مشرقی القدس کی یہودی بستی میں فائرنگ 8 اسرائیلی ہلاک

حملہ ’’ نبی یعقوب‘‘ بستی میں یہودی عبادت گاہ پر کیا گیا۔ امریکہ نے مذمت کی

 

 القدس : مشرقی القدس کی ایک یہودی بستی میں فائرنگ کرکے 8 اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا گیا۔ اسرائیلی پولیس اور ایمبولینس ٹیموں نے اعلان کیا کہ جمعہ کی شام مقبوضہ مشرقی القدس کی بستی ’’ نبی یعقوب‘‘ کے پڑوس میں ایک بندوق بردار نے یہودی عبادت گاہ میں عبادت گزاروں پر فائرنگ کردی ۔ جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے ۔ العربیہ ٹی وی نے واقعے کا ایک ویڈیو بھی نشر کیا ہے جس میں لوگوں کو بد حواسی کے عالم میں بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مذکورہ چینل کے مطابق اس فائرنگ میں دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق پولیس نے کہا ہے القدس میں ایک یہودی عبادت گاہ پر دہشت گردانہ حملہ ہواہے۔ حملہ بستی ’’ نبی یعقوب‘‘ کے ایک محلے میں ہوا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ امریکہ القدس میں ایک عبادت گاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے۔

پٹیل نے ایک پریس بیان میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکام اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے اگلے ہفتے طے شدہ اسرائیل کے دورے میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔

پرسوں جمعرات کے دن جنین کیمپ پر اسرائیلی کریک ڈاون اور اس میں 9 افراد کے قتل کے بعد صورت حال نازک بنی ہوئی ہے۔ نبی یعقوب نامی بستی کے اس واقعے کو فلسطینیوں کی طرف سے انتقامی کاروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ جنین کیمپ پر کریک ڈاون کے بعد کل جمعہ کے دن اسرائیلی افواج نے وسط غزہ کے علاقوں پر بمباری بھی کی ہے۔
فلسطین کی سرزمین پر ہونے والے اس خون خرابے نے دھماکہ خیز صورت حال پیدا کرتی ہے جس کی کسی بھی صورت میں تائید نہیں کی جا سکتی۔ عالمی طاقتوں کو چاہئے کہ وہ فوری مداخلت کرکے اسرائیلی جارحیت پر لگام لگائیں ورنہ خون خرابہ کا سلسلہ کہیں بھی ختم نہیں ہو سکے گا۔

 

 

0 comments

Leave a Reply