکر کو فروغ دیا، اسی روش فکر و نظر نے مخلص و غیر مخلص، اچھے اور برے، اپنے اور پرائے اور مومن و منافق کی پہچان مٹا دی ! 

کیا ہم نہیں جانتے کہ عوامی مقبولیت کیسے ملا کرتی ہے ؟ کون ذی فہم نہیں جانتا کہ ایک بے نام شخص کے پیچھے 'برانڈنگ' کے کیسے کیسے جگاڑ لگے ہوتے ہیں ؟ غیروں کو چھوڑیے، ہمارے اپنے مذہبی اور سماجی حلقوں کو دیکھئے اور ذرا ایماندارانہ اور بے لاگ جائزہ لے کر دیکھئے کہ ہمارے بہت سے 'مسلمان ادارے' تنظیمیں، جمیعتیں اور جماعتیں اور انکے قائدین کیسے کیسے 'جتن' کر کے اور کیسی کیسی 'گولیاں' کھا اور کھلا کر اپنا اور اپنے اداروں کا قد بڑھاتے رہتے ہیں۔ 

 'عدم' سے لیکر ' ایک بھاری بھرکم وجود' تک کا یہ سفر جھوٹ سے بھرپور ہے۔  بے اصل دانشوری، مبالغہ آمیزشہرہء علم،  کھوکھلی معرفت کا شور ، باطل تقویٰ اور بناوٹی تقدس کے ہنگاموں کے بل پر اس عوام میں اپنا مقام بنایا جاتاہے جو  سیمیناروں، مذہبی جلسوں، سیاسی گٹھ جوڑوں اور نام نہاد سمپوزیموں کی 'اشتہاری خبروں' اور ویڈیو کلپوں کی بنیاد پر اپنے 'آئیڈیل' طے کرتے ہیں۔

 'برانڈنگ' کے اس کھیل میں تین  گروہ ہیں جو اپنا اپنا رول بڑی ذہانت سے ادا کرتے ہیں۔ ان میں ایک تو خود یہی 'معتبر اور مقدس طبقہ'  ہے جو آپس کی سانٹھ گانٹھ کے تحت "من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو" والی پالیسی پر 'نوا پیرا' ہے۔ دوسرا گروہ ان اہل زر کا ہے جو معاشرے میں اپنی پیٹھ اور پہچان بنانے کے لئے 'حضرت' کو مالی اور مادی تعاون دیتے ہیں۔ اپنے سگے بھائی بہنوں تک کو پریشان حال چھوڑ دینے والے بلکہ ایک ایک بالشت زمین کے لئے اپنے 'حقوق' کی لڑائی لڑنے والے یہ امرا کھلے ہاتھ اپنا مال 'اپنے حضرت' پر قربان کر کے ثواب دارین حاصل کرتے رہتے ہیں۔

تیسرا گروہ ان مطلب پرست صحافیوں کا ہے جن کا قلم غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرنے اور خود اپنے ہی گھر کی چھت میں شگاف ڈالنے میں مشاق ہے۔ یہ اپنے قارئین کو وہی پڑھاتے ہیں جسے پڑھانے کا انہیں حکم صادر ہوتا ہے۔  اس طرح قوم و ملت کے نام پر تشدید کے ساتھ 'ملی بھگت'' ہوتی ہے اور عوام کی بھیڑ میں اشخاص کے بت نصب کیۓ جاتے ہیں۔ 

'بک جانے' اور 'خرید لینے' والی اسی شرمناک سرشت نے ملت کے ان عظیم اداروں کو بھی دو لخت کر دیا جنکی بنیادوں کو مخلصین نے اپنا خون جگر پلا پلا کر کھڑا کیا تھا۔  

مذہب بھلے ہی سیاسی ایوانوں سے کان پکڑ کے نکال دیا گیا ہو مگر دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ کیونکہ دونوں نے ملکر عوام کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ انکی روحیں 'مذہبیوں'  کے شکنجہء تقدیس میں مقید ہیں اور انکے جسم اہل سیاست کی بے رحم مٹھیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اور میڈیا جسے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھانا تھا وہ بازار میں کھڑا دلالی کر تا رہتا ہے۔ اس بد نما کیفیت سے وہ قوم اور معاشرہ بھی دوچار ہے جسے ہم 'مسلمان' سمجھتے ہیں۔ بلکہ اسکا جرم تو اور بھی سنگین ہوکر "مغضوبیت"  کی سرحدیں عبور کر لیتا ہے۔ 

