مسلمانوں کو ہندوپولرازیشن کے خوف سے باہرآنا چاہئے

مسلمانوں کی سیاسی پارٹی کے الیکشن لڑنے پر سوال کھڑے کرنا ان کے آزاد سیاسی وجود سے انکار کرنا ہے

کلیم الحفیظ ۔دہلی

بہار کا الیکشن ہوگیا۔نتیجے آگئے۔ہار جیت کے بعد جائزوں کا عمل جاری ہے۔جائزہ اپنا کم دوسروں کا زیادہ لیا جارہا ہے۔ہار نے والوں کی جانب سے ای وی ایم اور ووٹ شماری کے عمل پر شکوک و شبہات اور الزامات لگائے جارہے ہیں۔موجودہ مرکزی حکومت کی سرپرستی میں جس طرح جمہوری اداروں کا گلا گھونٹا جارہا ہے،اس سے ان الزامات میں سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔کئی مقاما ت پر جیتے ہوئے امیدوار کو ہرا دیا گیا ہے۔یعنی جمہوریت داؤں پر ہے۔ ملک جس طرح فسطائیت کی جانب سفر کررہا ہے اس سے خطرہ ہے کہ جمہوریت کا انتم سنسکار ہی نہ ہوجائے۔بہار میں اویسی صاحب کی فتح کو لے کر ہر جگہ چے میگوئیاں ہورہی ہیں،ان کی جیت کسی کے دل میں خار اور کسی کے دل میں تلوار بن کر کھٹک رہی ہے۔سیکولر پارٹیاں زیادہ چراغ پا ہیں،کیوں کہ انھیں اپنا بندھوا مسلم ووٹ خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد مسلمانوں نے بے شمار نام نہاد سیکولرمسیحا ؤں پر اعتماد کیا۔مسلمانوں نے آزاد،نہرو،اندرا،راجیوگاندھی پریقین کیا۔کانگریس کے ہاتھ میں ہاتھ ایسا دیا کہ ہاتھ کٹا دیالیکن چھوڑا نہیں۔بابری مسجد انہدام کے بعد اتر پردیش میں ملائم سنگھ اور مایاوتی،بہار میں لالو پرساداورنتیش، مغربی بنگال میں جیوتی بسو،ان کے بعد ممتا،دہلی میں شیلا دکشت، ان کے بعد اروند کیجریوال یہ سب مسلمانوں کے مسیحا بن کر اٹھے

اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہے۔تمام سیکولر پارٹیاں بی جے پی کا خوف دکھا کر ٹھگتی رہیں۔مسلمان مسلم پارٹیوں کویہ کہہ کر نظر انداز کرتے رہے کہ ان کو ووٹ کرنے سے ہندو ووٹ متحد ہوجائے گا اور بی جے پی جیت جائے گی۔فرقہ پرستی اور قوم پرستی کا خوف آج تک ہمارے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔اگر اپنی قوم کے مسائل اٹھانا فرقہ پرستی ہے تو پھر دلتوں کی بات کرنے پر مایا وتی،جاٹوں کی بات کرنے پر اجیت سنگھ،یادووں کی بات کرنے پر ملائم سنگھ کو بھی فرقہ پرست کہا جانا چاہیے۔ملک بھر میں تین اور چار فیصد والی ذاتوں کی اپنی اپنی آزاد سیاسی پارٹیاں ہیں۔لیکن آسام میں ۳۳ فیصد،مغربی بنگال میں ۱۳ فیصد اور یوپی و دہلی میں تقریباًبیس فیصد آبادی والے مسلمانوں کی آزاد سیاسی پارٹی کی تشکیل پر سوال کھڑے کرنا گویا مسلمانوں کے آزاد سیاسی وجود سے انکار کرنا ہے۔لیکن یہ بات تمام سیاسی پارٹیوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا تو مسلمانوں کو ملکی آئین کے مطابق اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔بہار الیکشن میں ایم آئی ایم کے پانچ ایم ایل اے جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔امید ہے کہ یہ بہار اسمبلی میں مسلمانوں کی مضبوط آواز بن کر ابھریں گے۔ ان پانچ ممبران اسمبلی کے جیتنے پر پورے ملک میں بحث ہورہی ہے۔زیادہ تر تجزیہ کار مجلس کی

جیت کو مہا گٹھ بندھن کی ہار بتا رہے ہیں۔ایک بار وہی خوف پیدا کیا جارہا ہے جو آزادی کے بعد سے کیا جاتا رہا ہے۔حالانکہ سیمانچل کی جن سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن ہاری ہے وہاں ہار جیت کا فرق ایم آئی ایم کو ملے ووٹوں سے زیادہ ہے،پھر یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ بہار میں ایم آئی ایم کی وجہ سے بی جے پی کی جیت ہوئی ہے؟ہندو ووٹ کے پولرازیشن کے خوف نے مسلمانوں کوآج  تک کل ہندسطح کی مسلم سیاسی پارٹی کی تشکیل سے روکے رکھا۔مسلم لیگ (کیرالہ کو چھوڑ کر)ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی،ڈاکٹر مسعود اور ڈاکٹر ایوب وغیرہ اسی خوف کی باعث ناکام ہوگئے۔یہی خوف اب ایم آئی ایم کا پیچھا کررہا ہے۔اسی خوف نے مسلمانوں کو بھاگیدار کے بجائے بھکاری بنائے رکھاہے۔تمام سیکولر پارٹیاں یہی خوف  پیدا کرتی رہیں اور ووٹ حاصل کرتی رہیں ہیں۔لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا۔مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ہندو قوم پرستی عروج پکڑ تی رہی۔جب کہ جائزہ یہ بتاتا ہے کہ ملک میں جہاں کہیں بھی بی جے پی کی حکومت آئی ہے اس میں کسی مسلم پارٹی کا کوئی رول نہیں ہے بلکہ

