جو بائڈن کی فتح سے زیادہ دنیا ٹرمپ کی ہار پرخوش ہے
ٹرمپ کو ان کے غرور،غصے،جھوٹ،جھنجھلاہٹ،غیر مستقل مزاجی
کلیم الحفیظ۔ دہلی
ٹرمپ کو ان کے غرور،غصے،جھوٹ،جھنجھلاہٹ،غیر مستقل مزاجی اور غیر منصفانہ پالیسی کی وجہ سے ہار کا منھ دیکھنا پڑاامریکہ میں صدارتی الیکشن کے نتائج آگئے۔ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ٹرمپ کو شکست ہوگئی۔ڈیموکریٹک پارٹی کے امید وار جوزف بائڈن کو کامیابی مل گئی۔ اس طرح جوزف بائڈن آئندہ چارسال تک امریکہ کے صدر رہیں گے۔وہ امریکہ کے چھیالیسویں صدر ہیں۔امریکہ میں صدر کا انتخاب براہ راست عوام کرتی ہے۔اس لیے وہاں کی جمہوریت میں صدر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔امریکی الیکشن پر ساری دنیا کی نظریں ہمیشہ ہی رہتی ہیں۔لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی نظریں لگی ہوئیں تھیں۔ہمارے ملک کا میڈیا اامریکی انتخابات کی کوریج جس طرح کررہا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ الیکشن امریکہ میں نہیں بل کہ بھارت میں ہورہا ہے۔گودی میڈیا ٹرمپ کے حق میں مہم بھی چلا رہا تھا۔ووٹوں کی گنتی کے
دوران بھی اسے بڑے الٹ پھیر کی امیدیں تھیں۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ صاحب ہمارے وزیر اعظم کے گہرے دوست ہیں۔یہ بھی واضح رہے کہ محترم وزیر اعظم نے خالص بھارتیہ انداز میں امریکہ میں نعرہ لگایا تھا”اب کی بار ٹرمپ سرکار“۔اب گودی میڈیا کو اس نعرے کا بھرم تو رکھنا ہی تھا۔امریکہ اور ہندوستان کے رشتے زیادہ تر اچھے ہی رہے ہیں۔خاص طور پر سویت روس کے بکھر جانے اور پاکستان کے چین کی جانب جھک جانے کے بعد یہ رشتے مضبوط اورمدھر ہوئے ہیں۔البتہ ماضی میں یہ رشتے دو ملکوں کی حد تک ہی تھے۔
ٹرمپ اورمودی جی نے ملکی رشتوں کو ذاتی رشتوں میں بدل دیا۔دونوں ملکوں کے تعلقات دوسربراہوں کے تعلقات نہ ہوکر دودوستوں کے تعلقات ہوگئے۔چونکہ دوست دوست ہوتا ہے۔وہ اچھے اور برے میں ساتھ نبھاتا ہے۔یہی ٹرمپ صاحب نے کیا۔امریکہ کے معاملات میں مودی جی کی رائے کی کیا اہمیت ہے اسے تو امریکہ کی عوام جانے البتہ امریکہ کے تبصروں کا ہندوستان پر بڑا اثر پڑتا ہے۔اس لیے کہ امریکی تبصروں کے نتیجے میں ہی دنیا کے باقی ممالک اپنی پایسی بناتے ہیں۔ٹرمپ کے دوران صدارت میں ہندوستان میں انسانی اور
مذہبی حقوق کو جس طرح پامال کیا گیااس پر زمانہ گواہ ہے۔ اس پر ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقو ق کی تنظیموں نے رپورٹیں شائع کیں۔کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر خود امریکہ کے ممبران پارلیمنٹ نے احتجاج کیا۔امریکہ کے اخبارات میں حکومت ہند کے اقدام پر تنقیدی رپورٹیں شائع ہوئیں۔لیکن ٹرمپ سرکار خاموش رہی۔دہلی کے فسادات خود امریکی صدر کے سامنے ہوئے لیکن یہ امریکہ میں ہاؤ ڈی موڈی اور ہندوستان میں نمستے ٹرمپ کا اثر تھا کہ حق دوستی میں زبان دوست خاموش رہی۔ہمارے ملک کے ذمہ داروں کو امریکی صدر سے اس قدر جذباتی محبت کا سبب فاشزم کی قدر مشترک تھی۔ ٹرمپ جب پہلا صدارتی الیکشن لڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ اگر میں صدر بنا تو امریکہ میں مسلمانوں کو نہیں آنے دوں گا۔یعنی مسلم دشمنی کا کھل کر اظہار کیا گیاتھا۔
یہی ایک وجہ کافی تھی کہ ہمارے ملک کے وہ عناصر جو مسلمانوں سے غایت درجہ نفرت کرتے ہیں وہ ٹرمپ سے محبت کریں۔ٹرمپ کا پورا دور صدارت اسلام اور مسلمان دشمن پالیسیوں پر ہی منحصر رہا،یوں تو اسرائیل کی مدد اور پشت پناہی امریکہ کی پالیسی کا حصہ ہے،لیکن ٹرمپ نے جس طرح پروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنایااس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔اگر آپ افغانستان میں طالبان سے کیے گئے مذاکرات کو الگ کردیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ٹرمپ کا کوئی قدم مسلمانوں کے حق میں رہا ہو۔اب جب کہ ٹرمپ ہار گئے ہیں تو لازماً دنیا کے امن پسندوں نے راحت کی سانسیں لی ہوں گی۔امید ہے کہ دنیا میں امن کا سورج طلوع ہوگا۔اقلیتوں پر مظالم کم ہوں گے۔یہ میرے ہی نہیں خود امریکیوں کے احساسات ہیں۔اس لیے کہ ان کے دور صدارت میں امریکیوں نے پایا کم اور کھو یا زیادہ ہے۔ٹرمپ کے غیر منطقی رویے کے سبب امریکہ کے وقار میں کمی آئی ہے۔جوزف بائڈن کے پہلے خطاب سے بھی
