28/07/2017


کیا ملک ایسے ترقی کر سکتا ہے ؟

تحریر اشرف علی بستوی کی ہے

تحریر اشرف علی بستوی کی ہے  

نوبل انعام یافتہ ماہرمعاشیات امرتیہ سین ہندوستان کے معاشی و سیاسی مسائل میں کافی دل چسپی لیتے ہیں اکثرہندوستان کی معاشی  پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ وہ ان  دنوں مودی حکومت کے بعض اقدامات سے خاصے ناراض ہیں اس بار نیو یارک ریویو آف بکس میں 4 ہزار الفاظ پر مشتمل ان کا ایک مضمون موضوع بحث ہے جس میں انہوں نے نالندہ یونیورسٹی سے اپنی علیحدگی  کے بارے میں تفصیلات کا کر ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے منصوبہ بند طریقے سے نالندہ یو نیورسٹی سے نکالا گیا ہے مزید کہتے ہیں کہ دراصل مودی حکومت تعلیمی اداروں پر راست کنٹرول چاہتی ہے۔

مضمون شائع ہونے سے قبل  ایک انگریزی اخبار سے بات چیت میں سین نے کہا کہ، نالندہ ہی ایک معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سبھی ادارے جہاں حکومت کا کردار ہوتا ہے، وہاں دخل بڑھایا جا رہا ہے۔ ایسا کسی دوسرے وزیر اعظم کے دور میں نہیں ہوا۔

سین ہندوستانی معیشت کی خراب حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عام  بجٹ میں دواہم شعبوں صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کی گئی تحفیف مودی حکومت کی عدم سنجیدگی کا مظہر ہے ۔  وہ کہتے ہیں کہ میں قطعی طور پر صنعتوں کے خلاف نہیں ہوں، لیکن بھلا بتائیں کہ کیا کوئی ملک ناخواندہ اور بیمار انسانی وسائل کے ذریعے  ترقی کر سکے گا ؟ اس حالت میں  صنعتی شعبے میں کوئی ملک ہر گزبڑا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ '' سین کہتے ہیں کہ دراصل مودی حکومت ابتک یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ معیشت کو بہتر سرکاری سروسیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ سین نے کہا،  چین سے معاشی ترقی کا موازنہ کرنے والے ہندوستان کو پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے '' ہندوستان اپنی جی ڈی پی کا 1اعشاریہ 2 فیصد صحت عامہ پر خرچ کرتا ہے، جبکہ چین 1اعشاریہ 3 فیصد۔ اور اب  تو اس  فیصد کو بھی کم کرکے صرف ایک  فیصد کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان چین جیسی ترقی چاہتا ہے، لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کر رہا ہے کہ چین کی صحت خدمات حیرت انگیز طریقے سے بہتر ہوئی ہیں۔ سین کہتے ہیں کہ '' مودی حکومت اس بنیادی بات کو کیوں نہیں سمجھ پا رہی کہ ترقی کا محورعام لوگ ہوتے ہیں۔ ''عوام کی ترقی میں ہی ملک کی ترقی کا راز مضمر ہے اور وہ تبھی ترقی کی بلندیاں طے کر سکیں گے جب وہ صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ خواندہ ہوں ۔

امرتیہ سین کے اس تبصرے کی روشنی میں اگر جائزہ لیں تو دہلی کی عام آدمی پارٹی کی نئی  نویلی نا تجربے کار حکومت  بڑی حد تک اس نقطے کو سمجھنے میں کامیاب رہی ہے جس کی جھلک اس کے عام بجٹ میں واضح طور پر دکھائی دی ہے ۔ عام آدمی پارٹی حکومت نے عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے تعلیم اور صحت دونوں اہم شعبوں کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے ، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے  لیکن یہ بات بھی کانگریس اور بی جے پی  کو ہضم نہیں ہوئی اسے بھی فرضی قرار دے ڈالا، اور دونوں اپوزیشن پارٹیاں اس وقت تو دہلی حکومت کا جینا محال کر دیا ہے ، معمولی معمولی معاملات کو طول دیکر تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں ۔

ذرا یاد کریں الیکشن کے دور میں کی گئی وزیر اعظم کی وہ تقریریں جن میں انسانی وسائل کی تعلیم و تربیت اور صحت پر لمبی لمبی باتیں کرتے تھے  جاپان اور آسٹریلیا دوروں سے  واپسی کے بعد ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے موقع پر ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے انہوں نے کیا کہا تھا؟ جھارکھنڈ میں ایک  انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے موصوف نے قبائلی خواتین سے کہا تھا آپ جانتے ہیں میں نے جاپان کا سفر کیوں کیا ؟ میں نے وہاں آپکے علاقے میں پائی جانے والی ایک خاص قسم کی بیماری کے خاتمے کے لیے  صحت کے ماہرین سے بات کی ہے،ایک موقع پر انہوں نے کہا میں نے آسٹریلیا کے سفر کے دوران زرعی شعبے کے سائنس دانوں سے کیلے میں غذائیت بڑھانے کے لیے نئی ترکیب کی کھیتی کا فارمولہ حاصل کیا ہے ۔ موصوف جب نوجوانوں سے مخاطب ہوتے تو یہ کہتے کہ میرا ملک  نوجوانوں کا ملک ہے اگر ہمارے نوجوانوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کر دیا جائے  تو ہماری ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا یہ اور اس طرح کے  نہ جانے کتنے بیا نات  انہوں متعدد مواقع پر دیے  لیکن جب بحیثیت وزیر اعظم عملی اقدامات کی باری آئی تو بجٹ میں صحت اور تعلیم دونوں اہم شعبوں کو نہ صرف نظرانداز کر دیا بلکہ پہلے سے طے بجٹ کو مزید کم کر دیا ۔ امرتیہ سین نے جن امور کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے انتہائی اہم ہیں ان کی تشویش کو بے بنیاد نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں متذکرہ با لا دونوں امور کلیدی اہمیت کا درجہ رکھتے ہیں اس کے بغیر ہمہ جہت ترقی کا خواب کبھی  پورا نہیں ہو سکتا۔

ashrafbastavi@gmail.com

 

 





دیگر خبروں

2
3
4