ایک امی لقب کا یہ اعجاز ہے،آدمی کو ملی علم کی روشنی
نبی اکرم ﷺ کی بنیادی حیثیت ایک معلم کی ہے اساتذہ کو اس پہلو سے سیرت رسول کا مطالعہ کرنا چاہئے
ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی مسلم دنیا خاص طور پر ہندو پاک میں جلوس میلاد النبی ﷺ کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔اب تو مسلم امت میں عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباددینے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔نبی پاک کی محبت کے تقاضے کے طور پر جلسے،جلوس،مٹھائی کی تقسیم،مبارکباد کے پیغامات میں کوئی حرج نہیں ہے۔تمام قومیں اپنے پیغمبروں اور اوتاروں کا جنم دن مناتی ہیں۔ہمارے ملک میں رام نومی،کرشن جنم اشٹمی،ولادت مسیح،گرو نانک جینتی وغیرہ بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہیں۔ ان سب کے منانے کا مقصد مہا پرشوں اور پیغمبروں کو یاد کرنا ہے
۔اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہدوسرے لوگ بھی کم سے کم ان کے نام سے واقف ہوجاتے ہیں۔لیکن اگر ہم چاہیں تو اس موقع سے مزید فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہم نام کے ساتھ پیغام سے بھی واقف کراسکتے ہیں۔عیسائی مشنریاں یہ کام کرتی بھی ہیں۔بہر حال نبی اکرم ﷺ کی پیدائش کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔یہ انسانی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔یہ زمین پر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔نبی اکرم ﷺ کا ذکر ہمارے لیے عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔آپ کی سیرت کا مطالعہ علم میں اضافے کے ساتھ ثواب میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ہر انسان اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق آپ کی سیرت کو پڑھتا اور سنتا ہے۔نبی ﷺ کے اسوے کی دو اہم خوبیاں ہیں۔ایک تو وہ ”حسنہ“ہے،دوسرے وہ ”کاملہ“ ہے۔یہ دونوں خوبیاں آپ ﷺ کو تمام انسانوں کا مقتدا بناتی ہیں۔ہر انسان آپ کی حیات سے اپنے لیے اصول
اور رہ نمائی حاصل کرسکتا ہے۔مجھے علم اور تعلیم سے دل چسپی ہے۔اس پہلو سے جب میں نے سیرت کا مطالعہ کیا تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ ؐ کی سب سے بنیادی حیثیت یہ معلوم ہوئی کہ آپ ایک معلم ہیں۔آپ کی یہ حیثیت قرآن میں بھی بیان کی گئی ہے(’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔الجمعہ آیت ۲) اور خود آپ نے بھی اپنی اس حیثیت کو بیان فرمایا۔(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔ابن ماجہ)آپ کی اس حیثیت کے بعد مجھے اساتذہ و معلمین پر فخر ہونے لگا کہ انھوں نے وہ مشغلہ اختیار کیا جو کار نبوت سے قریب تر ہے۔اگر ہمارے اساتذہ اپنے اس مقام کا احساس کریں تو ان کا شغل عبادت بن جائے۔پھر میں نے مزید مطالعہ کیا تو اساتذہ کی رہنمائی کے زریں اصول موجود پائے۔ایک اچھے استاذ کے اندر جتنی خوبیاں ہونا چاہئیں وہ حضور اکرم ﷺ کے اندر اپنے کمال درجے کو پہنچی ہوئی تھیں۔ ایک معلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کو کبھی نہیں بھولتا۔مقصد کی لگن اس کو بے چین کیے رکھتی ہے۔وہ اپنے طلبہ کی کامیابی کا حریص ہوتا ہے۔اسے اپنے کم زور طلبہ سے ہم دردی ہوتی ہے۔اس کی نظر میں تمام طلبہ برابر ہوتے ہیں کسی قسم کا تعصب اس کو چھو کر بھی نہیں گزرتا۔ہمدردی،خیر خواہی،باہمی تعاون،صبر و تحمل،گالیوں کے جواب میں دعائیں جیسی خوبیاں ایک کامیاب معلم کی پہچان ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں یہ تمام خوبیاں کمال درجے کی موجود ہیں۔
