توہین رسالت کواظہار رائے کی آزادی کا نام؟؟

آزادی کے نام پردل آزاری مہذب سماج کی نہیں بل کہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے

توہین رسالت کواظہار رائے کی آزادی کا نام؟؟ 

آزادی کے نام پردل آزاری مہذب سماج کی نہیں بل کہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے

فرانس میں حضرت محمد ﷺ کا کارٹون دکھانے والے ٹیچر کا سرقلم کرنا،سرقلم کرنے والے کا پولس کے ذریعے  شہید ہوجانا،فرانس کے صدر کا ٹیچر کے جنازے میں شرکت کرنا نیزاسلام اور مسلمانوں کے خلاف بد زبانی کرنا،جس کے نتیجے میں ترکی سے سفارتی تعلقات ختم ہوجانا وغیرہ ان دنوں عالمی میڈیا کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمان تشدد پسند ہیں،مذہبی جنونی ہیں،وہ اشتعال میں آجاتے ہیں۔اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اظہار رائے اور ضمیر کی آزادی نہیں دیتا۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے علم بردار فرانس کے صدرمیکرن کو ترکی کے صدر نے صرف اتنا مشورہ دے دیا کہ کسی دماغ کے ڈاکٹر سے اپنا علاج کرالیں تو انھیں برا لگ گیا اور انھوں نے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔اگر اظہار رائے کی آزادی کا یہی مطلب ہے کہ جو چاہے بکواس کی جائے تو پھر میکرن کو غصہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔میکرن کو سوچنا چاہئے کہ دماغی مریض یا پاگل کہہ دیے جانے پر جب انھیں اتنا برا لگ رہا ہے تو شمع رسالت کے پروانوں پر توہین رسالت پر کیا گزرتی ہوگی۔توہین رسالت کے واقعات ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں۔خود نبی پاک ﷺ کے زمانے میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے تھے۔نبی ﷺکا مذاق اڑانے والوں کا ذکر خود قرآن پاک میں بھی کیا گیا ہے۔اس وقت بھی بعض گستاخوں کو مسلمان صحابہ نے موت کی نیند سلادیا تھا۔حالانکہ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں از خود کسی کو قتل کردیں۔مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی گستاخ رسول کو سزا دینے کا اختیار صرف اس ملک کی عدالت یا بادشاہ کو ہے۔مسلم ممالک میں اس طرح کے واقعات کی سزا قتل ہے۔وہاں مجرموں کو عدالتی کارروائی سے گزارا جاتا ہے

اور سزا دی جاتی ہے۔لیکن جن ممالک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔جو ممالک اظہار رائے کی آزادی کے نام پر بے حیائی،بدتمیزی،اور دل آزاری کو روا رکھتے ہیں ان ممالک میں کوئی جذباتی مسلمان از خود گستاخ رسول کو قتل تک کر ڈالتا ہے۔حالاں کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے جواب میں وہ بھی قتل کردیا جائے گا۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے والوں نے کبھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔انھوں نے ہمیشہ اقرار جرم کیا۔انھوں نے کبھی جان کی امان  نہیں مانگی بل کہ خوشی خوشی اپنی جان دے دی۔یہ عمل اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمان اپنے رسول سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔وہ یہ محبت کسی جذبات میں آکر نہیں کرتے بل کہ ان کی یہ محبت ان کے تکمیل ایمان کے لیے ضروری ہے۔اگر کوئی مسلمان حضرت محمد ﷺ سے محبت نہیں کرتا،یا اپنی جان،مال،آل،اولاد اور ماں باپ سے زیادہ محبت نہیں کرتا تو وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔اس لیے یہ بات تو طے ہے کہ جب جب گستاخ رسول گستاخی کریں گے اور حکمرانوں کی جانب سے انصاف نہیں کیا جائے گا توگستاخ رسول اسی طرح کسی مسلمان کے ہاتھوں سزا پاتے رہیں گے۔دنیا کوئی قانون بنائے،یا کچھ بھی کہے یہ رد عمل غیر شرعی ہونے کے باوجود نہیں رکے گا۔انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی توہین برداشت نہیں کرسکتا،یہ محبت جس سطح کی ہوگی اسی سطح کا رد عمل بھی ہوگا۔کوئی اپنے ماں باپ کی محبت میں والدین کے گستاخوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔کوئی اپنے گرو کی محبت میں ایسا کرتا ہے۔یہاں تک کہ کوئی اپنے سیاسی لیڈر کے لیے جان لیتا اور دے دیتا ہے۔ہم دوسرے مذاہب کے افراد میں بھی یہ دیکھتے ہیں،عیسائی حضرت عیسیٰ کی توہین برداشت نہیں کرسکتے،عیسائی ممالک میں ان کی توہین ناقابل معافی جرم ہے۔یہودی اپنے پیغمبروں کی شان میں ایک برالفظ سننے کے روادار نہیں۔ہندوستان میں برادران وطن کسی مسلمان کے ہاتھ میں گائے دیکھ کر ہی مشتعل ہوجاتے ہیں اور جان سے ماردیتے ہیں۔جب کہ گائے تو صرف ایک جانور ہے۔ وہ جانور کی محبت میں انسان کو قتل کردیتے ہیں۔مارچ 2006ء میں مقبول فداحسین کی ایک پینٹنگ پر اعتراض کیا تھا کہ پینٹنگ میں ہندو دیوی کو برہنہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ حسین کی اسی پینٹنگ کے خلاف کئی علاقوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے اور ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں مقدمات بھی چلائے گئے۔

