اس کیلے والے نے بتائی ڈیجیٹل بھارت کی سچی کہانی

گلزار کہتے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے انہیں یہ آئیڈیا ایک روزبریانی کے ہوٹل پر دیکھ کر آیا

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/ ابو انس)  نومبر 2016  میں نوٹ بندی کے بعد پی ایم مودی کا وہ اعلان آپ کو بھی یاد ہوگا جس کی سیاسی سماجی حلقوں میں سخت تنقید ہوئی تھی نوٹ بندی کی وجہ سے پیدا حالات کے دباؤ میں پی ایم مودی نے ایک دن یہ اعلان کر دیا کہ لوگ پے ٹی ایم یوز کریں ۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ پی ایم یہ کیا کہہ رہے ہیں جس ملک میں غربت اور جہالت اس قدر ہو بھلا وہاں یہ کیسے ممکن ہے ، لیکن چارسال بعد اب آپ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی معاشرہ رفتہ رفتہ ڈیجیٹل ہوتا جا رہا ۔

آج ہماری ملاقات ابوالفضل جامعہ نگر میں ایک موڑ پر محمد گلزار سے ہوئی گلزار گزشتہ دس برس سے کیلے کا ٹھیلا لگاتے ہیں ان کے ٹھیلے پر آن لائن پے منٹ گیٹ وے کے کئی کارڈ دیکھے جا سکتے ہیں۔

 گلزار کہتے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے انہیں یہ آئیڈیا ایک روزبریانی کی دوکان پر دیکھ کر آیا،  وہ کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ ہوٹل سے نکلتے وقت کاونٹرپر پیسے نہیں دیتے بلکہ فوٹو کھینچ کر چلے جاتے ہیں انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟

ویڈیو رپورٹ

 

وقت گزرتا رہا ایک روز خود پے مینٹ گیٹ وے والوں کی نظر گلزار کے ٹھیلے پر پڑی اور انہوں نے گلزار سے اسے  لینے کو کہا تب سے گزار اسے یوز کرتے ہیں ۔  

یقینا پچاس روپے درجن کیلا خریدنے نکلے لوگ جب پیمنٹ  گیٹ وے کا یوز کرنے لگیں تو پھر اس کی طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ گلزار بتاتے ہیں کہ لوگ تو  دس بیس روپے بھی اسی سے پے منٹ کرتے ہیں، لیکن باوجود اس کے ابھی بھی کیش میں ہی زیادہ کاروبار ہوتا ہے ۔

 گلزار اس بات سے کافی خوش ہیں کہ اب ان سے ایک بھی گراہک نہیں چھوٹتا ،انہیں تکلیف صرف اس بات کی ہے  کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی سیل آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے پہلے روزانہ ساٹھ درجن تک کیلا فروخت ہوجاتا تھا اب یہ گھٹ کر 30 درجن تک رہ گئی ہے ۔ اس کیلے والے نے ڈیجیٹل ہوتے ہندوستانی معاشرے کی جو کہانی ہمیں بتائی ہے اس میں خوشی بھی ہے  اور لاک ڈاون کا کرب بھی ۔

0 comments

Leave a Reply