درد مندی کی یہ کیفیت کہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے روشنی کے لیے آگ جلائی مگر پروانے جل جانے کے لیے اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کرجہنم سے کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ دوزخ میں گر ے پڑ تے ہو۔ (بخاری، مسلم)آپ کی اس کیفیت کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔”اچھا تو اے نبیؐ شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ٗ(الکہف )آپ کا طریقہئ تدریس بھی بے مثال تھا۔ آپ اپنے صحابہ کو جس انداز میں تعلیم دیتے تھے اس میں ہر بات کو واضح الفاظ میں سمجھاتے،ایک بات اگر ایک طریقے سے سمجھ میں نہ آتی تو بار بار سمجھاتے،عملی مشق (PRACTICAL)بھی کراتے۔مشاہدہ بھی کراتے،مثالوں سے بھی اپنی بات واضح کرتے۔وضو،غسل،نماز،روزہ اور حج اس کی بہترین مثالیں ہیں جہاں آپ نے اصولی ہدایات کے ساتھ عملی مشق بھی کرائی۔ایک مرتبہ آپ ایک درخت کے پاس سے گزرے تو دیکھا اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں،آپ نے فرمایا،وضو کرتے وقت بندہ ئ مومن کے
گناہ بھی اسی طرح جھڑتے ہیں۔ ایک بار راستے میں مرا ہوا گدھے کا بچہ دیکھا تو کان پکڑ کراٹھالیا اور صحابہ سے پوچھا اسے ایک درھم میں کون خریدتا ہے۔صحابہؓ نے کہا مرے ہوئے گدھے کو کون خریدے گا۔ آپؐ نے فرمایا تمہاری نظر میں یہ مرا ہوا گدھا جس قدر بے قیمت ہے اللہ کی نظر میں اس دنیا کی قیمت اس سے بھی کم ہے۔ آپؐ صحابہ کی کسی مجلس میں تشریف لاتے ہی تعلیم کا آغازنہیں کر دیتے بلکہ جو گفتگو چل رہی ہوتی اس میں شامل ہوجاتے یا ان کی توجہ مبذول کراتے پھر تعلیم کا سلسلہ شروع کرتے۔اصول آمادگی کو مد نظر رکھتے،لیکچر یا خطبے کا طریقہ اختیار کرتے وقت آپؐ بہت لمبے لیکچر نہیں دیا کرتے تھے۔سامعین سے سوال وجواب کیا کرتے تھے،تاکہ سامعین کی توجہ برقرار رہے بلکہ کبھی کبھی آغاز ہی سوال و جواب سے کرتے تھے۔سبق کو دلچسپ بنانے کے لیے آپؐ قصے،کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے۔ ایک رسول کی حیثیت سے آپؐ کی تعریف کرنا،آپ کا ذکر کرنا،مجلسیں قائم کرنا،آپ کی ولادت پر چراغاں کرنا،خوش ہونا،شیرینی تقسیم کرنا وغیرہ تمام اعمال جائز ہوسکتے ہیں۔لیکن آپؐ کی بعثت کا مقصدصرف ان اعمال سے حاصل نہیں ہوسکتا۔وہ مقصد تو تبھی حاصل ہوسکتا ہے جب کہ ہم آپ ﷺ کے طریقے کو اپنائیں۔میری اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بحیثیت معلم کریں۔میرا یقین ہے کہ اس مطالعہ کے بعد نہ صرف ان کے طریقہ تدریس میں حسن و جمال پیدا ہوگا بلکہ طلبہ کے رذلٹ بھی اچھے آئیں گے۔اسوہ رسول کو اپنی زندگی میں اتارنے سے دنیا اور آخرت میں اجالا ہوجائے گا۔ایک امی لقب کا یہ اعجاز ہے آدمی کو ملی علم کی روشنی
کلیم الحفیظ ۔ دہلی

0 comments