اصولوں کی پابندی نے نصرت علی کو ملی قیادت میں ایک منفرد مقام عطا کیا / نوید حامد
خبر عام ہوتے ہی پر ملی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ، تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع
نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے سینئر رہنما جماعت اسلامی ہند ایجوکشن بورڈ کے چیئر مین نصرت علی کرونا سے لڑتے ہوئے آج دوپہر بعد انتقال کر گئے۔ مرحوم گزشتہ پندرہ دن سے دہلی میں ابوالفضل انکلیو واقع کرونا الشفا ہاسپٹل میں زیر علاج تھے ۔
ان کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی پر ملی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ، تعزیتی پیغامات کا سلسلسہ شروع ہو گیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ " آپکی رحلت ملت اسلامیہ ہند کیلئے ایک ایسا نقصان ہے جس کو آنے والے دور میں شدت سے محسوس کیا جاتا رہیگا۔
آپکی سادہ لوحی، شائستگی، انکساری، اسلامی و سماجی علوم کا وسیع مطالعہ، ملت کیلئے تڑپ، سیاسی و سماجی سوجھ بوجھ، مکالمہ کا ہنر، اصولوں کی پابندی نے آپکی ذات کو ملی قیادت میں ایک منفرد مقام عطا کیا تھا" ۔
بیس برسوں سے زیادہ اپنے قریبی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشاہدہ کی روشنی میں احقر نے نصرت علی جیسا سادہ لوح ملی قائد نہیں دیکھا۔ نصرت علی صاحب کا رخصت ہونا نہ صرف جماعت اسلامی کے لیئے ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ مسلمانان ہند، مسلم مجلس مشاورت اور ذاتی طور پر میرے لئے ایک ایسا نقصان ہے جسکی تلافی مشکل لگتی ہے۔ اللہ مرحوم کی بال بال مغفرت فرماۓ اور انکو اپنے جوار رحمت میں بلند و مخصوص مقام عطا فرما تے ہوۓ صالحین میں شامل فرماۓ۔ آمین

0 comments