جس کے بعد ان کو خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی، دھرم کے نام پرملک میں آئے دن ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات،ملک کے حکمراں طبقے کی جانب سے کسی کو سبق سکھانے کی دھمکیاں کس ذنیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی جذباتی ہیں اور تشدد پر آمادہ ہیں۔ہم نے ان قوموں کو بھی انسانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے دیکھا ہے جن کے دھرم میں کیڑے مکوڑے مارنا بھی پاپ ہے۔برما کے بدھسٹوں نے روہنگیا میں جو کچھ کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔البتہ جن مذاہب میں پیغمبروں کے بت اور اسٹیچو بنائے جاتے ہیں ان کے یہاں کارٹون بھی معیوب نہیں ہیں اس لیے چارلی ہیبڈو کا یہ کہنا کہ ہم نے دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کے بھی کارٹون بنائے ہیں انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔صرف مسلمان ہی اعتراض کیوں کرتے ہیں ۔اس کا ایک جواب تو یہ ہے دیگر مذاہب میں پیغمبروں اور اوتاروں کی تصویر یں اور مورتیاں بنانا ایک پسندید ہ عمل ہے ۔ان کے پیروکار خود ان کی عجیب و غریب مورتیاں بناتے ہیں ۔لیکن اسلام میں اس طرح کا عمل نہ صرف ناپسندیدہ ہے بلکہ گناہ ہے ۔نہ خود مسلمان ایسا کرتے ہیں اور نہ دوسرے کو اس کی اجازت دیتے ہیں ۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے دیگر مذاہب میں اپنے پیغمبروں سے محبت شاید جزو ایمان نہ ہو یا ان کی محبت کا معیار وہ نہ ہو جو مسلمانوں میں ہو اس لیے دیگر مذاہب خاص طور پر عیسائی اور یہودی اپنے پیغمبروں کی توہین پر خاموش رہتے ہیں ۔البتہ ہندوستان میں برادران وطن کو ہم نے اس طرح کے واقعات ہر جارحانہ رخ اختیار کرتے دیکھا ہے۔ 

  جو لوگ فرانس جیسے واقعات میں مسلمانون کے رد عمل کی مخالفت کررہے ہیں وہی بتائیں آخر ان ممالک میں مسلمان کیا کریں جہاں کا قانون ان کے نبی اور شعائراسلام کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ توہین کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔وہاں مسلمانوں کے پاس چونکہ عدالت جانے کا متبادل موجودہی نہیں ہے تو وہاں کے مسلمان اس کے سواکچھ نہیں کرسکتے کہ یا تو وہ خاموشی سے اپنے نبی اور رسول کی گستاخی برداشت کریں،یا گستاخوں کو قتل کردیں پہلی صورت میں ان کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر ہوگی،ان کا ایمان بھی چلائے گا،دوسری شکل میں کم سے کم وہ بروز حشر اپنے رسول کی شفاعت کے مستحق تو ہوسکتے ہیں۔اس طرح کے حادثات پر مسلمانوں کی جانب سے احتجاج۔مظاہرے۔اور اشیاء کے بائکاٹ کی مہم چلائی جاتی ہے ۔اس رد عمل پر خود کو روشن خیال تصور کرنے والا معاشرہ اور وہ لوگ جو اسلام اور مسلمانوںسے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے لگتے ہیں اور اسلام کو تشدد پھیلانے والا دیں بتانے لگتے ہیں بہت سے سادہ لوح ذہن اسلام سے برگشتہ اور بد گمان ہوجاتے ہیں ۔میری رائے ہے کہ ایسے تمام حادثات کے مواقع پر احتجاج و مظاہرے اور قانونی کارہ جوئی کے ساتھ ساتھ سیرت رسول کی تبلیغ و اشاعت کی مہم بھی چلائی جانی چاہیے ۔ہر طرف سیرت کے جلسے ہوں سیرت پر مبنی لٹریچر   تقسیم کیا جائے۔سوشل میڈیا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پیش کی جائے۔اس سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ موقع کی مناسبت سے دنیا آپ کی بات سنے گی اور سعید روحیں دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں گی۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ گستاخوں کی حمایت میں کمی آئے گی ان کی کہیں سے حوصلہ افزائی نہیں ہوگی ۔تیسرا فائدہ اپنی نیکیوں میں  اضافہ کا ہے ۔آخر جس نبی کو ہم جان سے زیادہ چاہتے ہیں اس کے پیغام کو بھی دل و جان سے زیادہ چاہنا چاہیے ۔

ان کے پیغام کو پس پشت ڈال کر محبت کا اظہار کرنا آخر ہمارے کس کام آئے گا۔  مگر میں مہذب دنیا سے بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا فرانس میں حضرت محمد ﷺ کے کارٹون بنانا یا کلاس روم میں دکھانا وطن کی کوئی غیر معمولی خدمت تھی کہ فرانس کے صدر نے اس کے جنازے میں شرکت کی۔کیا کسی مہاپرش کی توہین کرنا ایسا عمل ہے جس پر ملک کو فخر کرنا چاہیے؟جب کہ انسانی حقوق کی عالمی عدالت اکتوبر 2018میں یہ فیصلہ سنا چکی ہے کہ توہین رسالت کو آزادی اظہار رائے نہیں کہا جاسکتا۔کیا یہ اسلام سے عداوت کا اظہار نہیں ہے؟کیا مسلمان کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا کام کررہے ہیں۔جس کے جواب میں مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین کی جارہی ہے یا یہ اسلام،قرآن اور حضرت محمد ﷺ کے انسانیت کے پیغام کے غالب آجانے کا خوف ہے جوان کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی قوم کی دل آزاری مہذب سماج کی علامت نہیں بل کہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے ایسے لوگوں کو واقعی اپنے دماغ کا علاج کرانا ہی چاہئے

۔کلیم الحفیظ۔دہلی

0 comments

Leave a Reply