امید کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔امید ہے کہ وہ نسل پرستی کو ختم کریں گے اور جوڑنے کا کام کریں گے،ٹرمپ کی تصویر ایک متکبر شخص کی تھی،ان کا نعرہ تھا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ امریکہ کا غدار ہے۔وہ خود کو ناقابل شکست سمجھ رہے تھے،نتائج سے قبل ہی خود کو فاتح قرار دے دیا تھا۔
شکست ہوتے دیکھتے ہی انتخابات میں دھاندھلیوں کے الزامات لگانے لگے تھے،حتیٰ کے عدالت بھی چلے گئے۔وہ یہ بھی بھول گئے کہ جس سسٹم کو وہ بے ایمان بتا رہے ہیں وہ ان کے اسی ملک کا ہے جس کے وہ چار سال سے صدر ہیں۔حالانکہ انتخابات کے دوران انھوں نے وہ تمام اقدامات بھی کیے جو ان کے مخالف کو شکست سے دوچار کرنے والے ہوں۔مثلاًامریکی سیاہ فام لوگوں کے لیے پولنگ بوتھ دور بنائے گئے،ان کے پولنگ بوتھوں پر تاخیر سے پولنگ شروع کیا گیا تاکہ لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر ووٹر واپس ہوجائیں۔اس کے باوجود ٹرمپ ہار گئے۔اس کا مطلب ہے کہ ہار جیت کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
اگر ملک کے ووٹرس بیدار ہوجائیں،وہ اپنے حکمرانوں کی نیت اور نیتی کو سمجھ لیں تو کوئی ایسی طاقت ضرور ہے جو تمام ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود غرور کوخاک میں ملا سکتی ہے،امریکی انتخابی نتائج سے ان ممالک کے سربراہوں کو ضرور سبق لینا چاہئے جو حکومت و اقتدار کے غرور اور گھمنڈ میں اتنے مست ہوجاتے ہیں کہ ان سے اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی جاتی ہے۔ٹرمپ کی شکست میں ان کے تکبر کے ساتھ ہی ان کی بے حکمتیاں بھی شامل ہیں،کورونا کے دور میں صحافیوں کے سوالات کا جوابات پر جھنجھلانا ان کی عادت بن گئی تھی۔ایک بار تو پریس کانفرنس چھوڑ کر ہی چلے گئے تھے۔کورونا کے سبب معاشی بحران سے نپٹنے میں بھی ٹرمپ ناکام ثابت ہوئے۔کلا ئیولائڈ کی موت پر بھی ان کی ناقص حکمت عملی اوربے تکے بیانات نے
آگ میں گھی کا کام کیا تھا۔ بے جا غصہ اور بے تحاشا جھوٹ بھی ان کی ناکامی کا سبب بنا۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کو ان کے غرور،غصے،جھوٹ،جھنجھلاہٹ،غیر مستقل مزاجی اور غیر منصفانہ پالیسی کی وجہ سے ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔جوزف جو بائڈن ڈیمو کریٹ ہیں۔عمر دراز ہیں۔ایک سلجھے ہوئے سیاست داں ہیں۔لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کسی فرد کے بدلنے سے راتوں رات کوئی تبدیلی نہیں آجاتی۔خاص طور پر مسلم امت کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ امریکہ میں پالیسی ساز اداروں پر یہودیوں کے اثرات زیادہ ہیں۔
یہودی جو چاہتے ہیں فیصلہ کراتے ہیں،اسرائیل کو امریکہ کے تمام صدور کی حمایت حاصل رہی ہے اور رہے گی،جوزف جو بائڈن بھی امریکہ فرسٹ کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ بل کلنٹن اور براک اوباما بھی ڈیموکریٹ تھے۔ان کے زمانے میں بھی مسلم امت پر بمباریاں ہوئیں ہیں،کئی ملکوں میں جنگیں ہوئیں۔اسلام کو نقصان پہنچایا گیا۔اس لیے جو بائڈن کو فتح کی مبارکباد دیتے وقت ہمیں زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ امریکہ میں ٹرمپ کی اور بہار میں ان کے دوستوں کو نقصان سے امید رکھنا چاہئے کہ دنیا بھر میں فاشزم کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے

0 comments