دلی کے بزرگ دوست, سلیم شیرازی

ڈاکٹر عمیر منظر

 

 

سلیم شیرازی سے پہلی بار کب اور کہاں ملاقات ہوئی،یہ تو یادنہیں، لیکن اتنا خیال ضرور ہے کہ انھیں پہلے پہل شاید دلی کے کسی مشاعرے میں شعر پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔اس کا بھی امکان ہے کہ شہباز ندیم ضیائی اور شمس رمزی کے ساتھ انھیں بستی حضرت نظام الدین میں چائے کی چسکیوں کے ساتھ قہقہہ بردوشی کے عالم میں دیکھا ہو۔سلیم شیرازی کی شخصیت سے میری دلچسپی کا ایک سبب ان کے نام کا جز’شیرازی‘ بھی ہے، کیونکہ اعظم گڑھ ایک زمانے تک شرقی سلطنت (جون پور)کا حصہ رہا ہے، جہاں کے لوگ شیرازی لکھتے ہیں۔اس نسبت سے ان کے پڑھے لکھے ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں تھا، ان کے ذوق شعر گوئی نے اس بات کی مزید توثیق کردی کہ وہ ان پرانے بزرگوں کی یادگار ہیں، جن کی شخصیت شعرو ادب سے وابستگی کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہے۔

سلیم شیرازی سے پہلے میں نے حیات لکھنوی کو دیکھا تھا،جن کی شخصیت دلی میں لکھنوی تہذیب وشرافت کا ایک مثالی نمونہ تھی۔امروہہ میں ایک مشاعرہ بھی ان کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ان کی شرافت اور نیک نفسی نے مجھے ہمیشہ بہت متاثر کیا۔ملک زادہ منظور احمد نے دلی کے ایک مشاعرے میں ان کا تعارف کراتے ہوئے اس بات کا خاص طور سے ذکر کیا تھا کہ حیات لکھنوی نصف صدی سے دلی میں مقیم ہیں، مگر اس کے باوجود لکھنوی ان کے نام کا جزہے۔

حیات لکھنوی اپنے ہی ایک شعر کی گویا چلتی پھرتی تصویر تھے

شگفتہ لہجہ بیاں میں رچاؤ کیسا ہے
ترے مزاج میں یہ رکھ رکھاؤ کیسا ہے

سلیم مرزا،سلیم شیرازی کب ہوئے،یہ تو اہل لکھنؤ ہی بتا سکتے ہیں۔ممکن ہے، لکھنؤ میں اس نام سے انھیں جاننے والے کچھ باقیات الصالحات اب بھی موجود ہوں، لیکن دلی میں سوائے عظیم اختر کے، ان کے اصل نام سے شاید کوئی اور واقف نہیں۔ کیونکہ ’بیسویں صدی کے شعرائے دہلی‘ مرتب کرتے وقت عظیم اخترکو یہ ضرورت آن پڑی تھی کہ سلیم شیرازی کا اصل نام اور ان کا تخلص معلوم کریں۔یہ ہو سکتا ہے کہ اس کتاب کے توسط سے دلی کے کچھ پڑھے لکھے لوگ سلیم شیرازی کے اصل نام سے واقف ہوگئے ہوں۔یہ کتاب دہلی اردو اکیڈ می نے شائع کی ہے۔

