اے ایم یو کے سابق طالب علم، اموبا ریاض کے صدر ڈاکٹر انعام اللہ بیگ اعظمی سے ایشیا ٹائمز کا ایک دلچسپ پوڈکاسٹ
اشرف علی بستوی پوڈ کاسٹ
نئی دہلی (خصوصی پوڈکاسٹ رپورٹ ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ریاض کے صدر ، ڈاکٹر انعام اللہ بیگ نے اشرف علی بستوی ایڈیٹر ایشیا ٹائمز کی میزبانی میں پیش کیے گئے ایک خصوصی پوڈکاسٹ میں اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ کس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبہ اپنے مادرِ علمی اور سماج کی خدمت میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
علی گڑھ کی شاندار تعلیمی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ اے ایم یو کے سابق طلبہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہتے ہوئے بھی جذباتی طور پر یونیورسٹی سے جڑے ہوئے ہیں اور اس وابستگی کو عملی خدمات میں تبدیل کر رہے ہیں۔
طلبہ کے لیے منظم معاونت
ڈاکٹر بیگ نے بتایا کیا کہ اولڈ بوائز ریاض نے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے 100 اسکالرشپ کا ایک نیا اسکالرشپ پروگرام شروع کیا ہے، جس میں 40 فیصد کوٹہ طالبات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اعلیٰ تعلیم میں صنفی مساوات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، بصارت سے محروم طلبہ کے لیے احمدی نابینا اسکول میں الیکٹرانک بریل لیب قائم کی گئی ہے، جو جامع اور ہمہ گیر تعلیم کے تصور کو مضبوط کرتی ہے۔
سرحدوں سے ماورا جذباتی رشتہ
ڈاکٹر بیگ نے اے ایم یو کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی و ثقافتی برادری قرار دیا، جہاں مختلف ہاسٹلز، شعبہ جات اور علاقوں کے طلبہ کے درمیان مضبوط باہمی روابط قائم ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی رشتہ سابق طلبہ کے دلوں میں تاعمر قائم رہتا ہے۔
اے ایم یو سے متعلق غلط معلومات کا تدارک
سوشل میڈیا پر اے ایم یو کے حوالے سے پھیلنے والی بعض گمراہ کن خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سابق طلبہ کے جائز سوالات اور خدشات پر سنجیدگی سے توجہ دیتی ہے۔
سر سید ڈے: محض تقریب نہیں
سر سید ڈے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ یہ دن صرف سماجی ملاقات کا موقع نہیں بلکہ سابق طلبہ کے لیے اتحاد، مکالمے اور ادارے کے معاملات پر غور و فکر کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جو سر سید احمد خان کے تعلیمی وژن سے جڑا ہوا ہے۔
قوم سازی میں سابق طلبہ کا کردار
ڈاکٹر بیگ کے مطابق اے ایم یو کے سابق طلبہ کی ذمہ داری صرف یونیورسٹی تک محدود نہیں بلکہ وہ قوم سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلا ہوا اے ایم یو کا مضبوط سابق طلبہ نیٹ ورک علمی اور سماجی سطح پر ایک مؤثر قوت ہے۔
بدلتے دور میں قائم اقدار
اگرچہ انہوں نے طلبہ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں، جیسے فیشن اور سوشل میڈیا کے اثرات، کا اعتراف کیا، تاہم ڈاکٹر بیگ نے اس بات پر زور دیا کہ اے ایم یو کی بنیادی روایات سینئر اور جونیئر کے درمیان احترام، باہمی محبت اور فکری رفاقت آج بھی پوری طرح زندہ ہیں۔
ذاتی وابستگی اور یادگار لمحات
گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر بیگ نے اپنے آبائی شہر اعظم گڑھ میں تعلیمی بیداری اور غریب طلبہ کی مدد کے لیے جاری کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ معیاری تعلیم ہی سماجی اور قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ہاسٹل کے دنوں کی کچھ دلچسپ اور یادگار باتیں بھی شیئر کیں، جو اے ایم یو کی لازوال روح کی عکاس ہیں۔
یہ پوڈکاسٹ نہ صرف اے ایم یو کے سابق طلبہ کی خدمات کا آئینہ دار ہے بلکہ اس بات کی بھی مضبوط یاد دہانی ہے کہ ادارے کس طرح نسل در نسل سماج کے لیے باخبر اور باعمل قیادت تیار کرتے ہیں۔

0 comments