خود سیکولر پارٹیوں کے انتشار و اختلاف نے انھیں راستا دیا ہے۔ان کی کمزور لیڈر شپ نے بی جے پی کو قوت عطا کی ہے۔اس کے بر عکس کیرالہ میں مسلم لیگ مستقل الیکشن لڑتی ہے،حکومت سازی میں بھی  شریک رہتی ہے۔لیکن وہاں بی جے پی کو کوئی کامیابی نہیں ملی،تلنگانہ میں ایم آئی ایم کی موجودگی اور سرکارمیں حصہ داری کے باوجود بی جے پی قابل ذکر مقام تک بھی نہیں پہنچ سکی،جب کے ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں نے ہمہ جہت ترقی کی ہے،تلنگانہ میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ مسلمان کو بنایا گیا صرف اس خوف سے کہ کہیں مسلم ووٹر ٹی آر ایس سے ناراض ہوکر کلی طور پر ایم آئی ایم کی جھولی میں نہ چلاجائے۔آسام میں ضرور ائے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس کو حکومت سے بے دخل کردیا لیکن اس میں کانگریس کی غلطی تھی،اس نے اے آئی یو ڈی ایف سے اپنی انا کی خاطرمفاہمت نہیں کی۔یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ کیرالہ،تلنگانہ یا آسام میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ سارے مسلمانوں نے صرف مسلم پارٹیوں کو ہی ووٹ کیا ہو،ان تینوں ریاستوں میں کانگریس،سی پی آئی،ٹی آر ایس

اور دیگرپارٹیوں کو بھی مسلمانوں نے ووٹ کیا۔اسی طرح سیمانچل کی پانچ سیٹوں کے علاوہ پورے بہار میں سارا مسلم ووٹ سیکولر پارٹیوں کو ہی ملا ہے۔جب کہ بیشتر سیٹوں پر سیکولرپارٹی کے مسلم امیدوار دوسری پارٹیوں کے غیر مسلم ووٹوں سے محروم رہ گئے،جس کی وجہ سے عبدالباری صدیقی جیسے قد آور لیڈر کو ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ سارے مسلمانوں نے بھی ایم آئی ایم کو ووٹ نہیں دیا اگر ایسا ہوتا تو ایم آئی ایم ا پنی تمام سیٹیں جیت جاتی،جب کہ وہ کشن گنج سیٹ ہار گئی جہاں ستر فیصد مسلم ووٹر ہیں۔یہی جمہوریت کا حسن ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ مسلم پارٹی کی بنا پر بی جے پی کو فائدہ ہوا یا ہوتا ہے یا ہوگا،بے بنیادبات ہے۔اچھا اگر ہم مان بھی لیں کہ ایسا ہوسکتا ہے تو کیا طوفان آجائے گا۔اس سے زیادہ اور برے حالات اور کیا ہوں گے جو،اب ہیں۔ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی ہیں،اس لیے الگ سے مسلم پارٹی کی ضرورت نہیں ہے۔میں مانتا ہوں کہ ہر پارٹی مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی ہے،لیکن ان کے ٹکٹ پر جیتنے والے مسلمان،مسلمانوں کے نہیں اپنی پارٹیوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔جو پارٹی پالیسی اور وہپ کے پابند ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو ہندوپولرازیشن کے خوف سے باہر آکر اپنے ایشوز کی روشنی میں،ملک اور اقتدار میں اپنی حصہ داری کے مقصد کے تحت ہر ریاست میں انتخابی سیاست میں آنا چاہئے۔یہ  ان کا آئینی حق ہے۔اس طرح ان کے

جو بھی نمائندے اسمبلیوں او رپارلیمنٹ میں پہنچیں گے وہ ان کے حق کی بات کریں گے۔حسب ضرورت وہ سرکار کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اقتدار پر براجمان سیکولر پارٹیاں مسلم ووٹ کو ساتھ رکھنے کے لیے مسلم ویلفیر کے کام کرنے پر مجبور ہوں گی۔تیسرا فائدہ خود مسلم نیتاؤں کو ہوگا کہ سیکولر پارٹیوں میں ان کی اہمیت اور قدر بڑھ جائے گی اور اگرمسلم سیاسی قیادت نے خیر امت ہونے کے ناطے انسانیت کی فلاح کے لیے کام کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے دیگر طبقات کی حمایت اسے حاصل نہ ہو۔


0 comments

Leave a Reply