سلیم شیرازی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دلی آگئے تھے، مگر ان کا دل لکھنؤ میں ہی اٹکا رہا بلکہ ابھی تک اٹکا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خواب بھی لکھنو ئکے ہی دیکھتے ہیں۔دلی آتے وقت لکھنؤ سے وہ اپنے ساتھ کیا کیا لائے تھے، اس کا حساب کتاب تو انھیں کے پاس ہوگا، البتہ ہم اتنا یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اپنی گوناگوں صلاحیتوں کے ساتھ مسرت و شادمانی کا وہ جوہر ضرور ساتھ لائے تھے جسے اہل لکھنؤ نے ’واہ‘میں تبدیل کردیا ہے۔دوسروں کی خوشیوں میں وہ اس طرح شریک ہوتے ہیں کہ اس کااثر دہ چند ہوجاتاہے۔خوشی کے اظہار کے لیے ان کے یہاں کوئی قید نہیں ہے؛ اچھے اشعار یا مصرعوں پر وہ بے ساختہ اور کھل کر داد دیتے ہیں۔اگرکسی معمولی طالب علم نے بھی کوئی اچھا شعر کہہ دیا، تب بھی سلیم شیرازی کی داد مناسب’القاب و آداب‘ کے ساتھ حاضر رہتی ہے۔ان کی شخصیت کی یہی خوبی ان سے کم کم ملاقات ہونے کے باوجود میرے دل پر اپنا نقش قائم کرتی چلی گئی۔

سلیم شیرازی شاعر اور صحافی دونوں حیثیتوں سے خاصے مشہور ہیں۔انھوں نے دلی کے مختلف اخباروں میں کام کیا، جن میں روزنامہ مستقیم،روزگار سماچار،پرتاپ،فیصل اور جدید ان دنوں شامل ہیں۔پی آئی بی،آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن میں وہ طویل عرصہ تک خبروں کا ترجمہ کرتے رہے۔ترجمہ نگاری اور مسائل روزگار کے سبب انھیں اتنا موقع نہیں مل سکا کہ وہ کسی اور طرف توجہ دیتے۔حالانکہ پی آئی بی اور آل انڈیا ریڈو سے وابستہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنھیں خبروں کے عملی ترجمے کا طویل تجربہ رہا،مگر ان میں سے بیشتر لوگوں نے اپنے تجربات کو صفحہئ قرطاس پر منتقل نہیں کیا۔سلیم شیرازی نے اردوصحافت کا وہ روشن زمانہ دیکھا،جب صحافت پیشے سے زیادہ ایک فرض کی حیثیت رکھتی تھی۔گودی میڈیا کا فقرہ تو ہمارے زمانے کی دین ہے، ورنہ اسی صحافت نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔چرچل جیسے غیرمعمولی طاقتورسیاسی رہنما بھی اخبارات کے اداریوں سے خوف کھاتے تھے۔

دلی عہد قدیم سے شعرو ادب کا ایک بڑا مرکز رہا ہے، اور آج بھی ہے۔ سلیم شیرازی جس زمانے میں دلی آئے،اس وقت اس شہر میں استاد رسا، مشیر جھنجھانوی اور گلزار دہلوی جیسے روایت پسند شعراکا بول بالا تھا۔ انھیں شعرا کے جلو میں امیر قزلباش،منچندہ بانی،مخمور سعیدی،کمار پاشی،راج نارائن راز اوربلراج حیرت جیسے جدید لب ولہجہ کے شعرا میر و غالب کی دلی میں اپنی پہچان قائم کرنے میں کوشاں تھے۔انھیں کے سامنے سلیم شیرازی نے بھی اپنی شاعری کا وہ چراغ روشن کیا جسے وہ لکھنؤ سے اپنے ساتھ لائے تھے۔اس چراغ کی لو اب بھی روشن ہے۔

