ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

بزرگوں کے نام پر سپموزیم،سیمنار کرنے،جشن منانے ا ور ڈنر کرنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدل سکتی

ہندوستان کے مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ فسطائیت نے ان کو مغلوب کرنے اور غلام بنالینے کے سارے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ان کی تہذیب و ثقافت،ان کے پرسنل لاء،ان کے تعلیمی اداروں میں نہ صرف دخل اندازی کی جارہی ہے بلکہ ان کو بے اثر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔شہروں،ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلے جارہے ہیں،زبان کے ساتھ متعصبانہ رویہ تو آزادی کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔اب اس میں مزید شدت آگئی ہے۔گویا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان بھی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں۔انھیں اپنی تہذیب،زبان اور بزرگوں  کے کارناموں پر فخر ہے،ان میں سے کسی کو اپنے سید ہونے پر فخر ہے،کسی کو فخر ہے کہ اس کے آباء و اجداد کابل اور ایران سے آئے تھے،کوئی مغل سلطنت میں دربان ہونے پر فخر کرتا ہے۔کچھ عقیدت مند اپنے بزرگوں کا جشن بھی مناتے ہیں،کہیں عرس اور قوالیاں ہوتی ہیں،کہیں سیمنار اور سمپوزیم پر اکتفا کرلیا جاتا ہے،کہیں اخبارات و رسائل میں ضمیمے اور خصوصی نمبر شائع ہوتے ہیں اور کہیں شاندار ڈنر کا اہتمام کرکے آسودگی حاصل کرلی جاتی ہے۔لیکن بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے عقیدت مندوں کو ڈر


لگتا ہے۔انھیں بزرگوں میں ایک نام سرسید احمد خاں  کا بھی ہے۔

آج ہم سرسید کا دوسوتینواں یوم پیدائش منارہے ہیں۔17.10.1817 کو سرسید نے آنکھیں کھولیں تھیں۔اس وقت کسے معلوم تھا کہ یہ بچہ آگے چل کر تاریخ رقم کرے گا۔بقول گاندھی جی سرسید تعلیم کے پیمبر تھے۔آج بھی سرسید  کے نام پر انجمنیں ہیں۔سوسائیٹیاں ہیں،اسکول ہیں،کالج ہیں،اور بھی بہت کچھ ہوگا۔لیکن کیا ان سب میں سرسید کی روح بھی موجود ہے یا صرف نام ہی نام ہے۔؟بزرگوں سے نسبت اور تعلق رکھنا بہت بڑی خوبی ہے۔ان کا ذکر کرنا اچھی بات ہے،ان کے ایصال ثواب کے لیے نیکی کے کام کرنا بھی کار ثواب ہے۔لیکن کیا ان سب کاموں سے قوموں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں۔کیا یہ کام سرسید  کی عظیم محنت کا بدل ہوسکتے ہیں،سرسیدنے قوم کی ترقی اور عروج کے لیے جو کرب سہا تھا کیا ہمارے اندر اس کرب کی کوئی رمق موجود ہے۔انھوں نے جو پاپڑ بیلے تھے،کیا کوئی پاپڑ ہمارے حصے میں بھی آیا ہے۔ عظیم شخصیات کے کارناموں کا ذکر کرنا تبھی سود مند ہوگاجب کہ ہم ان کی وراثت کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس میں اضافہ کریں۔جس طرح وہ اولاد ناخلف ہوتی ہے جو اپنے باپ کے ترکے کو خرد برد کردے اور ضائع کردے یا بیچ کر کھاجائے۔اسی طرح وہ قومیں بھی ناخلف ہوتی ہیں جو اپنے اجداد کی وراثت اور ترکے کو برباد کردیں۔

بدقسمتی سے اس وقت ہم ہندوستانی مسلمانوں کا شمار ناخلف قوم میں ہے۔ہمارے اجداد کی تہذیب،ان کی شاندار عمارات اور حویلیاں،ان کے علمی کارنامے،سب کے سب ہمارے شاندار ماضی کا آئینہ ہیں۔ان کی حفاظت اور ان میں اضافہ کی بات کریں تو صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ مستقبل تشویش ناک ہے۔ سرسید ؒ کا تہذیب الاخلاق ہو یا سائنٹفک سوسائٹی ہم ان دونوں کوعلیٰ حالہٖ برقرار رکھنے میں بھی ناکام ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کے سلسلے میں ہم ضرور کہہ سکتے ہیں کہ سرسید کے محمڈن کالج کو یونیورسٹی تک پہچانے میں قومی قائدین نے اہم رول ادا کیا ہے۔البتہ آزادی کے بعدسے قوم پرستانہ سیاست کی تلوار اس کے اوپر ہمیشہ لٹکی رہتی ہے۔یونیورسٹی کے وہ مقاصد جو سرسیدؒ کے پیش نظر تھے انھیں بھی ہم نے فراموش کردیا ہے۔جس کی وجہ سے ہم یونیورسٹی سے بھی کما حقہٗ فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔

میں سمجھتا ہوں سرسیدؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے زمین پر کام کیا۔ زمین کھود کر درخت لگائے۔اپنے لہو سے ان کی آبیاری کی۔جن کے میٹھے پھل ہم کھارہے ہیں۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اپنے مقصد اور کام میں مخلص تھے۔وہ اس بات کے آرزو مند نہیں تھے کہ ان کے بعدان کے عقیدت مند ان کی شان میں قصیدہ خوانی کریں بلکہ ان کی خواہش یہ تھی ان کے بعد ان کے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم زمین پر کام نہیں کررہے ہیں۔بلکہ ہواؤں میں گرہیں لگا رہے ہیں۔ ہماری کوششیں نششتن،گفتن اور برخواستن سے آگے نہیں بڑھتیں۔

میری گزارش ہے کہ ہم سرسید کے خواب کو شرمندہئ تعبیر کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے سرکل بنا کر کام کا منصوبہ بنائیں۔کوئی ایک کام اپنے ہاتھ میں لیں تو بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔مثلاً ہم کسی محلے یا کسی گاؤں کو ہدف بنائیں۔تعلیم،صحت اور روزگار میں سے کسی ایک  شعبے کو منتخب کریں،اور کام کی منصوبہ بندی کریں۔اس دائرے میں جتنے لوگ مستحق ہوں ان سب کے لیے کام کریں۔کسی قسم کی تفریق نہ ہو نہ برادری کی نہ مذہب کی۔اگر ملک کی ایک ہزار بستیوں اور محلوں میں اس سطح پر کام کیا جائے تو مجھے خدا کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمارے اچھے دن واپس کردے گااورمجھے یہ بھی امید ہے کہ بروز حشر جب سرسیدؒ سے سامنا ہوگا تو کوئی شرمندگی بھی نہ ہوگی۔بقول اکبر الٰہ آبادی مرحوم

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں

کہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبرؔ

خدا بخشے بہت سی خوبیاں مرنے والے میں

کلیم الحفیظ۔ دہلی

0 comments

Leave a Reply