صدر مشاورت اور 'مشاورت' دونوں کے لیے بہتر راہ

اشرف علی بستوی نئی دہلی

اشرف علی بستوی نئی دہلی  

 ہندوستانی مسلمانوں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے الیکشن کے نتائج کا اعلان  نئے سال کے ساتھ کر دیا گیا ۔ ایڈوکیٹ فیروز انصاری صدر منتخب ہوگئے۔ ان کے علاوہ  17 اراکین عاملہ کا انتخاب بھی ووٹنگ کے ذریعہ عمل میں آیا ۔ مشاورت کے صدر کیلئے دو امیدوار عامر ادریسی اور فیروز انصاری میدان میں تھے ، فیروز انصاری نے 139 ووٹ میں سے  68 ووٹ پاکر جیت درج کی  جبکہ عامر ادریسی کو 51 ووٹ ملے ۔

   مشاورت ریڑھ کی ہڈ ی کے بغیرکب تک کھڑی رہ سکے گی ؟ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک مشاورت کی ریڑھ کی ہڈی کہی جانے والی ہندوستان کی اہم تنظیم جماعت اسلامی ہند نے رخصت پذیرصدر کے کچھ فیصلوں سےعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتخاب سے خود کو الگ کر لیا تھا ۔ منتخب  17 عاملہ کے اراکین میں مشاورت کے سابق صدر نوید حامد  ۔ کنور دانش علی ، شمائل نبی ۔ پروفیسر ظل الرحمن ، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول ، ڈاکٹر فیاض قاسمی ، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ، سید ثناءاللہ ۔ ڈاکٹر کوثر عثمان ، ڈاکٹر شیس تیمی ، انوارالہدی ، پروفیسر وسیم احمد ، منصور آغا، نثار احمد کے نام شامل ہیں ۔ دوخاتون کا بھی انتخاب عمل میں آیا ہے ۔نصرت شیروانی اور عابدہ انعامدار۔

May be an image of 4 people

مشاورت کے نو منتخب صدر ایڈوکیٹ فیروز انصاری

 کیا کوئی قائم مقام صدر بھی ہو گا ؟ 

امید کی جانی چاہیے کہ نو منتخب صدرمشاورت کو داخلی انتشاراور تنازعات کے دلدل سے نکال کر نئی بلندیاں عطا کریں گے اور مشاورت کے ایجنڈے پرتیزی سے کام کریں گے ۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جماعت اسلامی ہند کی شرکت کے بغیر مشاورت کا اس میقات میں رنگ وآہنگ کیا ہوگا ؟ ایک بڑے ملی حلقے میں یہ قیاس آرائیاں ابھی سے جاری ہیں کہ کیا ایڈوکیٹ فیروز انصاری مشاورت کی صدارت کے لیے مطلوبہ وقت دے سکیں گے ۔ یا کوئی قائم مقام صدر بھی ہوگا اور اگر ہوگا تو وہ کون ہوگا ؟

تنازعات سے مشاورت کا پرانا رشتہ ہے

اب ہونا تو یہ چاہیے کہ نتاج کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھیں ، فیروزصاحب مایوسی کے سناٹے کو چیرتے ہوئے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کریں اور سبھی اراکین کو ساتھ لیکر کام شروع کردیں۔ تنازعات سے مشاورت کا پرانا رشتہ ہے ، جو تاریخ کے صفحات میں ہی رہے تو زیادہ اچھا ہے ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مشاورت مختلف خیال لوگوں کا فورم ہے  یہاں اختلافات ہونا اور کبھی کبھی بڑھ جانا فطری ہے2016 کے الیکشن کے وقت بھی کچھ تنازعات ہوئے تھے  ۔

  رخصت پذیر صدر اور منتخب صدر کے درمیان ظاہر ہوئے تھے جس کولوگوں نے عہدہ کی منتقلی کے وقت ہوئے اجلاس میں دیکھا تھا اس کی نوعیت الگ طرح کی تھی ۔ لیکن جب صدر مشاورت نوید حامد صاحب نے چارج لینے کے بعد سب کو جوڑنے کاکام شروع کیا تو ان کے بعض مخا لفین بھی ان کی سرگرمیوں کے معترف ہوئے ،ایشیا ٹائمز نے نوید حامد صاحب کی میقات کے 14 ماہ کی تکمیل پر ان کی کار کردگی کی جائزہ رپورٹ شائع کی جس میں زیادہ تر لوگ نوید صاحب کے کاموں کی تعریف کرتے دیکھے گئے .