2007میں دور درشن میں Vioce overکے طور پر مجھے کام کرنے کا موقع ملا،اوریہ سلسلہ میرے لکھنؤ منتقل ہونے سے پہلے یعنی مئی 2012تک قائم رہا۔اسی دوران سلیم شیرازی کے ساتھ ملاقاتوں کا دور شروع ہوا۔جس دن وہ ڈیوٹی پر ہوتے تو لطف ہی کچھ اور ہوتا۔ایک دن میں کرکٹ میچ کی ایک اسٹوری کا ترجمہ کررہا تھا،اور یہ میچ غالباً ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جارہا تھا۔ہندستان کی سلامی جوڑی نے بہت اچھی بلے بازی کی تھی۔میں نے ترجمہ کرتے وقت غالباً اس طرح جملہ بنایا کہ ہندستان کی سلامی جوڑی نے مستحکم آغاز فراہم کیا۔بلیٹین کے وقت وہاں اور لوگوں کے ساتھ سلیم شیرازی بھی موجود تھے۔مستحکم آغاز سنتے ہی وہ اچھل پڑے اور نیوز روم میں ہی بے ساختہ مجھے بہت داد دی اور خاص لکھنوی انداز میں کہا کہ جناب بلیٹین کے بعد ایک پیالی چائے میری طرف سے حاضر ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس طرح خوش ہونا اور حوصلہ افزائی کرنا کوئی سلیم شیرازی صاحب سے سیکھے۔وہاں ہم لوگوں کے لیے ایک مسئلہ ترجمہ کے ساتھ ساتھ اسے پڑھ کر ریکارڈ کرانے کا بھی ہوتا تھا۔اس صورت میں بسااوقات تلفظ کے مسائل پیدا ہوتے۔میں تو ادھر اُدھر سے نکل جاتا۔کبھی لفظ بدل دیا تو کبھی انداز و اسلوب تبدیل کر دیا، لیکن میرے بعض ساتھی ایسا نہیں کرسکتے تھے،جس کی وجہ سے کبھی کبھی تلفظ کے عبرتناک نمونے سامنے آجاتے۔شیرازی صاحب اس سلسلے میں بہت فکر مند رہتے۔ ایک بار وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آخر اس کا کیا حل نکالا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ کوئی لفظ ادا کرنے سے معذور ہے تو انداز و اسلوب یا لفظ کو بدل کر عبارت پڑھے۔یہ سن کرشیرازی صاحب نے غور سے میری طرف دیکھا اور کہا،جناب! اور پھر مجھے ساتھ لے کرچائے خانے کی طرف چل دیے۔ خیال رہے کہ ”جناب“ ان کا تکیہ کلام ہے۔

سلیم شیرازی صاحب کی ناراضگی بھی لطف دیتی تھی۔ایک بار میں نے دیکھا، کسی سے خاموشی سے کچھ کہہ رہے ہیں، پھر ان صاحب کے قریب جاکر کان میں کچھ کہہ رہے ہیں۔ایک دوروز بعد میں نے پوچھا کہ ایسی کیا بات تھی جو اس قدر راز دارانہ انداز میں آپ ان صاحب سے کہہ رہے تھے۔کہنے لگے کہ مولانا!مجھے ان کی ایک بات پر غصہ آگیا تھا لیکن ضبط کرگیا، البتہ ان کے کان میں کچھ نازیبا الفاظ ضرور کہہ دیے تاکہ غصہ آن ریکارڈ رہے۔مولانااور جناب کے الفاظ وہ اکثر استعمال کرتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ہر صاف و شستہ اردو بولنے والا ان کے یہاں ’مولانا‘ ہے۔جبکہ لفظ ’جناب‘ وہ لکھنؤ سے لائے تھے اوراب تک اس لفظ کی تہذیبی سرفرازی کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔اس لفظ سے ان کی رغبت کا عالم دیکھیے کہ ایک غزل میں انھوں نے لفظ جناب کو بطور ردیف استعمال کیا ہے۔اس غزل کے ایک شعرکو تہذیبی بحران کااستعارہ قرار دیا جاسکتاہے۔تہذیبی بحران کی بے شمار داستانیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔خواجہ حسن نظامی سے لے کر عصر حاضر تک اس بیانیہ کی مختلف جہتیں فن پاروں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
سلیم شیرازی کایہ شعر بھی , اسی تناظر میں پڑھا جانا چاہیے

