ارول: مٹی کی مہک، تاریخ کی روشنی اور شاہ عمران کی درویشانہ روایت کا روشن افق
اس کی تہذیبی بنیادیں سات سو برس کی تاریخ میں پیوست ہیں
ٹی ایم ضیاء الحق
بہار کے جنوب میں سون ندی کے کنارے واقع ارول ایک ایسا خطّہ ہے جس کی مٹی میں صدیوں کی خوشبو ہے اور ہوا میں روایتوں کی لطیف سرگوشیاں۔ یہ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ تہذیب، تاریخ، روحانیت اور انسانی شرافت کا ایسا زندہ منظرنامہ ہے جس نے وقت کی بے رحم گردش کے باوجود اپنی اصل شناخت کو سنبھالے رکھا۔
اس کی تہذیبی بنیادیں سات سو برس کی تاریخ میں پیوست ہیں
اگرچہ ارول کو 2000 میں مستقل ضلع کی حیثیت ملی، مگر اس کی تہذیبی بنیادیں سات سو برس کی تاریخ میں پیوست ہیں—وہ تاریخ جسے نہ سرکاری کاغذ گن سکتے ہیں اور نہ انتظامی سرحدیں محدود کرسکتی ہیں۔ارول کا سب سے قدیم اور معتبر محلہ شاہی محلہ ہے، ایسی بستی جہاں پرانے طرزِ تعمیر، نیم روشن گلیوں اور مٹی کی مخصوص مہک میں ایک پراسرار سکون بسا ہوا ہے۔یہیں واقع ہے خانقاہِ شمسیہ وہ مقدس مقام جہاں وقت رک کر عبادت کرتا محسوس ہوتا ہے۔روایت ہے کہ حضرت مخدوم شمس الدین ارولیؒ سات صدی قبل یہاں تشریف لائے،اور ان کے قدموں کی برکت سے یہ وادی محبت، شرافت، برداشت اور خدمت کا مسکن بن گئی۔آپ کی خانقاہ سے اٹھنے والی روشنی نے نہ صرف ارول بلکہ گرد و نواح کے دل بھی منور کیے۔
سید برکات اللہ قادری امجھریؒ
بعد ازاں قادری سلسلے کی لطافت اس وقت ارول کی مٹی میں شامل ہوئی جب سید برکات اللہ قادری امجھریؒ امجھر سے یہاں منتقل ہوئے۔ان کی خاموش درویشی اور خانقاہی وقار نے اس خطے کو ایک نئی روحانی گہرائی عطا کی۔آج اُن کے فرزند عظمت ایوب قادری اسی وراثت کے امین ہیں، اور اُن کے نواسے عمر اشرف بہار کی مسلم وراثت کو نئی آواز دینے میں سرگرم ہیں۔ سید برکات اللہ قادری امجھریؒ نے خانقاہ قیام نہیں کیا اس طرح یہ محلّہ روحانی نہروں کے فیضان سے ہمیشہ سرسبز رہا۔
گھر کی ہوا میں کہانیوں کی خوشبو آج بھی بسی ہوئی محسوس ہوتی ہے
ارول صرف خانقاہی ماحول کا امین نہیں، یہ علم و ادب کی زمین بھی ہے۔ یہاں 18 مارچ 1916 کو پیدا ہونے والےعلامہ شاہ فضل امام واقف ارولیؒ اردو کے ایسے صاحبِ طرز ادیب تھے جن کی نثر میں وقارِ بیان، لطافتِ فکر اور تہذیبی شائستگی ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ان کے والد شاہ منظر امام اور دادا سید شاہ اظہر حسین بھی بلند پایہ شاعر تھے یوں ارول صدیوں سے اہلِ علم و سخن کی پرورش کرتا آیا ہے۔
اسی سرزمین نے اردو کی معروف افسانہ نگار شکیلہ اختر کو بھی جنم دیا،جن کے گھر کی ہوا میں کہانیوں کی خوشبو آج بھی بسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ارول کی تہذیبی تاریخ میں شاہ خاندان ایک نمایاں اور معتبر نام ہے۔اس خاندان کے بزرگ شاہ محمد زبیر، جو کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہ چکے تھے،1934 میں وفات پا گئے۔ان کے تین بیٹے شاہ مشتاق، شاہ آفتاب اور شاہ سلطان اپنے اپنے دَور میں سماجی وقار کے ستون رہے۔
