ملت اسلامیہ کے فرزندوں ذرا سوچو ہم کہاں کھڑے ہیں؟
انجینئر، زاہد حسین
آہ عائشہ آہ میری پیاری بہن کاش کہ ہم تم کو بتا سکتے کی شریعت انسانوں کے لئے باعث رحمت ہے۔ نباہ نہ ہونے کی صورت میں ہمارے رب نے اور ہمارے پیارے نبی نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کیا ہی خوبصورت راستہ دیا ہے۔
اس وقت میرا دل کٹ رہا ہے اور میں اضطراب و بے چینی کی اس کیفیت سے دوچار ہوں جس کو لفظوں میں بیان کرنا شاید میرے لیے ممکن نہیں۔ میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا بیتتی ہو گی ان والدین پر جن کی اولادیں خاص طور سے بیٹیاں ازدواجی زندگی سے تنگ آکر یا دباؤ میں آکر خودکشی کر لیتی ہیں یا مار دی جاتی ہیں۔
ملت اسلامیہ کے فرزندوں ذرا سوچو ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیسا معاشرہ تشکیل دیا ہے ہم نے؟ جہاں ایک طرف شادی مشکل ترین عمل بن گیا ہے وہیں نباہ نہ ہونے کی صورت میں جدائی اور علیحدگی اس سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔
جبکہ اللہ کے رسول نے کتنی تاکید فرمائی ہے کہ شادی میں اصل چیز دینداری ہے۔ دینداری کو مقدم رکھو، حسن وجمال ودولت عارضی ہے، حسب و نسب کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہم سب حضرت آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ ہے صرف اور صرف دینداری۔
بھلا بتائیں جب ہم خاندان کی بنیاد ہی غلط اصولوں پر رکھیں گے تو اچھے اور بہترین ثمرات کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ قرآن بارہا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شریعت تمام جہان والوں کے لئے باعث رحمت ہے۔ اس کے نفاذ سے بھلائیاں فروغ پاتی ہیں اور برائیاں دم توڑ دیتی ہیں ۔
لیکن ذرادیر کے لمحے کے لیے یہاں ٹھہریں اور اپنے گریبان میں منھ ڈال دیکھیں کیا ہم نے اپنی بہنوں یہ بتایا ہے کہ مرد اگر بحیثیت خاوند قوام ہے اور اسے ایک درجہ ۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو بھی امپاور کیا ہے، وراثت میں حقوق دیے ہیں، آپ کو بھی حقوق و اختیارات سے نوازا گیا ہے۔ آپ کو بھی حق ہے کہ آپ ایک باوقار زندگی گزاریں۔ جہاں آپ پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں آپ کے حقوق بھی ہیں اور اپنے سلسلے میں فیصلہ لینے کا اختیار بھی آپ کو حاصل ہے۔ طلاق اور خلع کا قانون جو ہمارے رب نے ہم کو عطا کیا ہے۔ وہ کارعبث نہیں ہے۔ باعث رحمت ہے۔
کاش ! ہماری بہن عائشہ خان کو کوئی سمجھاتا کہ تمہارے رب نے تمہیں خلع لینے کی اجازت دی ہے اور اس سے انسان کا وقار مجروح نہیں ہو جاتا، اس کے بعد بھی معاشرے میں ایک عام زندگی گزاری جا سکتی ہے اور دوسرا نکاح کیا جا سکتا ہے تو شاید یہ انتہائی قدم وہ نہ اٹھانے سے رک جاتی ۔ لیکن افسوس ہمارے معاشرہ پر کہ اس نے طلاق شدہ یا بیوہ کی نکاح ثانی کو ایسا عیب گردانتا ہے کہ جیسے کوئی جرم عظیم سرزد ہو گیا ہو ۔ معاشرے کو قرآنی نہج پر ڈھالنے کاکام کون کرے گا ، ہم کس کے انتطار میں ہیں ،یہ ذمہ داری ہمیں لینی ہوگی معاشرے میں پیدا سماجی مسائل سے سروکار رکھے بغیر یہ ممکن نہیں ،امید کی جانی چاہیے کہ عائشہ کی موت پر سوشل میڈیا پر جو بحثیں ابتک ہوئیں ہیں ان کے بطن سے کوئی خیر کا ہیلو نکلے گا ۔ اللہ کی پناہ۔
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو۔
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔

0 comments