28/07/2017


ورلڈ ہیپا ٹائٹیس بی پر سمپوزیم کا انعقاد


نئی دہلی :  مہلک مرض   ہیپا ٹائٹیس بی  کے   عالمی دن کے موقع  آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے زیراہتمام دریاگنج میں ایک سمپوزیم بعنوان ’’تحفظ جگر اور التہاب کبد سے بچاؤ کی تدابیریں‘‘ منعقد ہوا۔ مذکورہ عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بتایا کہ حفظ ماتقدم پر عمل کرنے سے ہی التہاب کبد (Hepatitis) سے بچا جاسکتا ہے کیونکہ التہاب کبد ایک خطرناک بیماری ہے، اس کے کئی اقسام ہیں۔ عام طور پر التہاب کبد 'B' اور 'C' کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے پھیلنے کی وجہ ’وائرس‘ ہے۔ ’ایڈس‘ کے بچاؤ میں جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں وہ سبھی التہاب کبد میں لاگو ہوتے ہیں۔ سادہ کھانا، تازہ پھل اور سبزیاں استعمال میں لائی جائیں۔ ملاوٹی خوردنی اشیا، کٹے پھٹے پھل اور سبزیوں کے استعمال سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اسی طرح شراب اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے بھی پرہیز لازمی ہے۔ ڈاکٹر سیّد احمد نے مزید بتایا کہ یونانی طریقہ علاج میں ہی التہاب کبد کے سب سے کامیاب نسخے ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ امراض جگر میں یونانی طریقہ علاج کو ترجیح دیں۔ 
سمپوزیم کی صدارت ڈاکٹر ستیہ دیو مشرا نے کی۔ انہوں نے کہا کہ التہاب کبد (Hepatitis) کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے داری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ دور حاضر کا کھان پان ملاوٹ کی وجہ سے بہت مشکوک ہوچکا ہے اور حکومتیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اکثر ناکام رہتی ہیں۔ جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے اس وقت میڈیا کا شور و غل سننے میں آتا ہے اور حکومت جانچ کمیٹی کی آڑ لے کر اپنا بچاؤ کرلیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سخت اور موثر کارروائی نہ ہونے سے روز بہ روز خوردنی اشیا کی ملاوٹ میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی بھی طرح سے عوام کی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام دنیا بھر کا ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے بدلے میں انہیں صاف پانی اور خالص غذا یقینی طور پر ملنی چاہئے۔ 





دیگر خبروں

2
3
4