حکومت اور مسلم اداروں کے درمیان تعلقات پر جمی برف پگھلناچاہیے
تعلقات میں سرد مہری یا بات چیت کے دروازے بند ہوجا نا مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل پیدا کرتا ہے۔
مودی جی کی حکومت کو ساتواں سال چل رہا ہے۔کہنے کو تو انھوں نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کہی تھی بلکہ دوسری میقات میں تو ایک جملہ اور جوڑ دیا تھا یعنی سب کا وشواس۔مگر پورے دور حکومت پر نظر ڈالیے تو نہ وکاس دکھائی دیتا ہے او ر نہ وشواس۔اب نہ معلوم وہ کس کے وکاس کی اور کس کے وشواس کی بات کرتے ہیں۔مسلمانوں کے تعلق سے ان کے ذہن میں کیا غلط فہمیاں ہیں یا کیا منصوبہ ہے یہ تو وہ جانتے ہیں یا ان کا پیدا کرنے والا ہی جانتا ہے۔البتہ مسلمانوں کے تعلق سے اہل ملک کے ذہنوں میں ان کی جو تصویر بن رہی ہے وہ دکھانے کے قابل نہیں ہے۔طلاق بل کی آڑ میں وہ مسلم مہیلاؤں کے وکاس کی بات کرتے ہیں لیکن نجیب کی ماں کے آنسو نہیں پونچھتے۔ایک طرف مسلم خواتین کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف لو جہاد کے نام مسلمان بیٹیوں کو جیل بھجوادیتے ہیں۔
مسلمان ہی نہیں بھارت کا ہر انصاف پسند غیر مسلم بھی یہ کہتا ہے کہ مودی جی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کررہے ہیں۔بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حکومت مسلمانوں کی دشمن ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں حکومت کا یہی رویہ ہو جس کا اظہار اکثر حکومت کی طرف سے ہوتا رہتا ہے اور اس کے جواب میں اقلیت کے اندر بھی عدم اعتماد کی فضا قائم ہوجائے تو ملک کا کیا ہوگا،کوئی ملک اپنی پندرہ سے بیس فیصد آبادی کو نظر انداز کرکے یا انھیں اپنا دشمن بنا کر نہ خوش حال ہوسکتا ہے اور نہ حکمراں چین کی نیند سوسکتے ہیں۔نہ تو حکومت کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے ملک کی ایک بڑی آبادی کے ذہنوں کو اس طرح زہر آلود ہونے دے اور نہ ہی اس آبادی کے لیے بہتر ہے کہ حکومت کا رویہ معاندانہ ہو۔مودی جی کے رویہ،امت شاہ کے ہاؤ بھاؤ اور یوگی جی کی زبان نے مسلم اقلیت کے
اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔شہروں کے نام بدل کر مسلم ثقافت کو ختم کرنے کی کوششیں،سی اے اے اور این آر سی میں دوہرے معیار کے قوانین،مسلم تیوہاروں پر مرکزی حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے محبت کا عدم اظہار،وزیر اعظم کے جن سمبودھن سے مسلم فلاح و بہبود اور ہمدردی کے لفظوں کا فقدان،اے ایم یو اور بی ایچ یو صدی تقریبات کے موقع پر بھید بھاؤ، شاہین باغ کے احتجاجیوں پر جھوٹے مقدمات،عدالتوں کے دوغلے پن،گؤ کشی کے نام پر گوشت تاجروں کا استحصال،ماب لنچنگ کے پے درپے واقعات،طلاق کے نام پر پرسنل لاء میں مداخلت،کشمیر یوں پر مظالم،بابری مسجد کا فیصلہ،اقلیتی اداروں پر لٹکتی تلواریں،سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب،لوجہادیوں کو شمشان بھیجنے کی دھمکیاں،وغیرہ کوئی معمولی باتیں یا حادثات نہیں ہیں اور ان حادثوں پر مرکزی حکومت کا غیر عادلانہ رویہ یا معنیٰ خیزخاموشی مسلم اقلیت کو بے چین بھی کرتی ہے اور بے اعتماد بھی۔ بھارت کے سیکولر آئین کے رہتے ہوئے جمہوری طور پرمنتخب حکومت کا یہ رویہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔کوئی بھی منتخب حکومت سب کی حکومت ہوتی ہے نہ کہ صرف ان لوگوں کی جنھوں نے اسے منتخب کیا ہو۔حکومت کے مکھیا اور ملک کے چوکیدار کی ذمہ اری ہے کہ وہ اپنی رعایا میں بھید بھاؤ نہ کرے۔راجا اگر پرجا میں بھید بھاؤکرے گا توراج سنگھاسن ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔دوسری طرف یہ بھی غور کرنے کا مقام ہے کہ مرکزی حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت کرنا یا اس کو دشمنی پر محمول کرنا بھی درست نہیں ہے۔مسلم لیڈرشپ کو بھی چاہیے کہ
