ملت کے آفتاب نے روشن کیا جہاں

اڈیشہ کے شعیب آفتاب نے NEETکے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے جہالت کے اندھیروں کو چیلینج کردیا ہے

ہمارے ملک میں چند امتحانات ایسے ہوتے ہیں جن کے نتائج پر ملک بھر کی نظریں جمی ہوتی ہیں۔جن طلبہ اور طالبات نے وہ امتحانات دیے ہوتے ہیں،رزلٹ کے انتظار میں ان کی سانسیں رکنا تو ظاہر ہے عین فطرت کا تقاضا ہے،ان کے والدین بھی آسمان کی جانب بار بارہاتھ اٹھا کر بہتر نتائج کی دعا اور پرارتھنا کرتے ہی ہیں،لیکن ملک کا باشعور طبقہ بھی ان نتائج کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے۔ان امتحانات میں ایک یو پی ایس سی دوسرا آئی آئی ٹی کا  اور تیسرا NEET امتحان ہے ۔مہینہ بھر پہلے یوپی ایس سی کے امتحان میں مسلمان بچوں کی ذراسی کامیابی نے فرقہ پرستوں کی نیندیں اڑادی تھیں،سدرشن ٹی وی چینل نے باقاعدہ یو پی ایس سی جہاد کانام دے کر فتنہ پیدا کردیا تھااور معاملہ عدالت عالیہ تک پہنچ گیا تھا۔ابھی اس کا شور کم بھی نہیں ہوا تھا کہ راورکیلا ریاست اڈیشہ کے شعیب آفتاب نے NEETکے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے قوم کی جہالت کے اندھیروں کو چیلینج کردیا ہے۔ فرقہ پرستوں کی آنکھیں اس آفتاب کی کرنوں سے چندھیا گئی ہیں جو 16اکتوبر کی شام میں طلوع ہواتھا۔شعیب آفتاب کی کامیابی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔میں اس کامیابی پر اس کو،اس کے والدین اور سرپرستوں کو،اس کے اساتذہ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ملک کا ماحول کچھ برسوں سے ایسا ہوگیا ہے کہ ہمارے لیے آفتاب کی کامیابی کسی عید سے کم معنیٰ نہیں رکھتی۔

فرقہ پرست سیاست نے ملک میں قومی کشمکش کا جو آغاز کیا ہے اس میں آفتاب کی کامیابی سے مسلمانوں کا خوش ہونا فطری بات ہے۔فرقہ پرست عناصرنے اس ملک کے بھائی چارے کو اس طرح پامال کردیا ہے کہ ہر قوم صرف اپنے ہیروز پر فخر کرتی ہے۔حالاں کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شعیب آفتاب کی کامیابی ہو یا یوپی کی آکانکشا کی، سارا ملک ہی ان کو مبارک باد دیتا کیوں کہ دونوں ہی ہندوستان کی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور دونوں کی کامیابی کا پھل تمام باشندگان ملک کو ہی ملے گا۔شعیب آفتاب کی کامیابی نے مسلم نوجوانوں میں امید کی نئی جوت جگائی ہے۔نیٹ کے امتحانات میں پہلی بار کوئی مسلم نوجوان پہلی پوزیشن لایا ہے۔یہی نہیں ابتدائی پچیس کامیاب بچوں میں پانچ مسلمان ہیں،یعنی بیس فیصد،اس کا مطلب ہے کہ اگر محنت کی جائے  تو ہم اپنی آبادی کے تناسب سے آگے بھی جاسکتے ہیں۔ریاست اڈیشہ کے لیے بھی یہ فخر کامقام ہے۔اس لیے کہ اس سے پہلے اڈیشہ کے کسی سپوت کو یہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔اس کامیابی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مسلم نوجوان اگر جی توڑ محنت کریں اور والدین پیسہ خرچ کریں تو ملک میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کرکے قوم اور ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔یہ کامیابی مسلم بچوں کے والدین کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔اکثر بچوں کے والدین کے اعتماد کا لیول بہت کم رہتا ہے۔وہ اپنے بچوں کی محنت اور کامیابی پر شک اور تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔شعیب آفتاب کی کامیابی ان کے یقین اور اعتماد میں اضافہ کرے گی۔ اس کامیابی سے اس غلط فہمی کو دور ہونے میں بھی مدد ملے گی کہ پڑھ لکھ کر کیا ملے گا؟ملک کے متعصبانہ سسٹم نے مسلمانوں کے اندر یہ احساس پیدا کردیا تھا کہ مسلمان چاہے جتنا پڑھ لکھ جائے اسے نوکری نہیں ملے گی۔لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب سارا کام آف لائن ہوتا تھا۔جدید ٹیکنالوجی کی بعد آن لائن سسٹم میں تعصب کے امکانات ختم تو نہیں ہوئے ہیں لیکن کم ضرور ہوگئے ہیں۔