اس ملک میں مسلمان سب سے بڑی اکثریت ہوکر بھی اقلیت کہلاتے ہیں۔ انکے بے شمار 'اقلیتی دکھڑے' ہیں جو انہیں مظلوم، مقہور اور مجبور ثابت کرتے ہیں۔ کروڑوں کی بھیڑ کا یہ حال خود اسکی اپنی روش حیات کا نتیجہ ہے، اسکی منتشر اور متفرق قیادتوں کی عاقبت نا اندیشیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور  اس کے اندر کی کالی بھیڑوں اور لالچی و بد کردار مصاحبوں کی کمینگی کا شاخسانہ ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ عوام ان ہی کے عصائے زہد و ورع میں اپنے تمام روحانی اور مادی مسائل کا حل دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں، وہ ان ہی کی اک نگہ با صفا کو اپنے ہر درد کا درماں سمجھتے ہیں اور اپنے رویے پر نظر ثانی کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ عوامی بھیڑ کے بیچ کھڑا ہوا ہر شخص مسیحا نہیں ہوتا۔  ایسی بھیڑ میں بھیڑیا بھی ظاہر بیں نگاہوں کو مسیحا دکھائی دیتا ہے۔

 قرآن و سنّت سے بے پرواہ 'مذہب' کا کمال یہ ہے کہ اس نے روح کی پاکیزگی اور علم و تقویٰ کی دولت کو بھی مادی وراثت بنا کر ان ناخلف نا ہنجاروں میں تقسیم کروا دیا جنکو اپنے اجداد سے دور تک بھی روحانی نسبت نہیں تھی۔ اور عوام نے ایسی ہر منادی پر 'آمنّا' کا اعلان کر دیا۔
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا 

ہمارے گرد کتنے ایسے نفیس چہرے ہیں جو ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ جب بھی ہم کسی 'یکساں مفادات' پر انہیں ایک اسٹیج پر یکجا دیکھتے ہیں تو ان میں سے کئی 'شریفوں' پر نظر گڑ جاتی ہے جنکی خاموشیاں گویا بڑبڑاتی دکھائی دیتی ہیں کہ 

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی  

یہ وہ 'نیک دل' اور 'مصلحت شناس' ہستیاں ہیں جنہوں نے ایک طرف امّت کو 'انتشار' سے بچانے اور دوسری طرف 'خود پرست ڈھونگیوں' کے سیاہ کارناموں پر سفیدی پھیرنے کی تمام تر ذمہ داری اپنے انتہائی کم زور کندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔ انکے منہ میں چھپی ہوئی زبان کبھی باہر نہیں جھانکتی۔ ان سے کون پوچھے گا کہ 

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے 

حق کا کوئی پرستار اور دیوانہ سچ بولنا چاہے تو سیدھی سادی سمجھی جانے والی معصوم نگاہیں بھی اسی کو مجرم سمجھتی ہیں اور زبان حال سے کہ رہی ہوتی ہیں کہ تم نا مراد!  ہماری اعتبار آفریں اور تقدس مآب قیادتوں کو بدنام کر نا چاہتے ہو ؟ تم ہی دشمن کا آلۂ کار بنکر ہمارے حضرت کی 'لنکا' ڈھا دینا چاہتے ہو! تم ہی غلط ہو ! تم ہی مار آستین ہو !!! گویا کیفیت یہ ہے کہ 

بس اتنا کہا تھا کہ میری آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ مجھ پہ ٹوٹ پڑا شہر سارا نابینا

گزشتہ دنوں مسلمانوں کے کچھ 'گروؤں' کا ایک "جرگہ" اچانک بشکل Cocktail  متحرک ہوا۔ یہ جمگھٹ پنگھٹ کے اندر تھا، اسی لئے کچھ کچھ پردے داری بشکل رواداری تھی۔ ایک معروف انگریزی پورٹل مسلم مرر نے اس کی رپورٹنگ تو کی مگر کان کھینچتے ہوئے۔ بس یہی طرز صحافت دیدوں کو چبھ گئی۔ ہر بات پر اور ہر اقدام پر "آمنّا و صدقنا" سننے کے عادی کانوں کو یہ باغیانہ طرز صحافت بہت ناگوار گزری۔ 

 سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی قیادت کا ذمہ اٹھایا گیا ہے تو پھر کھل کے بات کیوں نہیں کی جاتی؟ ہر بات چھپائ کیوں جاتی ہے؟ اگر کسی سے کوئی رشتہ اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لئے جوڑا ہے تو اسے خفیہ کیوں رکھا جاتا ہے ؟ اگر اپنی تنظیم اور پارٹی کا دائرہ بڑھانے کا جنون نہیں ہے تو چھپ چھپ کے سودے بازی کیوں؟ اگر حکومت سے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے تو خفیہ ملاقاتوں کا کیا مطلب ؟ اگر واقعی  مسلمانوں کے لئے کچھ کرنے کی نیت ہے تو ہر حکومت سے اور ہر پارٹی سے اوپن ڈائلاگ کیوں نہیں کرتے ؟ قوم و ملک کی بہتری اگر واقعی عزیز ہے تو سیاسی تعلقات میں اصولی رویہ کیوں نہیں اپناتے ؟   نیت اگر ٹھیک ہے اور دل میں اخلاص ہے تو پھر اپنی پالیسیاں شفاف کیوں نہیں رکھتے ؟ اگر اپنے ذاتی مفادات قوم و ملت سے واقعی کمتر ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا یقین ہے تو پھر اس معالج جیسا اعتماد کیوں نہیں رکھتے جو اپنے مریض کا دل بھی پورے اعتماد سے چیرتا ہے اور ہر وہ قدم ببانگ دہل اٹھاتا ہے جس میں اسکے مریض کی بھلائی ہوتی ہے ؟ 

مگر افسوس کہ ہمیں ایک بھی ایسا چہرہ دکھائی نہیں دیتا جسے دیکھ کر آنکھوں کو اطمینان، دل کو تسلی،  جگرکو ہمّت اور روح کو تازگی ملے!  ایسا کوئی ملتا ہی نہیں جو امّت کی ترجیحات ہی طے کر سکے۔ بلکہ جسے دیکھئے وہ گویا بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے اور سانپ کے آگے ڈفلی۔  

وقت، حالات اور ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ترجیحات طے کرنے کی  اگر صلاحیت ہو تو نہ پالتو جانوروں جیسی وفاداری کرنی پڑتی ہے نہ لومڑیوں جیسی مکاری دکھانی پڑتی ہے۔ بلکہ حق کا بے لاگ طرفدار بن کر اپنے حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے۔ نظریے اور اصول سے سخت  اختلاف کرتے ہوئے بھی گردن جھکانی نہیں پڑتی۔ 

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے 

 مگر افسوس کہ کسی ایک بھی 'میر کارواں' کی کتاب زندگی میں یہ اوپر کا مصرع نہیں ملتا۔ بلکہ حال تو یہ ہے کہ 

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہاکارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

عوامی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یہ جس کے ساتھ کھڑی ہو جاۓ گویا وہی سکندر ہے مگر افسوس کہ اپنے آپ پر بے رحم اور بد خلق 'سکندری' کو بدست خود مسلط کرنے والے عوام کی اکثریت "اکثرہم لا یعلمون" اور "اکثر ہم لا یعقلون" کی عملی تفسیر ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قیادت اور رہنمائی کا خمیر بھی عام انسانوں کی اسی  بھیڑ سے اٹھتا ہے۔ لہذا امید کی کوئی کرن اگر کہیں ہے،  تو یہیں ہے ! وہ چہرے جو اردو اخباروں کی پیشانیوں پر دیکھ دیکھ کر ہم تھک چکے ہیں،  وہ خود پرانے ، مضمحل اور پراگندہ ہو چکے۔ کاش! کوئی ان ہی اخباروں میں کسی تازہ دم اور بالکل فریش قیادت کا اشتہار ہی دے دے !!!

0 comments

Leave a Reply