تین سال کے تعطل کے بعد این سی پی یو ایل کی گرانٹ اِن ایڈ اسکیمیں دوبارہ شروع — اردو کی ترقی کے لیے ایک نئی امید
ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال سے ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اشرف علی بستوی کی خاص بات چیت
رپورٹ: اشرف علی بستوی
نئی دہلی، ایشیا ٹائمز بیورو : نئی دہلی کے قلب میں واقع 'اردو بھون' — جسے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) کا صدر دفتر کہا جاتا ہے , ایک بار پھر اردو سے محبت رکھنے والوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے تعطل کا شکار گرانٹ اِن ایڈ اسکیمیں اب دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔ پہلی مئی 2025 سے ان اسکیموں کی بحالی کا اعلان کیا گیا، جس نے اردو ادب، تحقیق اور اشاعت سے وابستہ حلقوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔
تعطل اور نئی شروعات
یہ تعطل سابق ڈائریکٹر کے دور میں شروع ہوا تھا، جب ادارے میں نہ نائب صدر تھا اور نہ ہی ایگزیکٹیو کمیٹی۔ نتیجتاً، اسکیموں پر عمل درآمد کا سارا نظام ٹھپ ہو گیا تھا۔ مارچ 2024 میں جب ڈاکٹر شمس اقبال نے NCPUL کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا، تب سے ان سے مسلسل یہ سوال کیا جاتا رہا کہ گرانٹ کی اسکیمیں کب بحال ہوں گی۔ ڈاکٹر اقبال ہر بار یہی یقین دہانی کراتے رہے کہ کوشش جاری ہے۔ اور آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب یکم مئی کو باقاعدہ اعلان ہوا۔
بحال کی گئی اسکیمیں کون سی ہیں؟
مسودات (اردو، عربی اور فارسی) کی اشاعت کے لیے مالی امداد
پروجیکٹ کے لیے مالی تعاون کی اسکیم
کتب ، رسائل اور جرائد کی تھوک خریداری اسکیم
سیمینار، کانفرنس اور ورکشاپ کے لیے مالی تعاون کی اسکیم
یہ تمام اسکیمیں تین سال سے بند تھیں، اور اب ان کا پہیہ دوبارہ چل پڑا ہے
ڈاکٹر شمس اقبال سے ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اشرف علی بستوی کی خاص بات چیت
این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس کامیابی کے پیچھے حکومت ہند، بالخصوص وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی سرپرستی شامل رہی ہے۔
انہوں نے کہا
"میں اسے کوئی بڑا کام نہیں کہتا، یہ ایک پرانی اسکیم ہے جسے ہم نے دوبارہ فعال کیا ہے۔ تاہم، اس بحالی کے لیے ہمیں وزارت کی مکمل حمایت حاصل رہی، اور میں اس کے لیے شکر گزار ہوں۔"
اردو کے مفاد میں معیار کا خیال ضروری
ڈاکٹر اقبال نے واضح کیا کہ گرانٹ کی اسکیموں میں صرف معیاری مواد کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے اردو کے ادباء مصنفین اور ریسرچ اسکالرس سے اپیل کی کہ "کوالٹی پروپوزل" ارسال کریں۔
انہوں نے کہا
"میں نے کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اگر ہمیں اردو کا مستقبل روشن بنانا ہے تو ہمیں نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔"
نیشنل بک ٹرسٹ سے یونیورسٹی تک کی سرگرمیاں
نیشنل بک ٹرسٹ سے وابستگی رکھنے والے ڈاکٹر اقبال نے گزشتہ ایک برس میں مطالعے کے کلچر کو فروغ دینے کی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا
"کتاب ایک رشتہ ہے ۔ مصنف، کتاب اور قاری کے درمیان۔ اگر ہمیں ترقی پسند معاشرہ بنانا ہے تو کتاب کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔"
حکومت کی سرپرستی اور سماج کی ذمہ داری
ڈاکٹر اقبال نے یہ بھی اجاگر کیا کہ حکومت نے ہمیشہ NCPUL کا ساتھ دیا ہے، مگر اب اردو سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے سے فائدہ اٹھائیں اور مثبت رویہ اپنائیں۔
انہوں نے صاف کہا
"اگر ہماری طرف سے ہی کمی ہو، معیاری کام نہ بھیجا جائے، تو حکومت کیا کر سکتی ہے؟ ہمیں مل کر اس ادارے کو مضبوط بنانا ہے۔"
نئی راہ
بلاشبہ گرانٹ اِن ایڈ اسکیم کی واپسی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ اردو کے لیے ایک نئی راہ کی دوبارہ شروعات ہے۔ جو مصنفین، محققین اور ناشرین مایوس ہو چکے تھے، ان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عملی شکل دیں۔
ڈاکٹر اقبال کی باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر کوششیں خلوص نیت سے ہوں تو نتائج ضرور آتے ہیں۔ اب باری اردو برادری کی کہ وہ اس اقدام کو کیسے آگے بڑھاتی ہے ۔
نیچے دیے گئے لنک پر مکمل ویڈیو انٹرویو دیکھیں

0 comments