متنازع زرعی قانون واپس لینے سے وقار کم نہیں ہوگا

یہ کالا قانون کسانوں کو اسی مہاجنی دور میں واپس لے جائے گا جہاں سے چھوٹو رام اور لال بہادر شاستری نے نکالا تھا

موجودہ حکومت کو ساتواں سال لگ گیا ہے۔یہ سات سال ملک میں غیر یقینی صورت حال میں گزرے ہیں۔ہر دن کسی انہونی کے خوف میں بسر ہوا ہے   

۔ جب جب معلوم ہوا ہے کہ ہمارے قابل وزیر اعظم قوم کو خطاب کرنے والے ہیں تو قوم کی سانسیں رک گئی ہیں اس لیے کہ ان کے نوٹ بندی کے اعلان کا خوف اور اس کے نقصان کی بھرپائی ابھی تک نہیں ہوپائی ہے۔اس وقت ملک کئی اطراف سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے،پاکستانی سرحدیں تو آزادی کے بعد سے ہی غیر محفوظ شمار ہوتی رہی ہیں لیکن گزشتہ دنوں سے چین نے بھی ہمارا چین چھین رکھا ہے۔کورونا ابھی ختم نہیں ہواہے ایسا ہر کال پر امیتابھ بچن سب سے کہتے ہیں۔ملک کی معاشی صورت حال پچھلے ستر سالوں میں سب سے زیادہ خراب ہے۔ایسے میں زراعت بل پر کسانوں کے احتجاج پر حکومت کی ضد نے

مزید حالات خراب کردیے ہیں۔مرکزی حکومت کی کامیابی اور ناکامی ملک کو درپیش ان چیلینجز سے مقابلہ کرنے کے طریقوں میں پوشیدہ ہے۔حال ہی میں مرکزی حکومت نے زراعت کے متعلق تین بل آرڈینینس کی شکل میں پاس کیے جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔ان بل کے نقصانات جگ ظاہر ہیں۔معاھداتی زراعت میں غریب اور ان پڑھ کسان کی حیثیت کمپنی کے سامنے بندھوا غلام کی ہوکر رہ جائے گی،ضروری اشیاء کا قانون سرمایہ داروں کو ذخیرہ اندوزی کرنے اور دام بڑھاکر بیچنے کی راہ ہموار کرے گا جس کا سیدھا اثر عام آدمی اور کسان پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ بھی درجنوں نقصانات ہیں جن پر گفتگو کا یہاں موقع نہیں۔حکومت کو کسی بھی آئین میں ملک اور اہل ملک کے مفاد میں ترمیم کا حق حاصل ہے مگر اسے کسی ترمیم کو کرنے سے پہلے اس کے اثرات پر سیر حاصل بحث کرنا چاہئے اسے یہ بھی جائزہ لینا چاہئے کہ جن مغربی ممالک کی نقالی یا جن عالمی ایجنسیوں کے د باؤمیں وہ کوئی قانون سازی کرنے جارہی ہے  متعلقہ ممالک میں اس کے اثرات کیسے مرتب ہوئے ہیں۔مغربی ممالک کی زراعت بڑی حد تک سبسڈی پر منحصر رہنے کے بعد بھی زوال کا شکار ہے۔یہ کالا قانون کسانوں کو اسی مہاجنی دور میں واپس لے جائے گا جہاں سے چھوٹو رام اور لال بہادر شاستری نے نکالا تھا۔میں حکومت سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے لیے آپ کوئی بل اور قانون بناتے ہیں تو اس کمیونٹی کی اکثریت اس کی مخالفت کیوں کرتی ہے۔کیوں

آپ کی ایسی تصویر بن گئی ہے کہ لوگ آپ کی نیتوں پر شک کرتے ہیں؟آپ طلاق بل لائے ہندوستانی مسلمانوں کی سو فیصد آبادی اوران کے تمام موقر اداروں نے رجیکٹ کردیا،آپ نے کشمیریوں کی بھلائی کے لیے 370ختم کی لیکن کسی کشمیری نے اسے قبول نہیں کیا،آپ سی اے اے لائے، ملک کی بڑی آبادی،ملک اوربیرون ملک کی حقوق انسانی کی تنظیموں نے مخالفت کی،اب آپ زرعی بل لائے ہیں جس کی چوطرفہ مخالفت آپ جھیل رہے ہیں،ملک کی نامور شخصیات اپنے اعزازات واپس کررہی ہیں۔ اپوزیشن تو اپوزیشن ہے اس کی مخالفت کو آپ سیاسی کہہ سکتے ہیں لیکن اکالی دل اور RLP کی مخالفت کو کیا نام دیں گے؟ملک کی ساٹھ فیصدآبادی اس بل کی مخالفت کررہی ہے؟دوسرے ملکوں میں آپ پر اگلیاں اٹھ رہی ہیں،ستر سال میں ملک کی بین الاقوامی سطح پر جو تصویر بنی تھی وہ خراب ہونے لگی ہے۔پاکستان کے علاوہ کوئی ملک اقوام متحدہ میں ہندوستان کے خلاف مشکل سے بولتا تھامگر اب کئی ممالک زبان کھولنے لگے ہیں۔  دوسری بات آپ سے یہ جاننی ہے کہ آپ کسی بل کو لانے اور اسے نافذ کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟قوم اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے،معمول کے مطابق پارلیمانی اصولوں اور ضابطوں کا خیال کیوں نہیں کرتے۔آپ کی عجلت کا حال یہ ہے کہ کورونا مہاماری کے دور میں ہی آپ متنازعہ زرعی بل لے آئے،آخر جمہوریت کا کچھ پاس و لحاظ بھی آپ کو ہے یا بس سنکھیا بل اور گودی میڈیا کے سہارے

