آخربہار کو دنیا میں احترام کا مقام کب ملے گا؟
بہار کے اہل علم کی ایک بڑی تعداد دہلی میں رہتی ہے،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کریں
کلیم الحفیظ ۔دہلی
بہار کے اہل علم کی ایک بڑی تعداد دہلی میں رہتی ہے،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کریں بہارکا ذکر آتے ہی جو تصویر دل و دماغ میں ابھرتی ہے وہ بڑی قابل رحم ہوتی ہے۔غربت،جہالت،بیماریاں،باڑھ،طوفان،اور نہ جانے کون کون سی مصیبتیں ہیں جو آ ئے دن بہار میں نازل ہوتی رہتی ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ بہار ہی ملک کاپسماندہ اسٹیٹ ہو،پسماندگی میں اڈیشہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔لیکن پتا نہیں کیوں ہم دہلی والوں کی نظر میں بہار ہی زیادہ پسماندہ لگتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ دہلی میں لیبر کلاس کی اکثریت بہار کے لوگوں پر مشتمل ہے۔دہلی کی بیشتر جھگیاں انھیں سے آباد ہیں۔پورا کنسٹرکشن کا کام انھیں کا مرہون منت ہے۔میں سوچتا ہوں کہ بہار میں جب ابھی اتنی غربت ہے جب کہ بہار کی نصف آبادی بہار سے باہر رہتی ہے اگر یہ نصف آبادی بھی بہار واپس چلی جائے تو کیا حال ہوگا۔لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال بہار کے مزدور طبقے کو ہوئی،جان بچانے کی خاطر وہ ملک کے مختلف حصوں خاص طورسے دہلی سے چلا تو گیا لیکن جانے کے بعد زیادہ دن ٹھہر نہیں سکا کیوں کہ وہاں تو لاک ڈاؤن سے زیادہ تکلیف دہ حالات کا سامنا تھا۔بہار کے تعلق سے میرے یہ احساسات خیر کے جذبے پر مبنی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ بہار میں صرف غریب ہی ہوں،وہاں ایک سے ایک دھنا سیٹھ بھی ہے
،وہاں کمزور ہیں تو مہا بلی اور باہو بلی بھی ہیں،وہاں جاہل ہیں تو پروفیسر اور ڈاکٹر بھی ہیں،وہاں آئی ایس اور پی سی ایس بھی ہیں،بہار کے لوگوں کی محنت کو میں سلام کرتا ہوں۔مقصد کی لگن ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے،وہ جس منزل پر پہنچنے کا ارادہ کرلیتے ہیں پہنچ کر دم لیتے ہیں،اس کے باوجود آپ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ پوری دنیامیں بہار کی تصویر مظلوم اور پسماندہ اسٹیٹ کی ہے۔پسماندگی،جہالت اور غربت کے ازالے کی ذمہ داری ہمیشہ مکھیا کی ہوتی ہے۔
جس طرح گھر کی غربت اور دکھ درد دور کرنے کی ذمہ داری گھر کے بڑے کی ہے۔اسی طرح ریاست کو قابل احترام مقام دلانے کی ذمہ داری ریاست کے مکھیا کی ہے۔نتیش کمار ایک طویل عرصے سے بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں،ہمیشہ مرکز کی حکم راں جماعت کے ساتھ رہے۔بی جے پی کا ساتھ دینے کے باوجود انھیں دوسرے طبقوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی ہے۔نتیش کمارکومودی جی کا بھکت تو میں نہیں کہتا مگر دونوں اچھے دوست ضرور ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ وعدہ کرنے کے باوجودگزشتہ پانچ سالوں میں بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے میں نتیش کمارناکام رہے۔جب کہ انھوں نے مودی جی کا دامن مہا گٹھ بندھن سے غداری کرکے تھاما تھا۔انھوں نے مرکزی حکومت سے اس کی پوری قیمت وصول کی ہوگی۔کیا یہ قیمت صرف اپنی ذات کی حد تک تھی؟اس میں ریاست کے عوام کا کوئی حصہ نہیں تھا؟اس سے قبل پندرہ سال تک لالو جی راج کرتے رہے۔یہ تو اہل بہار ہی بتائیں گے لالوجی کے زمانے میں بہار میں خزاں تھی کہ بہار،میں اتنا جانتا ہوں کہ لالوجی نے عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف پیش قدمی ضرور کی تھی۔ان کی سوشل انجینئرنگ کے بڑے بڑے سیاست داں معترف تھے۔لالوجی جب مرکز میں ریلوے منسٹر بنائے گئے تو انھوں نے ریلوے میں کرایہ کم کرنے کے