وہ اپنی بات منتخب حکومت کے سامنے رکھے۔وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ان سے اپنے مسائل بیان کریں اور ملی ایشوز پر گفتگو کریں۔یہ ان کا فرض ہے کہ وہ ہماری بات سنیں۔اگر وہ اپنا فرض ادا نہیں کررہے ہیں تو ہمیں اپنے حق کا استعمال تو کرنا ہی چاہئے،مسلمان ملک کے شہری ہیں انھیں صرف تماش بین بن کر نہیں رہ جانا چاہئے۔اظہار رائے کا وسیلہ زبان ہے۔زبان سے انسان اپنی بات کہتا ہے۔یہی زبان دوست کو دشمن بنادیتی ہے اور یہی زبان دشمن کو دوست بنا دیتی ہے۔بات چیت ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے میں مدد ملتی ہے۔گفتگو بند ہوجائے تو تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔اس کو انگریزی میں ڈائیلاگ اور اردو میں مکالمہ کہا جاتا ہے۔پچھلے سات سال میں شاذ و نادر ہی مسلم قیادت نے مرکزی حکومت سے ڈائیلاگ کیا ہے۔ہو سکتا ہے ڈائیلاگ کی کوشش کی گئی ہو اور کامیاب نہ ہوئی ہو لیکن کوششیں کرتے رہنے میں بھی کیا حرج ہے؟گزشتہ دنوں جمعیۃ العلماء ہندکے صدرسید ارشد مدنی صاحب نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے ملاقات کرکے بند دروازوں کو کھولا تھا جس سے امید بندھی تھی کہ بات چیت جاری رہے گی تو ملک میں بھائی چارہ اور سدبھاؤنا کی فضا قائم ہوگی لیکن وہ دروازہ بھی ایک بار کھل کر بند ہوگیاہے۔میری رائے ہے کہ آر ایس ایس چیف وغیرہ سے گفتگو کے دروازے بھی کھلے رہیں لیکن اس سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم حکومت کے دروازوں کو کھلارکھیں۔یہ ہمارا آئینی حق ہے۔تعلقات میں سرد مہری یا بات چیت کے دروازے بند ہوجا نا مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل پیدا کرتا ہے۔مسلم قیادت سے میری مراد مسلمانوں کے اجتماعی پلیٹ فارموں سے ہے مثلاً مسلم پرسنل لاء بورڈ،انڈیا اسلامک کلچر سینٹر،مسلم مجلس مشاورت،ملی کونسل وغیرہ،ان اجتماعی اداروں کا قیام ہوا ہی اس غرض کے لیے تھا کہ یہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی دینی،تہذیبی تشخص کی حفاظت کریں گے،حکومت اور ملت کے درمیان رابطے کا کام کریں گے۔آئین میں درج اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔کسی بھی فرد سے صرف اس لیے بات چیت بند کردینا کہ وہ مسلمانوں پر مظالم ڈھاچکا ہے۔یا اس کے ارادے اچھے نہیں ہیں،یا وہ ہماری توہین و تذلیل کرے گاکوئی مناسب رویہ نہیں ہے۔
اس لیے کہ کبھی کبھی صنم خانوں سے بھی پاسباں مل جایا کرتے ہیں۔ایک داعی قوم کی قیادت کو انفرادی تحفظات سے اوپر اٹھ کر مظلوم کی حمایت اور اللہ کے بندوں کے مفاد کی خاطرتمام مراحل انگیز کرتے ہوئے حکومت سے بات چیت کرنا چاہئے۔بات چیت میں ضروری نہیں کہ آپ دب کریا مرعوب ہوکر صلح کریں،ہوسکتا ہے آپ سامنے والے کو اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں اور دلوں کو پھیرنے والا دل پھیر دے تو ملت کے ساتھ ملک کے بھی دن پھر جائیں گے۔ہم نے مانا کہ وہ نہ مانیں گےبات کرنے میں کیا برائی ہے
کلیم الحفیظ۔دہلی

0 comments