آپ فیصلے تھوپتے رہیں گے۔طلاق،کشمیر اور این آرسی کا تعلق تو ایک کمزور اقلیت سے تھا جن سے آپ نے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اب کسانوں کے احتجاج پر آپ پھنس گئے ہیں۔بات کرنا تو آپ ان سے بھی نہیں چاہتے تھے،اگر بات کرنا ہوتی تو اسی وقت ہوجاتی جب کسانوں نے پنجاب میں ریل روکو تحریک شروع کی تھی،مگر آپ نے ریلیں بند کرنا گوارہ کیا، بات کرنا گوارہ نہیں کیا۔زرعی بل کے نقصانات کا اندازہ آپ کو بھی ہے لیکن آپ اظہار کرنا نہیں چاہتے۔کسانوں سے پے در پے بات چیت سے کسانوں کے مضبوط ارادوں کا پتابھی آپ کوچل گیا ہے۔آپ کا کھانا ٹھکراکر اور بحث میں خاموش رہ کر انھو ں نے آپ کو آپ کی حیثیت بتادی ہے،بھارت بند میں کسانوں کی عوامی حمایت سے بھی آپ بوکھلاگئے ہیں۔آپ کا دل تو کرتا ہے کہ آپ بل واپس لے لیں لیکن آپ کے سامنے انا کا سوال ہے۔دوسرے لفظوں میں آپ جھکنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی فسطائی ذہنیت جھکنے نہیں دیتی۔حالانکہ جمہوری نظام میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں متنازعہ قانون واپس لینے سے وقار کم نہیں ہوتا بلکہ عوام کے دلوں میں عزت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت ہمیشہ کی طرح کہہ رہی ہے کہ کسان اس بل کو سمجھ نہیں پارہے ہیں،مزے کی بات یہ ہے کہ این آرسی مسلمان نہیں سمجھے،جی ایس ٹی تاجر نہیں سمجھے،نوٹ بندی کو عوام نہیں سمجھے،370کو کشمیری نہیں سمجھے اور زرعی بل کو کسان نہیں سمجھے۔بس ایک اہل حکومت ہی ہیں جو سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن سمجھا نہیں پاتے۔ہم نے مانا کہ ملک کے کسانوں کی اکثریت اگرچہ کم تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کی لیڈر شپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ان میں ڈاکٹرس اور انجینئرس بھی ہیں جو اس بل کی مضرتوں سے خوب واقف ہیں۔ان کی جانب سے اس کی مخالفت کسی سیاسی رنجش،کسی سیاسی دباؤ یا مفاد میں نہیں کی جارہی ہے بل کہ وہ اس بل کے نقصانات کو اپنا اور ملک کا نقصان سمجھتے ہیں۔ملک کی بھلائی اسی میں ہے کہ یہ قوانین ختم ہوں اور کسانوں کی متفقہ لیڈر شپ نیز ملک کی عوام کو اعتماد میں لے کر سابقہ قوانین میں

ترمیم کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ مرکزی حکومت کوبغیر کسی ترددکے یہ بل واپس لینے چاہئیں،اسے کسی بھی طرح انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔یہ کسان ہیں جو اپنے خون سے سنچائی کرکے اہل ملک کی خوراک کا انتظام کرتے ہیں۔انھیں کی بدولت آپ تہرہ ممالک کو غذائی اجناس ایکسپورٹ کرتے ہیں۔اگرچہ کسانوں کا یہ آندولن پورے ملک کے کسانوں کی آواز ہے لیکن بقول آپ کے

اگریہ پنجاب کے کسانوں کا ہی احتجاج ہے تب بھی آپ کو سوچنا چاہئے کہ پنجاب بھی آپ کے جسم کا حصہ ہے اور ملک کی دھان اور گندم کی پیداوار میں اس کا حصہ چالیس فیصد ہے۔جب کسان کو اپنی پیداوارکی پوری قیمت نہیں ملے گی،جب اس کی زمینیوں پر اس کا اختیار نہیں رہے گا،جب بڑی کمپنیاں اس کو بندھوا مزدور بنالیں گی تو کسان کے لیے اپنے کھیت جلادینے کے علاوہ کیا بچے گا؟بقول علامہ اقبالؒجس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہوروزی  اس کھیت کے ہر خوشہئ گندم کو جلادو

کلیم الحفیظ۔دہلی

0 comments

Leave a Reply