ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

تربیت کے بغیر تعلیم جہالت نہیں جاہلیت ہےہر طرف تعلیم کاشورہے۔کالج،اسکول،مدرسے

 

تربیت کے بغیر تعلیم جہالت نہیں جاہلیت ہےہر طرف تعلیم کاشورہے۔کالج،اسکول،مدرسے اورپاٹھ شالائیں ہیں۔بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں۔دنیابھرمیں ہرسال لاکھوں پروفیسر،انجینئر،ڈاکٹر،وکیل،جج،استاذ،علماء،او

بیوروکریٹ پیدا ہورہے ہیں۔جہالت کے خاتمے کے لیے مہمات چلائی جارہی ہیں۔اربوں کھربوں ڈالر سالانہ خرچ کیا جارہا ہے۔کانفرنسیں

اور مذاکرے ہورہے ہیں۔اس کے نتیجے میں الحمد للہ ہر طرف پڑھے لکھوں کی فوج نظر آرہی ہے۔اس کا مطلب ہے  کہ جہالت کا اندھیرا دور ہورہا ہے۔مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔تصویر کادوسرا رخ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بے حیائی میں اضافہ ہورہا ہے۔گناہوں کو نیکیوں کی فہرست میں درج کیا جارہا ہے۔انسانیت کے قتل کے منصوبے بن رہے ہیں۔نقلی دوائیں ہی نہیں نقلی ڈاکٹرس بھی موجود ہیں۔سڑکیں اور پل اپنے افتتاح سے پہلے ہیں زمین دوزہورہے ہیں۔عدالتیں مقتول اور مظلوم کو ہی پابند سلاسل کررہی ہیں۔کرونا کے نام پر دھاندھلیوں کی نئی نئی قسمیں ہیں۔بزرگوں کے احترام،خواتین کی عزت کا تحفظ اور بچوں سے شفقت کا برتاؤ قصہئ پارینہ بن گئے

ہیں۔اخلاقی قدریں بدل گئی ہیں اور جو باقی ہیں مثلاً سچائی،امانت،وفا،وغیرہ تو ان کو مارکیٹ میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔افسوس یہ ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ میں سارے رنگ جن لوگوں نے بھرے ہیں وہ سب تعلیم یافتہ ہیں۔کیا واقعی اخلاقی پیمانے بدل گئے ہیں؟یا ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی ہے؟میرے نزدیک اس کی دو وجہیں ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کا مطمحِ نظر بدل گیا ہے۔کسی بھی عمل کی دوعوامل ہوتے ہیں۔اک انعام اور دوسرا سزا۔انعام کے لالچ میں کوئی کام کیا جاتا ہے اور سزا کا خوف کسی کام سے باز رکھتا ہے۔جب انسان کو کسی سزاکا خوف نہیں ہوتاتو پھر وہ کوئی بھی عمل کرتے وقت اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا۔اس دور کا انسان پیٹ اور نفس کا غلام ہے۔اس کی خواہشیں بے لگام ہیں۔ان کو پورا کرنے کے لیے ا س کے پاس وسائل کم ہیں۔آخرت تک صبر کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔اس لیے وہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔کوٹھی،بنگلے اورآسائشوں کی آرزو،دوستوں اور ساتھیوں کی خوش حالیاں اسے غیر اخلاقی اقدامات پر ابھارتی ہیں۔جب وہ ان کا عادی ہوجاتا ہے تو اپنے غیر اخلاقی عمل کو آزادی اور مساوات کے خوبصورت کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔عریانیت کو فطرت کہتا ہے۔کرپشن کو مجبوری کا نام دیتا ہے۔سود،رشوت،جھوٹ اور ملاوٹ کو زمانے کا چلن کہتا ہے۔جسم فروشی کو آزادی سمجھتا ہے،شراب،جوئے