\باجود منافع کا بجٹ پیش کیا۔ان کی اکنامکس پالیسی پر بڑے بڑے معاشی ماہرین دنگ رہ گئے تھے،معاشیات کے طلبہ کے سامنے ان کے لیکچر ہوتے تھے۔مگر انھوں نے فرقہ پرستوں کا ساتھ نہیں دیا،بلکہ اڈوانی جی کا رتھ روک لیا۔اس لیے بے چارے چارہ گھوٹالا میں اندر کردیے گئے۔
پچھلی بار نتیش کمار کو جو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس میں لالو جی کا دست شفقت شامل تھا۔کسی بھی پارٹی کو پانچ سال کافی ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ریاست کو فلاحی ریاست کی جانب لے جائے۔سیاسی اختلافات ہونا کوئی بری بات نہیں ہے۔یہ اختلافات ہر ملک اور ہر جگہ ہوتے ہیں۔لیکن جب ریاست کے وزیر اعلیٰ سے لے کر،ریاست کے تمام ایم ایل اے،ایم پی،تمام گرام پنچایتوں کے پردھان،چیرمین وغیرہ سب اسی اسٹیٹ سے ہوتے ہیں تو پھر آزادی کے چوہتر سال بعد بھی ایک اسٹیٹ کی حالت اس قدر نا گفتہ بہ کیوں ہے کہ اس کا نام آتے ہی جسم پر کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ بہار کے جو لوگ دوسری اسٹیٹ میں خوش حال زندگی گزارتے ہیں وہ بہار واپس کیوں نہیں جانا چاہتے؟ کیا ہمارے سیاسی قائدین کو اپنے حلقہ ئ انتخاب کے باشندوں کی کچھ بھی فکر نہیں ہے ۔ایک گرام پردھان کئی کئی بار گرام پردھان بن جاتا ہے اس کے باجود اپنے چھوٹے سے گاؤں کی تصویر نہیں بدل سکتا۔دس دس سال تک
ایم پی اور ایم ایل اے رہ کر بھی اگر عوام کی زندگی میں خوش حالی نہیں لائی جاسکتی تو ہمیں اپنے سسٹم پر از سر نو غور کرنا چاہئے۔کیا نتیش کمار کی یہ دلیل قابل قبول ہوسکتی ہے کہ ساحل سمندر پر واقع اسٹیٹ ہی ترقی کرسکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اتراکھنڈ،ہریانہ،اور پنجاب کی ترقی کے لیے کیا دلیل پیش کریں گے۔سچ تو یہ ہے کہ نتیش کمار نے مودی جی کاگن گان کرنے اور لالو جی کو ٹھکانے لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔بہار کی قابل رحم حالت کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہمارے لیڈر اور نیتا خود غرضی اورمفاد پرستی کے آخری مقام پر پہنچ گئے ہیں۔انھیں اپنے علاوہ کچھ سجھائی نہیں نہیں دیتا۔اس ضمن میں مسلم لیڈر شپ بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔مسلم لیڈر شپ کو اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی خدمت کرکے روشن مثال پیش کرنا چاہئے تھی۔آخر بہار کے لوگوں کو بھی عزت اور احترام کا اسی طرح حق ہے جس طرح ملک کے دوسرے باشندوں کو۔ان کی بھی دلی خواہش ہے کہ وہ اپنی فیملی اور خاندان کے ساتھ اپنے وطن میں رہیں۔کبھی فرصت ملے تو ذرا دہلی اور ممبئی کی جھگیوں میں جاکر ان کا طرز زندگی ملاحظہ کیجیے،اگر آپ ایک دردمند دل کے مالک ہیں تو اپنے آنسو روک نہیں پائیں گے۔کتنے ہی والدین کے جگر گوشے خود کو گروی رکھ کر اپنے ماں باپ کا پیٹ پالتے ہیں۔میری رائے ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ باشندگان بہار اپنی سوجھ بوجھ سے کام لیں اور ایسے لوگوں کو ہر گز ووٹ نہ کریں جو جیتنے کے بعد ریاست کا سودا کرکے اپنی جیبیں بھرتے ہوں۔اس الیکشن میں ان تمام لوگوں کو سبق ملنا چاہئے جنھوں نے اپنے ووٹروں سے غداری کی ہو۔بہار کے اہل علم کی ایک بڑی تعداد دہلی میں رہتی ہے،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کریں۔موجودہ فسطائی سیاست کے خدو خال سے واقف کرائیں۔یوں تو بہار میں ہوا نتیش کے خلاف ہے۔مگر اس ہوا کو طوفان بنانے کی ضرورت ہے۔

0 comments