 

کیوں کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا اپنا کوئی دھرم نہیں ہے۔اس لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاملہ یو پی ایس سی کا ہو یا نیٹ کا بہتر نتائج حاصل ہورہے ہیں۔اس کامیابی سے جہالت کے داغ کو مٹانے میں بھی مدد ملے گی۔وہ اپنے لوگ جو ہر وقت مسلمانوں کی جہالت پر لعن طعن کرتے ہیں ان کی زبانوں پر اب شعیب آفتاب کانام بھی آئے گا۔وہ غیر جو مسلمانوں کی جہالت کو ملک کی پستی کا سبب بتاتے ہیں وہ بھی اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں گے۔اللہ کا شکر ہے کہ گزشتہ دس سال میں مسلمانوں میں شرح خواندگی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔نیٹ میں کامیابی ہو یا یوپی ایس سی میں،بڑی کامیابیا ں ہیں۔یہ کامیابیاں جہاں اس فرد کی ذاتی محنت،لگن اور ذہانت کانتیجہ ہوتی ہیں،ان کامیابیوں میں جہاں ان کے والدین کی ان دعاؤں کو دخل ہوتا ہے جو وہ خدا کے حضور آنسوؤں کے ساتھ کرتے ہیں،اسی کے ساتھ ان کامیابیوں میں ان اداروں اور تنظیموں کا بھی اہم رول ہے جو کوچنگ کراتے ہیں،اسکالر شپ فراہم کرتے ہیں،یا گائڈینس کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔اس کامیابی سے اداروں کے حوصلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی اطلاع کے مطابق تقریباً 350سے زیادہ بچے سرکاری سیٹیں حاصل کریں گے۔ان کے یہاں ایک غیر مسلم بچے نے نواں مقام حاصل کیا ہے۔البتہ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ٹاپ پچیس کے پانچ بچوں میں سے تین کیرالہ،ایک آندھرا اورایک اڈیشہ سے ہے۔یعنی سب جنوبی ہند سے ہیں۔شمالی ہند کے لوگوں کو اس پہلو پرغورکرنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ ملت کو کسی سے خوف کھانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالات کیسے بھی ہوں اور حکومت کسی کی بھی ہو ہمیں تعلیم کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرتے رہنا ہے۔ملت کے بچوں میں نہ دماغ کم ہے اور نہ ذہانت،بلکہ وہ ٹیلنٹ میں اپنے ہمسائیوں سے بہت آگے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیلنٹ کو پہچان کر ان کی رہنمائی کی جائے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔وہ لوگ جنھیں اللہ نے ملت کے درداور حب قومی سے نوازا ہے اور ان پر اللہ نے اپنا فضل بھی فرمایا ہے وہ آگے آئیں،اپنے آس پاس کے ذہین بچوں کی خبر گیری اور خیر خواہی کریں تو ایک نہیں ہزار آفتاب ہندوستان کے آسمان پر چمکیں گے۔انشاء اللہامید ہے کہ اور بھی چمکیں گے ماہ تاب ملت کے آفتاب نے روشن کیا جہاں 

کلیم الحفیظ ۔ دہلی

0 comments

Leave a Reply