26/09/2017


میرٹھ میں وقف کی زمین پر چل رہی ہے شراب فیکٹری ؛ شراب تاجر وجے مالیا کو شیعہ وقف بورڈ نے طلب کیا

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز)  میرٹھ میں شراب فیکٹری کے لئے وقف کی زمین خریدنے میں شراب تاجر وجے مالیا پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ جس زمین کو خرید کر مالیا نے یونائیٹڈ اسپرٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نام کی فیکٹری ڈالی ہے مرکزی شیعہ وقف بورڈ نے اسے وقف کی زمین بتایا ہے۔

 بورڈ نے تحقیقات کے بعد مالیا کی طرف سے خریدی گئی 10 بیگھہ 72 بسوا زمین کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 10 اگست کو لکھنؤ میں واقع دفتر میں كاغذات کے ساتھ طلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں مالیا کے بنگلور اور دبئی کے مستقل پتوں پر نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔

صنعت کار وجے مالیا کو بھیجے نوٹس میں شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے کہا ہے کہ میرٹھ کے كنكركھیڑا میں جو فیكٹری چل رہی ہے وہ وقف کی زمین پر ہے۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ 10 بیگھہ 72 بسوا زمین لالہ ہنسراج و ان کے خاندان کے ارکان سے خرید کر شراب کی فیکٹری چلائی جا رہی ہے۔

 یہ زمین خود۔  مرحوم سید محمد عبداللہ پور میرٹھ کی طرف سے 26 اپریل 1918 کو وقف کی جا چکی ہے۔ 20 اپریل 1937 کو یہ زمین لالہ ہنسراج کو 50 سال کی لیز پر دی گئی تھی۔

 بورڈ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مذکورہ ليزڈيڈ وقف نامے کے مطابق غلط تھی۔ لیز کی مدت جو کہ 50 سال مقرر کی گئی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایکٹ 1955 کی دفعہ 51 کے تحت وقف جائیداد کی خرید فروخت غیر قانونی ہے ۔ معاملے کی شکایت وقف سید محمد کے متولی سید حسین احمد نے کی تھی۔

 





دیگر خبروں

2
3
4