28/07/2017


عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ بالاخر طے پا ہی گیا؛ اسرائیلی وزیر اعظم نے اسے دنیا کے لئے ایک تاریخی غلطی قرار دیا

ویانا: (ایجینسی ) امریکہ اور برطانیہ سمیت 6 بڑی عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد آخر کار تاریخی جوہری معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت ایران اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنا جوہری پروگرام محدود کر دے گا،

پاکستان سمیت عالمی برادری نے جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کی مخالفت کی ہے۔ منگل کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دو ہفتے سے زائد عرصے سے جاری مسلسل مذاکرات کامیاب ہو گئے اور فریقین کیدرمیان متفقہ طور پر جوہری معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ایران میں چہار جانب جشن کا سماں لوگ افطاری کے بعد سڑکوں پر نکل آئے

 عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے پر ایران میں جشن، سینکڑوں شہری افطاری کے بعد سڑکوں پر نکل آئے۔ گاڑیوں کے ہارن بجا کر خوشی کا اظہار، شہریوں کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے سے معیشت بہتر ہو گی اور ملک مزید ترقی کریگا ایرانی سپریم لیڈرنے تاریخی معاہدے پر قوم کو مبارکباد دی ہے ۔

benjamin.JPG

نیو یارک ٹائمز پر یہ ویڈیو دیکھنے کے لیے  لنک پر کلک کریں 

http://www.nytimes.com/2015/07/15/world/middleeast/iran-nuclear-deal-israel.html

معاہدے کے تحت امریکہ اور یورپ کی طرف سے سلامتی کونسل میں ایران پر عائد کردہ پابندیاں ہٹالی جائیں گی جبکہ اس کے جواب میں ایران اپنی جوہری پروگرام محدود کر دے گا اور اسے پرامن مقاصد کے لئے جوہری توانائی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ ایران کو یورپی یونین کے ساتھ تجارت کی اجازت مل جائے گی اور عالمی منڈی میں ایران کو تیل برآمد کرنے کی بھی اجازت ہو گی۔

 

obama.JPG

معاہدے کے تہت ایران کسی بھی صورت ایٹھمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا جبکہ ایران کسی بھی ایٹمی تنصیب کو ختم یا بند کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ ایران پر اسلحہ کی خریداری اور فروخت پر پابندی ہو گی جو کہ 5 سال بعد آہستہ آہستہ ہٹائی جائے گی۔

iran deal.JPG

غیر ملکی بینکوں میں ایران کے اربوں ڈالرز غیر منجمد کر دیئے جائیں گے۔ معاہدے کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے 800 ماہرین اور اداروں پر عائد پابندیاں بھی ہٹائی جائیں گی اور ایران کے ایٹمی لیبارٹریز اور سنٹری فیوجیز کو ترقی دینے پر پابندی نہیں ہو گی۔ معاہدے کو منظوری کے بعد سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا اور سلامتی کونسل 7 سے 10 روز میں مسودے کی منظوری دے گی جس کے بعد عمل درآمد شروع ہو جائے گا جبکہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا ٹائم فریم فریقین باہمی رضا مندی سے طے کریں گے۔

russia.JPG

عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین معاہدے کو پاکستان سمیت دیگر عالمی برداری نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے سے خطے سمیت دنیا بھر میں امن قائم ہو گا جس سے امن کی نئی راہیں کھیلیں گی اور دنیا بھر سے بحرانی کیفیت کا خاتمہ ہو گا۔ 

asad.JPG

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے معاہدے سے خطے مین امن اور سلامتی آئے گی۔ اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایران کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کا حامی رہا ہے پاکستان معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کا خواہاں ہے۔

امید ہے کہ معاہدے پر جلد عمل درآمد ہو گا تاہم اسرائیل نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان منگل کے روز طے پانیوالا جوہری معاہدہ دنیا کے لئے ایک تاریخی غلطی ہے۔

ان کے دفتر نے ڈچ وزیرخارجہ برٹ کوائنڈر کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایک مقام جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے، اس پر بھاری سمجھوتے کیے گئے ہیں۔

 





دیگر خبروں

2
3
4