 ہمیشہ ایک ہی جواب ملا 

لیکن وقت کے ساتھ جب سرگرمیاں تعطل کا شکار ہونے لگیں اور نئے نئے  تنازعات نے مشاورت کو عدالت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تو ہم نے سوال پوچھنا شروع کیا جس کا ہمیشہ صرف ایک جواب ملتا ،مشاورت کے پاس کام کے لیے بجٹ نہیں ہے ۔ کوئی فیس نہیں دیتا ، یہ تنظیمیں مشاورت کی مضبوطی بھی ہیں اور کمزوری بھی یہی ہیں  وغیرہ ۔

 صدر مشاورت اور 'مشاورت' دونوں کے لیے بہتر راہ 

بہتر ہے کہ ماضی سے سیکھا جائے یہی نومنتخب صدر مشاورت اور 'مشاورت' دونوں  کے لیے بہتر راہ ہو سکتی ہے ، ورنہ مشاورت کی رسی کی اینٹھن چھڑانے کی کوشش میں یہ میقات بھی بیرنگ رہ جائے گی ۔ مشاورت کے قیمتی 6 برس پہلے ہی کورٹ کچہری کی نذر ہوکرتباہ ہوچکے ہیں ۔ ناراضگی دور کرنے کی پہل بھی صدر مشاورت کو ہی کرنی ہوگی ۔ جماعت اسلامی ہند ملک کی ایک اہم تنظیم ہے جس نے مشاورت کو ہمیشہ تقویت بخشی ہے اور بھی اراکان ہیں جو مشاورت کو لیکر فکر مند ہیں ان سب کے ساتھ بیٹھ کر 'مشاورت' ہو تو مسائل بڑی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ ویسے آپ وکیل ہیں قانونی اور سماجی تمام پہلو پرآپ کی نظر ہے آپ بہتر حل تلاش کر سکتے ہیں  ۔

مشاورت کے ارکان' ووٹر' اور' سپورٹر' کی گروپ بندیوں سے نکلیں 

الیکشن ختم ہوئے ،اب وقت ہے کہ مشاورت کے ارکان' ووٹر' اور' سپورٹر' کی گروپ بندیوں  سے نکل کر سبھی ارکان 'مشاورت' کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ نو منتخب صدرکا اچھے کاموں میں ہاتھ بٹائیں جہاں ضروری ہو مناسب فورم میں اپنی شکایت درج کرائیں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں کیوں کہ یہی بڑوں کا طریقہ ہے اور 'مشاورت' تو ملت  کے بڑے لوگوں کی انجمن ہے ۔ اس امید کے ساتھ  کہ مشاورت کی یہ میقات اپنی چارسالہ میقات بحسن و خوبی مکمل کرے گی ، انشا ء اللہ ۔  

مضمون نگار : ایشیا ٹائمز نئی دہلی کے چیف ایڈیٹر ہیں   

2 comments

  • ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی لکھنؤ

    کافی غور وفکر کرنے کے بعد بھی میں مشاورت کی ضرورت اور اس کی افادیت اس صورت حال میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں ۔ جن مقاصد کے حصول کے لئے مشاورت کا قیام عمل میں آیا تھا کیا ان مقاصد کا حصول موجودہ مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم سے ممکن ہے ۔ اتنی بدنام اور اور اتنے انتشار کا شکار مشاورت سے جڑنا کون پسند کرے گا ۔ اور کیوں کرے گا ۔ہاں ذاتی مفادات پیش نظر ہوں تو اس کی بات ہی الگ ہے ۔ حکومت کے دربار میں شاید رسائی کا ذریعہ ثابت ہو جائے ۔ اس مشاورت کو تحلیل کر دینا ہی اس کا علاج ہے ۔ خواہ مخواہ کسی مردہ لاش کو لئے پھرنے سے کیا حاصل ہوگا سواۓ اس کے کہ کچھ لوگ سیاست کریں گے ۔.

  • MOHAMMAD TAHIR

    The newly elected President of AIMMM is undoubtedly an Advocate, who has efficient characteristics to manage and administer the affairs of an institution. It is expected that he will handle all matters boldly and efficiently. Mazmoon Nigar has expressed the matter in a very effective and influential manner. I hope that the Present will run and administer the umbrella body of Muslim organisations well effectively with the cooperation of all people of the community. May Almighty ALLAH provide strength and also Patience to the related persons to solve problems faced by Muslims. AAMEEN .

Leave a Reply