سب سے چھپ چھپ کے انا بیچتے ہیں
ہم بھی کچھ کم نہیں خوددار جناب

دلی میں غفار منزل کے ایک بزرگ جناب رئیس الاسلام صاحب دودرشن نیوز میں اردو آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔فن کتابت کے عدم رواج کے بعد جب کمپوٹر کا دور شروع ہوا تو انھوں نے اس کی بھی خاصی مشق بہم پہنچائی اور پھر کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔موصوف نستعلیق شخصیت کے مالک تھے، اس لیے ہم لوگ ان سے بہت زیادہ گھلے ملے نہیں تھے، مگر سلیم صاحب کو جب بھی ان سے گفتگو کرتے دیکھا تو یہی لگا کہ ان حضرت کو بھی سلیم صاحب نے خاصا بگاڑرکھا ہے۔وہاں ایک اور شخص شمس الحسن عابدی صاحب تھے جو دور درشن میں نیوز ترجمہ کرتے تھے،عالم وفاضل ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں کروفر بھی تھا۔ قلم عمدہ رکھتے اور ترجمہ کرتے وقت جملے کی نشست وغیرہ کا بہت خیال کرتے تھے۔ گفتگو بھی اس طرح کرتے تھے کہ ایک ایک حرف کا مخرج واضح ہوجائے۔عربی و فارسی اور مذہبی امور سے واقفیت انھیں اس قدر تھی کہ اس نوع کی بیشتر گفتگو اکثر مناظر ے کا رنگ اختیار کرلیتی۔
اگرہم کبھی ان سے کسی لفظ کے معنی معلوم کرتے تو تفصیل کے ساتھ بتاتے اور اگرلفظ عر بی ہے تو اس کے مزید صیغوں پر بھی بات شروع کردیتے۔ سلیم صاحب سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی، مگر وہ یہ بھی کہتے کہ دوست تواچھا ہے، بس درمیان سے داڑھی ہٹ جائے۔ موصوف کی داڑھی سے سلیم صاحب کی مراد غالباً ان کی طول طویل مذہبی انداز گفتگوکی تھی۔ان بزرگوں کے درمیان رہتے ہوئے سلیم صاحب ہنسی مذاق اور بے تکلف گفتگو کے ذریعے اپنی عمر کی طرف لوگوں کا دھیان نہیں جانے دیتے تھے، اگرچہ سلیم صاحب بھی کم بزرگ نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بزرگی کواپنے قریب نہیں آنے دیتے۔

دوردرشن میں نیوز اینکر (نیوز پڑھنے والے /والیاں)میک اپ کا اہتمام کرتے تھے جس سے بعض چہرے کھل جاتے تھے۔
کبھی کبھی صبح کی ڈیوٹی میں اپنے قریب اچانک کسی خوب صورت اور دیدہ زیب چہرے کو دیکھنا ایک خوش گوار تجربہ ہوتا تھا۔سلیم صاحب کو دور درشن کے بیشتر لوگ جانتے ہیں۔وہ بعض کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیتے تو کسی کو آداب تسلیمات بجا لاتے۔ایسے ایڈیٹر جو نصف گھنٹے کے بلٹین کے لیے پینتالیس منٹ کی خبریں ترجمہ کرالیتے تو بلیٹین کے بعد وہ انھیں کے سامنے یہ ضرور کہتے کہ کاش وقت ہوتا تاکہ یہ خبریں بھی ہمارے ناظرین دیکھ لیتے۔ ہندی اور انگریزی میں بھی ممکن ہے، اس طرح کی دادوتحسین اور حوصلہ افزائی کا چلن ہو، لیکن سلیم شیرازی کے تحسینی الفاظ اور ان کی بے ساختہ ادائیگی کوئی کہاں سے لاسکتا ہے۔سلیم صاحب خبر پڑھنے کے انداز کی جی کھول کر تعریف کرتے تو سامنے والا نہ صرف خوش ہوتا بلکہ کبھی کبھی تو مجسم حیرت بن جاتا۔ نیوز اینکروں کے درمیان ان کی مقبولیت کا یہی راز تھا۔
کم لوگ تھے جو اس بات سے واقف تھے کہ چلتے پھرتے سلام کرنا،دعائیں دینا اور مولی مولی کا ورد کرتے رہناتو سلیم شیرازی کے مزاج میں شامل ہے۔اچھی صورت پر بڑے بڑے پگھل جاتے ہیں۔ اس میں سلیم شیرازی کی کیا قید ہے۔چند برسوں میں ہی ہمیں ان سے جتنی دعائیں ملی ہیں،بعض لوگ صدیوں میں یہ سعادت حاصل نہیں کرسکتے۔سلیم شیرازی کی خوشی کا اظہار دیدنی ہوتا۔دعاؤں کے ساتھ ساتھ دعوت و مدارات کی پیش کش بھی شامل رہتی۔ کبھی کبھی وہ پرانی دلی کے بعض لذیذ ذائقوں کی پیش کش بھی کردیتے۔پرانے لکھنؤ سے پرانی دلی تک نصف صدی کاان کا سفر صرف ارمانوں اور آرزوؤں کی داستان نہیں بلکہ تہذیب و معاشرت کے نہ جانے کتنے رنگ ہیں جو ان سینوں میں محفوظ ہیں۔تہذیب و معاشرت کی وہ داستانیں سنائی بھی کسے جائیں۔ٹک ٹاک کلچر کے اس دور میں شائستگی اور وضع داری کی وہ زندہ روایتیں جسے اہل لکھنؤ نے جان سے زیادہ عزیز رکھاہے،ممکن ہے نئے اذہان اسے ماضی کی ایک فرسودہ روایت کہہ کر گذر جائیں۔ اس لیے ہم بھی اس داستان کو یہاں ناتمام ہی رکھتے ہیں۔

