28/07/2017


نوبل انعام یافتہ اكونومسٹ امرتیہ سین نے کہا مودی حکومت ایجوکیشنل انسٹی ٹيوٹس پر سیدھا کنٹرول چاہتی ہے

نئی دہلی: (ایشیا ٹائمز) نالندہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر دوسری مدت کے لئے امیدواری واپس لینے والے نوبل  انعام یافتہ اكونومسٹ امرتیہ سین نے نریندر مودی حکومت پر براہ راست حملہ بولا ہے۔ انہوں نے نیو یارک ریویو آف بکس میں لکھے گئے 4 ہزار الفاظ کے مضمون میں نالندہ یونیورسٹی چھوڑنے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ مودی حکومت ایجوکیشنل انسٹی ٹيوٹس پر سیدھا کنٹرول چاہتی ہے۔ بتا دیں کہ 17 جولائی کو نالندہ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے طور پر سنگاپور کے سابق وزیر خارجہ جارج يو کام کاج سنبھالیں گے۔

مضمون کے پبلش ہونے سے پہلے ایک انگریزی اخبار سے بات چیت میں سین نے حکومت کی طرف سے اکیڈمک انسٹی ٹيوٹس میں مرکزی حکومت کے 'حیرت انگیز طریقے سے بڑے سطح پر' دخل کے بارے میں بات کی۔ سین نے کہا کہ، '' مجھے شرطیہ طور پر نالندہ سے باہر کیا گیا۔ '' سین کے مطابق، یونیورسٹی بورڈ کے کچھ رکن ان کے لئے لڑائی لڑنے کے لئے تیار تھے۔ اگر میں اپنی مدت جاری رکھتا تو شاید یونیورسٹی کو ملنے والا درجہ چھن جاتا اور فنڈ بھی روک لئے جاتے۔ سین نے کہا، '' نالندہ ہی ایک معاملہ نہیں ہے۔ ہر وہ انسٹی ٹیوٹ جہاں حکومت کا کردار ہوتا ہے، وہاں دخل بڑھایا جا رہا ہے۔ ایسا کسی دوسرے وزیر اعظم کے دور میں نہیں ہوا۔ ''

اکنامی کو لے کر بھی برسے 

سین نے کہا کہ بھارتی اکنامی کی حالت خراب ہے اور وہ بجٹ میں ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں کی گئی کٹوتی کے خلاف ہیں۔ سین نے کہا کہ، '' میں کبھی صنعتوں کے خلاف نہیں ہوں، لیکن کوئی ملک ناخواندہ اور بیمار ورك فورس کے ذریعے انڈسٹری سیکٹر میں بڑا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ '' سین کے مطابق، مودی حکومت یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ مارکیٹ اکنامی کو بہتر سرکاری سروسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ سین نے کہا، '' ہندوستان کی کل جی ڈی پی کا 1اعشاریہ 2 فیصد عوامی صحت کی دیکھ بھال پر خرچ کرتا ہے، وہیں چین 1اعشاریہ 3 فیصد۔ اور اب  تو اس  فیصد کو بھی کم کرکے 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان چین جیسی ترقی کی شرح چاہتا ہے، لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کر رہا ہے کہ چین کی ہیلتھ سروسز حیرت انگیز طریقے سے بہتر ہوئی ہیں۔ سین کا کہنا ہے کہ جہاں یو پی اے حکومت کی طرف سے 2013 میں پیش کیا گیا لینڈ بل کنفیوژن والا تھا، وہیں این ڈی اے کا بل 'وسیع پیمانے پر' غلط ہے۔ سین نے کہا، '' مودی حکومت اس بنیادی بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ ترقی کے مرکز میں عام لوگ ہوتے ہیں۔ ''

 





دیگر خبروں

2
3
4