کارپوریٹ میڈیا- جو میں نے پڑھا

تبصرہ : سلام الدین خان

تنقیدی جائزہ

جاذب نظر سر ورق ، خوبصورت ٹائٹل اور سر ورق پر میڈیا کی حقیقت کا عکس پیش کرتی تصویر،واقعی پہلی نظر میں ہر شخص کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کی پوری صلاحیت سے مامور ہے یہ کتاب۔ صحافت سے وابستہ شخص کی نظر پڑے تو بغیر ایک نظر فہرست پر ڈالے وہ آگے قدم نہیں بڑھا سکتا۔سر ورق اور کتاب کا نام دیکھ کر صحافت کے ایک ادنیٰ طالب علم کی بھی اس کتاب کی ایک بار ضرور پڑھنے کی خواہش ہوگی۔چنانچہ صحافت کے گلیاروں سے معمولی سناشائی رکھنے والا مجھ جیسا نا چیز بھی اس کتاب کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی صاحب کتاب کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا۔ لیکن جب اس خوبصورت کتاب کی فہرست مضامین پر نظر پڑی،میری نظر پوری کتاب میں کارپوریٹ میڈیا پر مبنی موضوع کی تلاش کرتی رہی مگر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

کتاب کے مصنف اردو صحافتی حلقوں میں الیکٹرانک اور پورٹل کی دنیا کے معروف صحافی اشرف بستوی ہیں۔ موصوف نے ایک لمبا عرصہ صحافت کی پر خار داروادیوں میں بسر کیا ہے اور اب بھی دن دونی رات چوگنی رفتار سے سر گرم ہیں۔ہندوستان ایکسپریس سے سہ روزہ دعوت میں اپنی صحافتی گرانقدر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

 فی لحال ایشیا ٹائمز نیوز پورٹل اور یو ٹیوب چینل کے ذریعہ دنیا کے سامنے ملک و ملت کے احوال تندہی کے ساتھ رکھ رہے ہیں۔ایک ایسے دور میں جب حقیقی صحافت کا چل چلاؤہے ان کی کاوش قابل ستائش ہے ۔اس کتاب میں مصنف کی سہ روزہ دعوت اور دیگر اخبارات میں مختلف مواقع اورمختلف موضوعات پر شائع ہونے والے مضامین شامل ہیں۔جس میں خاص طور پر ملی مسائل پر صحافت کے کردار پر مبنی موضوعات اہمیت کے حامل ہیں۔موصوف نے اپنے مضامین میں ملی مسائل پر مین اسٹریم میڈیا کی جانبداری کو خاص طور پر اجاگر کیا ہے اور ملت اسلامیہ ہند کے اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جس دوران یہ مضامین تحریر میں آئے اس وقت جو حالات اور ماحول تھے ان تمام کی جھلک مضامین میں بدرجہ اتم موجود ہے۔موصوف نے ہر مضمون سے پہلے ماہرین اورنامور محققین کے جو اقوال نقل کئے ہیں وہ لا جواب ہیں

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے کتاب کی تیاری میں کس عرق ریزی سے کام لیا ہے لیکن قاری کی امیدیں اس وقت معدوم ہو جاتی ہیں جب وہ کارپوریٹ میڈیا پر مبنی مضامین کی تلاش میں کتاب کی ورق گردانی کرتا ہے۔ صاحب کتاب نے کتاب کاجو نام رکھا ہے اس کے مطابق کچھ مضامین ضرور شامل کرنا چاہئے تھا۔کیونکہ پہلی نظر میں قاری کتاب کے نام کے موافق مضمون کی تلاش کرتا ہے۔

وہ اس امید پر ہی کتاب اٹھاتا ہے کہ کارپوریٹ میڈیا کے چہرے کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔کارپوریٹ میڈیا موضوع خود میں بہت سے راز لئے ہوئے ہے اور ہر قاری کی کتاب سے یہی امید ہوتی ہے کہ کتاب میں کارپوریٹ میڈیا کے ان تمام رازہائے بستہ سے پردہ اٹھایا گیا ہوگا۔

اس کی کالی کرتوتوںاور جانب داری کی بکھیا ادھیڑی گئی ہوگی۔موجودہ ماحول میں جس جانب داری اورحکمراں جماعت کی تملق پسندی،خصیہ برداری اور چاپلوسی کا منحوس چہرہ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے پیچھے کس طرح کے گل کھلائے جاتے ہیں ان تمام ریشہ دوانیوں کا ذکر ہوگا ۔

ہاں مقدمہ میں موصوف نے چند صفحوں میں ہی کتاب کی معنویت کو نمٹانے کی کوشش ہے ،بلکہ یوں کہا جائے کہ فرض کفایہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔کچھ اشارے ضرور ملتے ہیں مگر خاطر خواہ مواد ندارد ہے۔

اشرف بستوی نے بہترین موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اشرف بستوی سکینڈ ایڈیشن میں اس کا ضرور ازالہ کریںگے اور کارپوریٹ میڈیا کی کالی بھیڑوں کو ضرور اجاگر کریںگے اور کارپوریٹ میڈیا کے اس چہرے کو دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملے گاجس میں کارپوریٹ میڈیا کے ان تمام رازہائے بستہ سے پردہ اٹھایا گیا ہوگا۔بہر حال اشرف بستوی کو اس امید کے ساتھ کی جلد ہی ترمیم و اضافہ کے دوسرا ایڈیشن منظر عام پر آئے گا بہت بہت

مبارک باد۔

..............................

کتاب اس لنک پر دستیاب ہے 

https://www.amazon.in/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%B9-%D9%85%DB%8C%DA%88%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-Corporate-Media/dp/8194965101

 


0 comments

Leave a Reply