اردو میں تلفظ کے مسئلے پر آئی آئی سی سی میں دلچسپ مکالمہ
لیکن اس مجلس میں بھی یہ سوال حل طلب ہی رہ گیا، کہ اردو میں درست تلفظ کی نشاندہی کون لوگ کریں گے مدارس اسلامیہ کے فارغین یا خالص یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ پروفیسر صاحبان و ادیب ؟
نئی دہلی (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک )
انڈیا اسلامک کلچرل سنٹرکے زیرِ اہتمام اس ماہ کا ' آئی آئی سی ڈائیلاگ ' اردو زبان میں تلفظ کے مسئلے پر ہ بعنوان ’’یہ مسائلِ تلفظ‘‘ پر منعقد ہوا، جس میں اردو کے درست تلفظ، اس کے لسانی مزاج اور علاقائی اثرات پر سنجیدہ اور بامعنی گفتگو کی گئی۔
یہ مکالمہ ممتاز ادیب، نقاد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ انگریزی کے سابق صدر پروفیسر انیس الرحمان اور معروف سابق بی بی سی براڈ کاسٹر پرویز عالم کے درمیان ہوا۔ یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر کے بعد اردو الفاظ کے تلفظ کو لے کر غیر ضروری سخت گیری اور بحث و تکرار میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اردو کی تاریخ مختلف زبانوں کے امتزاج اور فطری ارتقا سے عبارت رہی ہے۔
انگریزی زبان بولنے والے اس معاملے میں بہت وسیع القلب واقع ہوئے ہیں، وہ اس بات پرنہیں جھگڑتے
گفتگو کے دوران اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ بعض حلقے اردو میں شامل عربی اور فارسی الفاظ کے اصل تلفظ پر اصرار کرتے ہیں، جب کہ دیگر ماہرین کے مطابق گزشتہ ڈھائی سو برسوں میں اردو نے اپنا ایک منفرد لسانی مزاج اور استعمال قائم کیا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر بی بی سی کی سابق براڈ کاسٹر اچلا کھنا ، سینئر صحافی بی بی سی کے سابق براڈ کاسٹر قربان علی، ہردل عزیزاڈکاسٹر وداستان گو دارین شاہدی، سابق وزیر اؑطم منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزرسینئر جرنلسٹ پنکج پچوری، پروفیسر خواجہ شاہد، بی بی سی کے سابق نمائندے راجیش جوشی ، معروف ادیب ڈاکٹر وپن کمار کی موجودگی اور آراء نے مذاکرے کو مزید دلچسپ اور بامقصد بنا دیا۔
شرکاء کے سوالات اور تبصروں سے یہ بات واضح ہوئی کہ اردو میں تلفظ کا مسئلہ محض لسانی نہیں بلکہ تہذیبی اور سماجی جہتیں بھی رکھتا ہے۔
تلفظ کی درست ادائیگی کے اس مکالمے میں کئی موقع پر یہ دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا کہ پروفیسر انیس الرحمن اور پرویز عالم بھی تلفظ کی درست ادائیگی میں دوران گفتگو لڑکھڑاتے نظر آئے، اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو میں تلفظ کا مسئلہ واقعی بہت نازک ہے
مذاکرے کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اردو کو ایک زندہ زبان کے طور پر قبول کرتے ہوئے اس کے فطری ارتقا اور وسعت کے امکانات کوسمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ اسے جامد اصولوں میں قید کیا جائے۔
لیکن اس مجلس میں بھی یہ سوال حل طلب ہی رہ گیا، کہ اردو میں درست تلفظ کی نشاندہی کون لوگ کریں گے مدارس اسلامیہ کے فارغین یا خالص یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ پروفیسر صاحبان و ادیب ؟
آئی آئی سی ڈائیلاگ کی شروعات گزشتہ برس اگست کے اواخر میں ہوئی تھی جب سکمان خورشید انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر منتخب ہوئے تھے ، تبھی سے اس کا سلسلہ شروع ہوا ،ابتک اس پلیٹ فارم پر کئی اہم شخصیات نے اپنی بات رکھی ہے ہے جن میں ، منی شنکر ایر ، اشوک واجپئی ، تلمیذ احمد ، یوگیندر یادو،جسٹس ایس مرلی دھر کے نام قابل ذکر ہیں ، اس مکالمے کو منعقد کرانے کی ذمہ داریہ بی بی سی ہندی کے سینئر صحافی اقبال احمد نے کی ۔ ,
مکالمے کی صدارت انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے صدر معروف سیاست داں سلمان خورشید نے کی اس موقع پر ادبی و صحافتی حلقوں سے وابستہ افراد کی خاصی تعداد موجود رہی۔

0 comments