عرش ڈگری کالج بستی کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا دوسرا بیسٹ کالج ایوارڈ، تعلیمی و سماجی حلقوں میں مسرت کی لہر
بستی / سدھارتھ نگر : تاریخ گواہ ہے کہ محنت، مستقل جدوجہد اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی اصول سماجی، تعلیمی، مذہبی اور سیاسی میدانوں میں کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی جہدِ مسلسل اور سماجی و تعلیمی جذبے کے تحت جناب ڈاکٹر عبدالاحد صاحب، چیئرمین عرش ڈگری کالج بستی، نے ایک شان دار تاریخ رقم کرتے ہوئے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کی جانب سے دوسرا بیسٹ کالج ایوارڈ حاصل کیا ہے۔
اس اہم کامیابی پر گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی سدھارتھ نگر کے چیئرمین جناب نوراللہ خان نے عرش ڈگری کالج کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی اتر پردیش میں عرش کالج نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ عام سماجی طبقات بالخصوص مسلمانوں، اردو سے وابستہ افراد اور فارغینِ مدارس تک اعلیٰ تعلیم کو بآسانی پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر احمد حسین، ایم ڈی (نور ہاسپٹل، سنئی چوراہا سدھارتھ نگر) نے کہا کہ عرش ڈگری کالج کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالاحد صاحب تعلیم کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ اعزاز ان کی علم دوستی اور مسلسل محنت کا ثمرہ ہے۔
اندرپرستھ یونیورسٹی، دہلی کے ڈاکٹر مامون عبدالعزیز نے اس کامیابی کو اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایک شان دار پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص فارغینِ مدارس کے لیے عرش کالج ایک سنہری موقع فراہم کر رہا ہے۔
عمر حبیب سیون اسکائی اکیڈمی، مانک چند چوراہا بستی کے ڈائریکٹر سیف الرحمان ندوی نے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ عرش کالج نے “عرش اور فرش” کا فرق مٹا کر یہاں تک کہ نسواں مدارس کی طالبات کے لیے بھی گریجویشن کی تعلیم کا نظم کیا ہے، جو نہایت قابلِ تحسین قدم ہے۔
بی ٹی ایس گروپ اور ہائی ریج سولیوشن کے ڈائریکٹر جناب عتیق خان نے کہا کہ عرش ڈگری کالج میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ کا زیرِ تعلیم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ڈاکٹر عبدالاحد صاحب نے دور اندیشی کے ساتھ علاقے کی ایک بڑی تعلیمی ضرورت کو پورا کیا ہے۔
یہ ایوارڈ سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ آن لائن ایجوکیشن، حیدرآباد کے پروفیسر جناب رضیٰ اللہ خان اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب پروفیسر عین الحسن کے ہاتھوں عرش ڈگری کالج بستی کو عطا کیا گیا۔
معروف علم دوست شخصیت ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب نے عرش کالج کی بڑھتی مقبولیت پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملت کو ایسے افراد کی شدید ضرورت ہے جو سرسید احمد خان کے “مشنِ تعلیم” کو آگے بڑھا سکیں۔ بانسی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر زاہد احسن نے کہا کہ تعلیم ایک طاقتور ذریعہ ہے جو قوموں کو مضبوط بناتا ہے اور عرش کالج اس حوالے سے ایک پاور ہاؤس کا کردار ادا کر رہا ہے۔
نوجوان کانگریس لیڈر جناب جاوید اشرف خان نے کہا کہ عرش ڈگری کالج جیسے مزید اداروں کی ضرورت ہے جو باوقار معاشرے کی تعمیر کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
عرش ڈگری کالج کی یہ کامیابی نہ صرف بستی بلکہ پورے مشرقی اتر پردیش کے لیے باعثِ فخر قرار دی جا رہی ہے۔

0 comments