ملی تنظیموں پر دو باتیں
اب مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ خواتین ونگ کو تحلیل کئے جانے کے قضیہ
تحریر: مالک اشتر
ہوا یوں ہے کہ کئی ملی تنظیموں میں بیک وقت ہلچل مچی ہوئی ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نامی کسی تنظیم میں دستور کی تبدیلی پر الزام تراشیاں چل رہی ہیں تو آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نام کا کوئی ادارہ ہے، جس نے اپنی خواتین ونگ کو تحلیل کر ڈالا ہے۔ ان اقدامات کی حمایت اور مخالفت میں یوٹیوب، فیس بک اور اردو اخبارات میں تاویلات و الزامات کا چھاجوں پانی برس رہا ہے۔ اب جب تبصروں کا موسم ہے تو دو باتیں، اس گنہ گار کی بھی برداشت کر لینے میں کیا حرج ہے؟۔
تو پہلے ذکر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا۔ بہت دماغ چلانے کے بعد جو کچھ سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ کہ یہ تنظیم، ملی تنظیموں کا وفاق ہے۔ اب ذرا آپ سب باخبر لوگ اپنے ذہن پر زور ڈال کر بتائیں کہ پچھلے دس، بیس، تیس سال میں کون سا ایسا معاملہ تھا، جس پر اس تنظیم کے جھنڈے تلے کوئی اجتماعی حکمت عملی تیار ہوئی اور اس کے مطابق اقدام کیا گیا؟۔ آپ کو کچھ یاد آتا ہو تو بتائیے، مجھے تو یاد نہیں پڑتا۔ میں نے تو مذکورہ تنظیم کی پچھلے دس-بارہ برس میں مندرجہ ذیل کارکردگی ہی دیکھی:
مشاورت دو گروہوں میں بٹی ہوئی،
اب مشاورت ایک ہو گئی ہے،
مشاورت کے صدر کا چناؤ عدالت میں چیلنج ہو گیا،
چناؤ نتیجہ پر روک لگ گئی،
اب روک ہٹ گئی ہے،
مشاورت کا دستور بدل دیا گیا
کبھی کبھار 'آئے، بولے، کھائے اور چلے' ٹائپ جلسے۔۔۔
(اگر رمضان میں ایک دن کچھ لوگوں کو پھلکی چھولے کا افطار کرانے اور اردو اخبارات میں پریس ریلیز بھیجنے کو بھی کسی کام کے زمرے میں گنا جا سکتا ہے، تو آپ ان کو بھی اس تنظیم کی حصولیابیوں میں جوڑنے کو آزاد ہیں۔)
اب آپ ہی فرمائیں کہ ایسی تنظیم کے ہونے یا نہ ہونے سے آپ کو یا مجھے کتنے کوڑی کا نفع ہے؟۔ اس کا اگر کوئی فائدہ ہے تو ان کو ہوگا جو اس کی قیادت کے نام پر 'برادری کے بڑے' بنے گھومتے ہوں گے۔ اب یہ بھی سن لیجئے کہ خود اس تنظیم کے ذمہ داروں کی نظر میں، اس کی کیا وقعت ہے؟۔
مشاورت کے صدر اور سابق صدر کے دو الگ الگ انٹرویو سن کر دو باتیں معلوم ہوئیں
یکم: تنظیم کے تقریبا آدھے ارکان میٹنگ میں آتے ہی نہیں۔ کچھ تو کبھی بھی کسی میٹنگ کا حصہ ہی نہیں بنے۔
دوم: تنظیم کے بہت سے ارکان نے مدت سے رکنیت فیس ادا ہی نہیں کی۔ معلوم ہو کہ یہ فیس کوئی بڑی رقم نہیں بلکہ صرف ایک ہزار روپئے سالانہ ہے۔ اس کے باوجود کھاتے پیتے مولویوں اور ملی لیڈروں پر فیس کی مد میں کوئی پونے چار لاکھ روپئے واجب الادا ہیں۔
ان دونوں باتوں کو جاننے کے بعد بھی کیا کچھ اور کہنے کو بچ رہتا ہے؟۔ اب مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ خواتین ونگ کو تحلیل کئے جانے کے قضیہ پر آ جائیے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا خط فیس بک کی دیواروں پر جگہ جگہ چپکا ہوا ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ بعض 'تحفظات' کی بنیاد پر خواتین ونگ کو 'موقوف' کیا جا رہا ہے۔
یقین جانئے یہ بہت مدت میں پہلی بار ہے، جب میرا دل پرسنل لا بورڈ کے کسی قدم کا خیر مقدم کرنے کو چاہ رہا ہے۔ خواتین ونگ کا مطلب اگر یہی تھا کہ خواتین کو تین طلاق جیسے معاملے پر گمراہ کرکے آگے کر دو، تو یہ بورڈ کا عورتوں پر احسان ہے کہ اس نے اس ونگ کو تحلیل کر دیا۔ یوں بھی اس کی اصل ضرورت تو تین طلاق کی عورتوں کے ذریعہ حمایت کئے جانے، کو دکھانے کے لئے تھی۔ اب جبکہ وہ مرحلہ بیت گیا تو خواتین کو بورڈ میں 'کرسیاں' دینے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟۔ ذرا کڑوی بات ہے لیکن واقعہ یہی ہے کہ ہماری ملی تنظیموں میں خواتین کو صرف 'حکمت عملی' کے تحت 'آگے' کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر واقعی خواتین کو نمائندگی دینا مقصود ہوتا تو فیصلہ سازی میں بھی ان کو شریک کیا جاتا۔
میرا گنہ گار ذہن کہتا ہے کہ ملک کی کچھ ملی تنظیمیں تو اتنی کارآمد بھی نہیں، جتنے ٹین کے وہ خالی ڈبے ہوتے تھے، جن کے بدلے ہم بچپن میں چورن خرید لیا کرتے تھے۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جنہیں ختم کر دینے پر تھوڑا بہت نقصان ہوگا تو بس اردو اخباروں کا ہوگا جنہیں (اپنے صفحات بھرنے کے لئے) جوش و جذبات پر مبنی بیانات کی بنائی بنائی پریس ریلیزیں ملنی بند ہو جائیں گی۔
مالک اشتر کے فیس بل وال سے ان کے شکریے کے ساتھ

0 comments