سلیم شیرازی شاعر اور صحافی دونوں حیثیت سے معروف ہیں۔میں نے ان کے ساتھ مشاعرے بھی پڑھے اور دودرشن میں کام بھی کیا۔دلی کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے سلیم شیرازی خاصے مشہور ہیں۔ان کا ترنم قدیم اساتذہ ئ فن کی یاد دلاتا ہے۔شروع میں تو ان سے دہلی اردو اکیڈمی کی طرف سے ہر برس ہونے والے ”نئے پرانے چراغ“میں ملاقات ہوتی تھی پھر رفتہ رفتہ دیگر مشاعروں میں۔ان کے ساتھ نئی دہلی کے تغلق آبادعلاقے میں ایک یادگار مشاعرہ میں شریک ہونے کا موقع ملا۔مشاعروں میں وہ بہت جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور خوب داد بھی دیتے ہیں۔سنہ تو اچھی طرح یاد نہیں، لیکن یہ دلی کے میرے ابتدائی مشاعروں میں سے کوئی مشاعرہ تھا۔مشاعرے کا اہتمام برادرمکر م طارق فیضی نے کیا تھا۔اس میں بحیثیت شاعر پیغام آفاقی بھی مدعو تھے جو اس وقت ڈی سی پی کے عہدے پر فائز تھے۔اس کے علاوہ شعرا میں سلیم شیرازی،محترمہ شیریں سحر،ماجد دیوبندی اور راقم الحروف وغیرہ کے نام شامل تھے۔نظامت کا فریضہ معین شاداب نے انجام دیا۔مشاعرے کے لیے مسجد کے سامنے اسٹیج بنایا گیا تو مسجد کمیٹی کے اعتراض پر جگہ تبدیل کی گئی۔ پھر مند رسے قریب جگہ ملی،وہاں سے اسٹیج ہٹا کر نالے سے متصل بنایا گیا،جس پر انتظامیہ نے اعتراض کردیا۔مشاعرے کا وقت ہوگیا۔اسی وقت مشاعرہ میں مدعو شیریں سحر صاحبہ تشریف لائیں۔ان دنوں وہ پی آئی بی میں کام کررہی تھیں اور اثرو رسوخ رکھتی تھیں۔ آتے ہی وہ انتظامیہ سے بری طرح الجھ گئیں اور کہا کہ اس مشاعرے میں ڈی سی پی بھی مدعو ہیں،تمہاری اوقات نہیں ہے کہ اس کو روک لو۔شیریں کی تلخی دیکھ کر انتظامیہ کے لوگ نرم پڑے۔اتنے میں پیغام آفاقی کے آنے کا اشارہ ملا توپولس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سلیم شیرازی اور راقم الحروف چونکہ وقت سے پہلے پہنچ گئے تھے، اس لیے یہ سارا تماشا دیکھتے رہے اور لطف لیتے رہے۔سلیم شیرازی کے ساتھ یہ ایک یادگار مشاعرہ تھا جس کو اب بھی ہم لوگ یاد کرتے ہیں۔شیریں سحر صاحبہ اور پیغام آفاقی مرحوم کی تو اب یادیں ہی رہ گئی ہیں۔

