یہ نیا سال ہمیں ہنسنے ہنسانے کو ملے
اگر گزرے ہوئے کل اور ہمارے آج میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں ہے تو پھر روشن مستقبل کی امید نہیں کی جاسکتی
لیجیے پھر کلینڈر بدل گیااور 2021آگیا۔2020جن حالات میں گزرا ہے ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نئے سال کی مبارکباد دینے کی ہمت نہیں کرے گا۔2020
کا آغاز ہی ایک تباہ کن وائرس سے ہوا تھا جس نے پوری دنیا کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔حالاں کہ اس سال کے آغاز کے موقع پر بھی لندن سے کسی نئے وائرس کی آمد کی خبریں آرہی ہیں اگر یہ خبریں کورونا کی طرح حقیقت کا لباس پہن لیں گی تو نہ جانے کتنے بدن بے لباس ہوجائیں گے۔خدا اپنا رحم فرمائے۔گزرے سال میں اتنے زخم ملے ہیں کہ نئے سال کی آمد کا سن کر اسی طرح خوف سے بدن کانپ رہا ہے جس طرح کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر ڈر جاتا ہے۔اف کس قدر قیامت خیز رہا یہ سال،سی اے اے اور این آرسی کے خوف سے اپنے وجود کا پتا ڈھونڈھتے لوگ،سخت سردی میں شاہین باغوں میں ٹھٹھرتے بوڑھے سائے،کورونا کے خوف سے گھروں میں قید زندگی،سڑک پر بے حال مزدور،سنسان سڑکیں،بے گور و کفن لاشیں،اپنوں سے بیگانے جنازے۔۔۔اف میرے خدا۔۔۔سوچنے سے ہی پسینہ آنے لگتا ہے،لاک ڈاؤن کے نام سے دل بیٹھنے لگتا ہے۔اک خوفناک منظر جسے بھولنے میں شاید زمانے لگ جائیں۔لیکن کیا کیجیے گھڑی کی سوئی چلتی رہتی ہے۔وقت آگے بڑھتا رہتا ہے۔دن رات گزرتے ہیں،مہینے بدلتے ہیں اور سال مکمل ہوجاتا ہے۔دنیا کی عمر بڑھتی ہے مگر انسان کی عمر گھٹتی جاتی ہے۔عامر عثمانی مرحوم نے اسی لیے کہا تھا:عمر جو بھی بڑھتی ہے اور گھٹتی جاتی ہےسانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہےفیض احمد فیضؔ نے اپنی نظم ’اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے‘ میں نئے سال کی آمد کے تعلق سے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی باتیں کہی ہیں۔جس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔خیر نئے سال کی آمد پر مبارک باد کے پیغامات اور دعائیں دینے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔جس میں بظاہرکوئی حرج بھی معلوم نہیں دیتا۔البتہ نئے سال کے جشن کے نام بے ہودہ پروگرام اور فضول خرچی عقل مندوں کو زیب نہیں دیتی۔آج کل نئی نسل رات رات بھر ناچ گانے کی محفل سجاتی ہے
اور شیطانی افعال سے سال کا استقبال کرتی ہے یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے۔اس کے بجائے گزرے ہوئے سال کے جائزے اور آنے والے سال کے لیے منصوبہ بندی کی نششتیں ہونا چاہئے۔یہ نششتیں گھرسے لے کر آل انڈیا انجمنوں اور فرد سے لے کر گروہوں تک میں ہونا چاہئے۔گھر کے لیڈر کو چاہئے کہ وہ اپنی فیملی ممبران کے ساتھ میٹنگ کرے اور دیکھے کہ انھوں نے ایک سال میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟معاشی میدان میں کیا کامیابی ملی ہے،تعلیمی سطح پر کیا حاصل کیا ہے؟عزیزوں اور رشتے داروں کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے رہے ہیں؟اہل محلہ اور سماج کے ساتھ کس طرح کے روابط رہے ہیں؟کتنے لوگوں کو ہماری باتوں یا ہمارے عمل سے نقصان پہنچا ہے؟کتنوں کے حقوق پامال کیے گئے ہیں؟کتنوں کو ٹنگڑی مار کر گرادیا ہے؟کتنے لوگوں کو سہارادے کر کھڑا کیا ہے؟کس کا گھر بسایا ہے؟کتنے جنازوں کو کاندھا دیا ہے اورآخرت کے اکائنٹ میں کیا جمع کیا ہے؟ولتنظر نفس ما قدمت لغد(ہر نفس کو اس بات پر نظر رکھنا چاہئے کہ اس نے آخرت کے لیے کیا بھیجا ہے۔سورہ الحشر آیت ۸۱)اس جائزے سے ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور آگے کی منصوبہ سازی کس نہج پر کرنی ہے۔اسی طرح اجتماعی اداروں،سماجی تنظیموں،مساجد کی کمیٹیوں،گرام پنچایتوں وغیرہ کو جائزے