ارول کی نرم رو روایت میں جو نام سب سے زیادہ چمکتا ہے
شاہ مشتاق کے تین بیٹوں میں سب سے چھوٹے کا نام طارق اَنور کا ہے،جو آج بھی قومی سیاست اور پارلیمانی وقار کی پہچان ہیں۔انہی کے ذریعے بھی ارول کا نام قومی منظرنامے تک پہنچا۔ارول کی نرم رو روایت میں جو نام سب سے زیادہ چمکتا ہے،وہ ہے شاہ عمران احمد کا۔وہ شاہ سلطان احمد کے فرزند ہیں،مگر حقیقت میں وہ اس بستی کی روح کے روشن چراغ ہیں۔
ان کے دل میں ایسی وسعت ہےجس میں مہمان نوازی، انکسار، محبت اور خدمت سائے کی طرح ساتھ چلتے ہیں۔
ان کے در سے کوئی مہمان بغیر کھانا کھائے نہیں جاتا،اور کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتا۔یہ سخاوت محض روایت نہیں،صوفیانہ وراثت کی وہ سانس ہے جس نے نسلوں کو نرم رکھا ہے۔
شام ہوتے ہی ان کے گھر بیٹھک آباد ہوتی ہےجہاں سیاست بھی ہوتی ہے،سماج کی باتیں بھی،ادب کی خوشبو بھی،اور خانقاہی لطافت بھی۔کبھی کبھی خاموشی بھی…جو خود ایک مکمل گفتگو بن جاتی ہے۔
اعتدال، بردباری اور تحمل ان کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گئے
شاہ عمران احمد صرف ایک فرد نہیں بلکہ ارول کی روح، اس کی تہذیبی خوشبو اور اس کی درویشانہ روایت کا چلتا پھرتا حوالہ ہیں۔انہیں دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ ارول کی عظمت نہ صرف باقی ہے بلکہ آنے والے زمانوں میں اور بھی روشن ہوگی۔شاہ عمران احمد 6 جون 1968 کو ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں خاندانی اقدار، دیانت اور سادگی وراثت میں ملتی تھی۔ چھ بہن بھائیوں پر مشتمل اس خاندان میں وہ منجھلے فرزند تھے، اسی لئے اعتدال، بردباری اور تحمل ان کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گئے۔ گھر کے ماحول نے ان کی سوچ کو گہرائی عطا کی اور بچپن ہی سے خیر خواہی، ہمدردی اور خدمت کا جذبہ ان کے مزاج میں رچ بس گیا۔
وقت کے ساتھ جب عملی زندگی کے مرحلے آئے تو ان کی شخصیت میں سنجیدگی اور وقار نے مزید پختگی اختیار کی۔ ارول ضلع کے نگلا گاؤں میں ان کی شادی حکیم لقمان مرحوم کی صاحبزادی روزی ناز سے ہوئی ایک ایسا رشتہ جو نہ صرف محبت اور احترام کی بنیاد پر قائم ہوا بلکہ دونوں خاندانوں کے اخلاقی ورثے کو بھی یکجا کر گیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹیاں عطا کیں، جو اس وقت زیرِ تعلیم ہیں۔ شاہ عمران احمد ہمیشہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ان کا یہ یقین ہے کہ علم ہی وہ چراغ ہے جو اگلی نسلوں کی راہوں کو روشن کرتا ہے۔
ایسی داستان جس کے ہر موڑ پر روحانیت بھی ہے
ارول تاریخ کا ورق نہیں،یہ جیتی جاگتی داستان ہےایسی داستان جس کے ہر موڑ پر روحانیت بھی ہے،علم بھی،محبت بھی،اور انسانیت بھی۔
یہ سرزمین اپنے ماضی کے چراغوں کو آج بھی پوری روشنی کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہے،اور اسی روشنی میں اس کا مستقبل بھی جگمگاتا ہوا نظر آتا ہے۔

0 comments