ابو الفضل انکلیو میں سلیم شیرازی نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جگہ مناسب نہ ہونے کی وجہ سے مجھے تردد تھا۔ میرا ارادہ مشاعرے میں شرکت کا نہیں تھا مگر صاف انکار کی ہمت بھی نہیں تھی، اس لیے کسی قرینے کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ایسے آڑے وقت میں دوردرشن کی ڈیوٹی کا بہانہ دیگر لوگوں سے تو کرلیا کرتا تھا مگر یہاں یہ بہانہ بھی کام نہیں آسکتا تھا، کیونکہ ڈیوٹی چارٹ تو سلیم شیرازی کے پاس بھی ہوتا تھا۔اسی دوران ایک روز جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سلیم صاحب ملے۔میں نے دریافت کیا،”خیریت تو ہے، یہاں کہاں؟“ کہنے لگے، پروفیسر صاحب کو مدعو کیا ہے،وہ مشاعرے کا افتتاح کریں گے۔پروفیسر اخترالواسع صاحب کی ہاں کے بعد اب میرے پاس مشاعرے میں شریک ہونے کے سواکوئی راستہ نہیں بچا تھا۔مشاعرہ کے اہتمام و انتظام کے لیے سلیم شرازی کی تگ و دو دیدنی تھی۔ مشاعرے کی رات انھوں نے غالباً پرانی دلی کے باورچی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس طرح انھوں نے کسی شاعر کو بھوکا نہیں جانے دیا۔ان کی دوڑ دھوپ دیکھ کر مجھے بے ساختہ استادرسا پر خلیق انجم کا وہ خاکہ یاد آگیاجس میں دکھایا گیا ہے کہ استادرسااردو پارک کے ایک مشاعرے کے لیے کس طرح پورے سال سرگرم رہتے تھے،اور شب مشاعرہ تو ان کی چلت پھرت اپنی مثال آپ تھی۔کچھ یہی حال سلیم شیرازی کا بھی تھا۔

سیلم پور میں دلی اردو اکیڈمی ہر برس ایک مشاعرے کا اہتمام کرتی ہے۔پروفیسر اخترالواسع صاحب کے زمانے میں سلیم شیرازی کو بھی اس مشاعرے میں یاد کیا گیا۔مشاعرہ جب ختم ہوا تو رات آدھی سے زیادہ گذر چکی تھی۔مشاعرے سے واپسی کی داستان چند روز بعد خود سلیم شیرازی نے مجھے سنائی۔انھوں نے بتایاکہ ہم تو آٹو سے مشاعرہ گاہ تک پہنچے تھے۔ مشاعرہ جب دیر رات میں ختم ہوا تو واپسی کی کوئی سبیل نظر نہیں آئی۔ اسی دوران اکیڈمی کے وائس چیرمین نے بچے کھچے شعرا کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا نظم کیا۔اور اس طرح مشاعرہ کے بعد اکیڈمی نے ہی ہمیں اپنی گاڑی سے گھر تک پہنچادیا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں بہت شرمندگی ہوئی کیونکہ اکیڈمی نے اعزازیہ کے ساتھ آمد و رفت کا کرایہ بھی دیا تھا۔سلیم شیرازی کے یہاں شرمندگی کا اظہار بہت ہے۔شروع شروع میں تو اس لفظ پر میں زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا مگر بعد میں غور کیا تو احساس ہوا کہ یہ لفظ نہیں بلکہ اہل لکھنؤ کا ایک تہذیبی استعارہ ہے۔کیونکہ تہذیب توشرمندگی سے پہلے وقفہئ شرمندگی بھی سکھاتی ہے۔غالباًیہ دلی میں رہنے کا اثر ہے کہ پچاس برس میں سلیم صاحب کے یہاں سے شرمندگی سے پہلے والا وقفہ ختم ہوگیا ہے۔