اور سٹے کو لائسنس کی سند عطا کرکے قانونی جواز بخشتا ہے۔دوسری وجہ ہمارے تعلیمی نظام میں اخلاقی تربیت کا نہ ہونا ہے۔اک زمانہ تھا جب طلبا اپنے اساتذہ کے سامنے اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے،ان کے آگے نہیں چلتے تھے،وہ کھڑے ہوں تو بیٹھ نہیں سکتے تھے۔آج سب کچھ اس کے برعکس ہے۔پہلے طلبا کو پٹائی اور مارکھانے کا خوف تھا آج اساتذہ ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ہاتھ لگایا تو جیل جائیں گے۔استاذ تو چھوڑیے والدین کو بھی یہ اختیار نہیں رہا،مغرب کی نقالی میں ہم اپنی پراچین سبھیتا تک کو بھول جاتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے ماحول میں پرورش پانے والی نسل کسی اخلاق کی پابند کیسے ہوسکتی ہے۔؟مجرم کو اگر پولس کے ہاتھوں مارکھانے کا خوف ہی نہ ہوتو جرائم پر کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔؟نصاب تعلیم میں بھی ا خلاقی تعلیم (مورل ایجوکیشن)کی کوئی کتاب اورکوئی چیپٹر نہیں رہا۔نظام تعلیم میں بھی ا خلاقی تعلیم (مورل ایجوکیشن )کی کوئی جگہ نہیں رہی تو اخلاقی تعلیم کہاں سے آئے۔کہاں سے امانت داراور سچے لوگ آئیں۔جو جان دے کر بھی سچائی اور امانت پر آنچ نہ آنے دیں۔کہاں سے وہ لیڈر شپ آئے جو ذاتی مفاد کو ملک اور قوم کے مفاد پر قربان کردے۔تربیت کا ایک ادارہ گھر تھا۔جہاں والدین اور گھر کے بزرگ بچوں کی تربیت کرتے تھے۔مگر یہ سب اسی وقت ممکن تھا اور ہے جب مشترک خاندان ہوں،جب بچوں کے ساتھ بزرگ رہتے ہوں اور انھیں بچوں کی تربیت کا اختیار بھی ہو۔آج کل یہ دونوں پہلو کم زور ہیں اول تو مشترک خاندان ہی نہیں رہے۔لڑکے شادی کے بعدتنہا اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔بھائیوں،چچاؤں کی بات تو چھوڑیے بوڑھے والدین تک کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے۔ان سب کے ساتھ رہنے میں ان کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔بقول ان کے جوائنٹ فیملی سے بچوں کی تعلیم متائثر ہوتی ہے۔جو لوگ مجبوراً والدین کو ساتھ رکھتے  بھی ہیں تو حاشیہ بنا کر رکھتے ہیں۔والدین کو ان کی زندگی میں دخل دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔بعض سنگ دل افراد پوتوں کو دادادادی کے پاس جانے تک نہیں دیتے۔ٹوکنے،مارنے

اور اخلاق سکھانے کی اجازت تو اس دورمیں کوئی کسی کو دیتا ہی نہیں۔وہ بھی کیا دور تھا جب بچے محلے کے بڑوں سے ڈرتے تھے اور آج کے بچے گھر کے بڑوں کو ہی آنکھیں دکھاتے ہیں۔یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔اخلاقی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے فقدان سے انفرادی نقصان سے زیادہ اجتماعی نقصان ہے۔تربیت کا فقدان ایک دیمک ہے جو انسانیت کی عمارت کو ہی کھاجاتی ہے۔اگر ملک اور قوم کے دانشوروں نے اس پر توجہ نہ دی توسماجی اور خاندانی نظام کا جنازہ اٹھ جائے گا۔کسی ملک کا اخلاقی دیوالیہ پن اس کے معاشی دیوالیہ پن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔کیوں کہ آخرالذکر کا وجود ہی اول الذکر کا مرہون منت ہے۔اس لیے میری گزارش ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ اخلاق پر توجہ دیں،نظام تعلیم میں اخلاقی تعلیم کو شامل کیا جائے۔زندگی کے نقطہئ نظر اور مقصد کو درست کیا جائے۔آخرت کے عذاب و ثواب کے منکرین اتنا تو یقین رکھتے ہی ہیں کہ یہ زندگی عارضی ہے۔انھیں ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہی ہے۔تو پھر اس دنیا سے اندھی محبت کیسی؟کہ دوسروں کا نقصان کرکے اپنا فائدہ اور دوسروں کو دکھ دے کر اپنی خوشی حاصل کی جائے۔باپ سے زیادہ بیٹے کا علم رشتوں کی ترتیب نہیں بدل سکتا۔کسی کا تعلیم یافتہ نہ ہونا صرف جہالت ہے،لیکن کسی تعلیم یافتہ انسان کا اخلاق سے عاری ہونا جاہلیت ہے۔جو جہالت سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیمکیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی

ساتھکلیم الحفیظ ۔ دہلی

0 comments

Leave a Reply