'غزوہ ہند' کے عنوان سے نفرت انگیز پروگرام چلانے پر این بی ڈی ایس اے نے نیوز 18 پر لگایا 20 ہزار روپیہ کا جرمانہ - اے پی سی آر نے درج کی تھی شکایت
ہے لیکن بارڈر مسلم ہوگئے ہیں"، "کاغذ نہیں دکھائیں گے ، بھگائے جائیں گے"، "۔۔۔اینٹری پوائنٹس پر اگر اپنے دھرم کے لوگ ہونگے تو پھر آسانی بھی ہوگی ۔۔۔ وہیں شرن بھی مل جائے گی" اور " ہندوستان میں ہندو کبھی گھس پیٹیا نہیں ہوسکتا" جیسے اشتعال انگیز اور منافرت بھرے جملے کہے تھے ۔
اس کے علاوہ پروگرام کے دوران "# بارڈر پر پان اسلام"، "بارڈر پر اسلامی کرن پورا"، بارڈر پر بڑھے بھائی جان - خطرناک ہے پلان؟" اور "بارڈر پر غزوہ بارود بچھ گیا ہے" جیسے بہت سے جارحانہ اور اشتعال انگیز 'ٹِکّرس' بھی اسکرین پر چلائے گئے تھے ۔
این بی ڈی ایس اے نے معاملہ کی سماعت کے دوران اس متنازعہ پروگرام میں کہے بہت سے جملوں کو نامناسب اور قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل سیکیوریٹی سے متعلقہ مسئلہ کو پوری طرح فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ براڈکاسٹنگ کے معیاری اصولوں اور رہنما ہدایات اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اس لئے چینل کو 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے علاوہ اس پروگرام کو اپنے چینل اور یوٹیوب سے ہٹانے کے ساتھ اس کے تمام ہائپر لنکس بھی 7 دن کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو اے پی سی آر نے پوری سنجیدگی سے لیا تھا کیونکہ اس میں ایک خاص طبقہ کی آبادی میں اضافہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کا مقصد محض قیاس آرائیوں کے ذریعے عام آبادی کو گمراہ کرنا اوران کے ذہن میں ایک خاص مذہب اور طبقہ کے تعلق سے خوف و دہشت پیدا کرنا تھا۔
اس پروگرام کے خلاف اے پی سی آر کی طرف سے ایم حذیفہ نے اپنی شکایت درج کروائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جب نفرت انگیزی کی مہم خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے تو این بی ڈی ایس اے جیسے اداروں کو فوری طور پر کوئی ایسا شفاف میکانزم وضع کرنا چاہیے جس سے اس طرح کی اشتعال انگیزی پر روک لگائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا :"سماج کی ترقی اور امن کو مزید نقصان پہنچنے سے قبل اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی لہر پر فوراً روک لگنی چاہیے۔"
حذیفہ نے کہا کہ این بی ڈی ایس اے کی طرف سے یہ جو فیصلہ آیا ہے وہ نفرت کے سہارے مفاد حاصل کرنے والے میڈیا اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے اور اس پر روک لگانے کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزیوں کے معاملوں کو درست کرنے کا طریقہ اطمینان بخش نہیں ہے اور متاثرہ فریق کو کوئی راحت مل نہیں پاتی۔
اے پی سی آر کی جانب سے این بی ڈی ایس اے کے سامنے ایڈوکیٹ تمنا پنکج نے بڑی خوش اسلوبی سے اس معاملہ کی پیروی کی۔

0 comments