پروفیسر مشیر الحسن صاحب جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر بنے تو اس وقت ارجن سنگھ وزیر تعلیم تھے۔جامعہ پر ان کی مہربانیوں میں کچھ مزید عنایتیں بھی شامل ہوتی چلی گئیں،یہاں تک کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جامعہ پر عنایات کی بارش ہورہی ہے۔مشیر الحسن صاحب کے ذوق جمال کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔دیار شوق نہ صرف مرغزار میں تبدیل ہوگیابلکہ شوق کی بے ربطیوں کا ربط قابل دید تھا۔ جامعہ میں دیوانے اور فرزانے خیمہ زن ہونے لگے۔جامعہ کے دروبام صرف آراستہ ہی نہیں ہوئے بلکہ جگہ جگہ اکابرین کے ناموں کی تختیوں اور بورڈوں نے تاریخی شعور کو جلا بخشی۔انھیں ناموں میں مجیب باغ کے صدردروازے پر ’شاہراہ ارجن سنگھ‘ کا بھی پتھر نصب کیا گیا۔پتھر کیا نصب ہوا،کچھ لوگ لغت لے کر بیٹھ گئے۔سلیم شیرازی صاحب بھی ایک روز اس شاہراہ پر بیٹھے مل گئے۔میں نے کہاکہ محترم اس شاہراہ کا ایک عقبی راستہ باب العلم کی طرف جاتاہے،جس کی خبر صرف جامعہ کے لوگوں کو ہے۔پھرایک دن میں نے انھیں بتایا کہ مجیب باغ کے انھیں مکانوں میں ایک شاعرپروفیسر احمد محفوظ صاحب بھی رہتے ہیں۔الہٰ آباد سے تعلق ہے اور جے این یوسے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ہماری جھولی میں جو کچھ ہے، اس میں ان کی عطابھی شامل ہے۔ وہ سنگم کو کبھی نہیں بھولتے اور غالباً اسی وجہ سے ان کے یہاں منقبت کا ایک ایسا شعر ہوگیا کہ اس التزام کی مثال شاید کم ملے اور آپ کے
لکھنؤ میں تو انیس و دبیر کے بعد نہیں ملے گی، حالانکہ اس ذکر کا مقصود موازنہ نہیں ہے۔

سلیم صاحب کی بیتابی جب بہت بڑھ گئی تو میں نے وہ شعر انھیں سنایا

محفوظؔ کون ہے جو یہاں حرف سر کرے
اجلاس آگہی میں صدارت علی کی ہے

اس کے بعد شاہراہ ارجن سنگھ کی طرف وہ کبھی نہیں گئے، حالانکہ با ب العلم سے ان کا ربط وتعلق کوئی ایک دودن کا قصہ نہیں ہے کہ بیان کیا جاسکے۔سلیم شیرازی صاحب غریب الوطن ہیں۔غربت راس بھی آگئی ہے مگر وطن یعنی لکھنؤ آتے جاتے رہتے ہیں۔لیکن آنا جانا بھی کیا۔شام غریباں کی مجلسوں میں شریک ہوئے عرصہ ہوچکا ہے۔امام باڑہ غفراں مآب میں حاضری کم ہوگئی ہے۔درگاہ شاہ نجف کا نام محض حافظے کا حصہ ہے۔عمر کی اس منزل پر یہی چیزیں زیادہ یاد آتی ہیں کیونکہ بچپن کی بیشتر چیزیں قصہئ پارینہ بن چکی ہوتی ہیں۔ان کے ساتھ کے لوگ بھی نہیں رہے اور جو کچھ بچا ہے تو یہی وہ آثار ہیں جن سے ہم زندہ ہیں کیونکہ اس میں ہماری صدیوں کی تہذیب زندہ و تابند ہ ہے۔
نوٹ : مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں  

0 comments

Leave a Reply