اور احتساب اور منصوبہ بندی کی میٹنگیں کرنا چاہئے۔ہمارے ہر ادارے کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کہیں پیچھے کی طرف تو نہیں جا رہا ہے؟خاص طور وہ ادارے اور تنظیمیں جو اجتماعی چندے سے چلتی ہیں انھیں یہ ضرو دیکھنا چاہئے کہ پبلک کی گاڑھی کمائی کہیں ضائع تو نہیں ہورہی ہے؟اصلاح و تبلیغ کے اداروں کو بھی اپنے اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔سب کچھ نصیب،تقدیر اور قسمت کے حوالے نہیں کردینا چاہیے۔ملت میں یہ عام رواج بن گیا ہے کہ اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو بھی نصیب اور قسمت کی خوب صورت چادروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اپناجائزہ لینا اور احتساب کرنا بہت مشکل کام ہے۔یہ اس لیے اور بھی مشکل ہے کہ آج تک ہم دوسروں کا احتساب کرتے آئے ہیں۔اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔آج ہمارا حال پکار پکار کر اس کی گواہی دے رہا ہے۔ہماری زمین کھسک رہی ہے۔ہمارا وجود، عدم میں تبدیل ہورہا ہے۔ہماری تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں۔اگر ہم نے ہر نئے سال پر جائزے کا یہ عمل کیا ہوتا تو شاید یہ براحال نہ ہوتا۔اگر ابھی بھی اس معاملے میں کوتا ہی برتی گئی اور مبارک باد کے پیغام اور گھر آنگن سجانے تک نئے سال کا جشن منایا گیا تو مستقبل اس سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا۔اس کے برعکس اگر ہم نے احتساب اور منصوبہ بندی کا عمل شرو ع کردیا تو حالات بدلنے لگیں گے۔ان جائزوں کے لیے بڑی بڑی کانفرنسیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کسی بڑے علم اور کیلکولیٹرکی ضرورت نہیں ہے۔بس سچے من سے ایک فرد کو تنہائی میں اور ایک گھرکے جملہ افراد کو گھر کے آنگن میں
اور انجمنوں کو اپنے مشاورٹی بورڈوں اور شوریٰ میں بیٹھنا ہے۔اس جائزے کی روشنی میں اگر ہمیں اپنے سابقہ اقدامات اور پالیسیوں میں تبدیلی کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔ہمیں خود سے یا قوم سے معافی مانگنا پڑے تو مانگنا چاہیے،مناصب اور عہدوں سے دست بردار ہونا پڑے تو ہونا چاہیے،ہماری حیثیت دنیا میں ایک معالج اور ڈاکٹر کی ہے۔ ڈاکٹر کو علاج کے دوران یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ اس کے علاج سے مریض پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں،اگر وہ یہ نہیں دیکھے گا تو مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے،یا اگر وہ مریض پر اثرات کے مطابق دواؤں میں تبدیلی نہیں کرے گا تو بیماری بڑھتی جائے گی جیسا کہ ملت کے معالج کررہے ہیں،مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق ہر دن مریض موت کے قریب ہوتا جارہا ہے۔اگر ہمارے گزرے ہوئے کل اور ہمارے آج میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں ہے تو پھر روشن مستقبل کی امید نہیں کی جاسکتی۔ میں کلینڈر کی اس تبدیلی پر کہ جس کے بدلنے سے کوئی انقلاب نہیں آجاتا ہے،دعاکرتا ہوں کہ یہ سال یعنی 2021ہمارے ان زخموں کا مرہم بن جائے جو ہمیں 2020میں ملے ہیں اور جس کی تکلیف کے ازالے میں شاید کئی کلینڈر بدل جائیں۔ہمارے بچوں کے چہروں کو مسکان عطا ہوجس کو وہ ترس رہے ہیں،اسکول،کالج،مدارس اور تعلیم گاہوں کی رونقیں واپس ہوں تاکہ علم کے چراغوں کو تیل مل جائے۔کاش اس سال ان مزدوروں کے پاؤں کے چھالے بھر جائیں جو انھیں لاک ڈاؤن کی تیز دھوپ اور پولس کی مار سے پڑگئے تھے۔خدا کے معبد خانے پوری طرح کھل جائیں تاکہ بندگان خدا آداب بندگی بجالائیں۔آمین صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
کلیم الحفیظ۔ دہلی

0 comments