مسلمان ویلفیئر پارٹی کو جائے پناہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں/ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس
خصوصی انٹر ویو
ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے نو منتخب صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس سے اشرف علی بستوی نے یہ گفتگو کی اور ان سے ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارٹی کے مستقبل اور ملک کو درپیش چیلنجوں کے پیش نظریہ جاننے کی کوشش کی کہ موجودہ حالات میں ملک کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا ؟ پارٹی موجودہ چیلنجوں کے درمیان کس طرح جگہ بنائے گی۔ملاقات میں وہ سوالات بھی زیر گفتگو آئے جو پارٹی کی صدارت میں تبدیلی کے بعد اردو میڈیا نے اٹھائے تھے۔
سوال: ملک کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے میں پارٹی نے آپ کو انتہائی اہم ذمے داری سونپی ہے اب ملک کے بدلے ہوئے سیاسی حالات میں ویلفیر پارٹی کا مسقبل کیسا دیکھ رہے ہیں ، ملک کو اس وقت کن چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کی کیا سیاسی حکمت عملی ہونا چاہیے ؟
جواب: ملک کے بدلے ہوئے حالات میں ہماری پارٹی کا مسقبل بہت خوش آئند نظر آتا ہے،اس وقت مودی حکومت جس طرح کا رخ اختیار کر رہی ہے، جس طرح کی پالیسیاں وضع کر رہی ہے، جس قوت سے سیاسی پارٹیوں جانب سے مخالفت ہونی چاہیے نہیں ہو رہی ہے اس کے کئی وجوہ ہیں ایک تو یہ ہے ان میں سے کئی پارٹیاں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ذات کی بنیاد پر بنائی گئی پارٹیوں کی زمیں کھسکنے لگی ہے ، کانگریس پارٹی جو سرمایہ دار طبقے کی بہت بڑی وکیل سمجھی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود غریب طبقے کو تھوڑی بہت رعایت دینے کی قائل رہی ہے۔ مودی حکومت نے آتے ہی یکطرفہ اقدامات شروع کردیے ہیں ، خود کانگریس میں اب یہ حوصلہ نہیں ہے کہ ان کی مخا لفت کر سکے۔ کانگریس میں خود قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں اس وقت کوئی ایسا حزب اختلاف نظر نہیں آتا جو مودی حکومت کی غلط پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے جس طرح سے مزدوروں سے متعلق قانون کو تبدیل کیا ،اب اراضی تحویل ایکٹ کو واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نریگا میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الغرض عوامی بہبود کی جتنی اسکیمیں تھیں انہیں یا تو تبدیل کیا جا رہا ہے یا واپس لیا جا رہا ہے۔ سر مایہ دار طبقے کے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔اس کے خلاف پورے ملک میں جس طاقت سے آواز اٹھنی چاہیے نہیں اٹھ رہی ہے۔ ہم محسوس یہ کر رہے ہیں کہ اس وقت اپوزیشن کا جوخلا پیدا ہوا ہے اسے بھرنے کی کی ضرورت ہے اس لیے ہم نے عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوال :ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے اور انصاف پسند آوازوں کو متحدکرنے میں آپ کی پارٹی کیا رول ادا کر ے گی ؟
جواب: موجودہ حکومت ایک طرف تو ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر ایک خاص تہذیب میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس ایجنڈے پر بہت تیزی سے گامزن ہے یہاں تک کہ ملک کے سیکولر کردار کو تبدیل کر دینا چاہتی ہے اور دوسری جانب سرمایہ دار طبقوں کے مفادات کے پیش نظر پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ وہ میڈیا جو پہلے اپوزیشن کی آواز بن جاتا تھا ، اب حکومت مخا لف کوئی آواز میڈیا نہیں اٹھاتا، ان حالات میں اگر کوئی آواز اٹھتی ہے تو ہم اس ساتھ دیں گے۔ہم نے ایک کوشش بنگال میں کی ہے سات پارٹیوں پر مشتمل ایک اتحاد قائم کیا ہے۔
سوال: اپنے قیام سے اب تک پارٹی نے کتنے انتخابات میں حصہ لیا اور کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں ؟
جواب: پارٹی قائم ہوئے ابھی محض ساڑھے تین برس ہوئے ہیں اس لیے ابھی ہم کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کر سکتے،چونکہ ہم ایک سیاسی پارٹی ہیں اس لیے انتخابات میں کسی نہ کسی صورت میں حصہ لینا پڑتا ہے ، گو کہ ہم نے اب یہ طے کیا ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر حصہ نہیں لیں گے۔ جب تک کہ ہم عوامی سطح پر اپنا نیٹ ورک نہ قائم کرلیں، جب تک ہم عوام کے مسائل کو لے کر اپنی ایک پہچان نہ بنالیں تب تک ہم انخابی سیاست میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے۔
سوال: کیا آئندہ ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میںپارٹی اپنےامیدوار کھڑا کرے گی ؟
جواب:دہلی میں اسمبلی انتخابات لڑنے کا ابھی ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے ، ابھی یہاں ہماری یونٹ چھ ماہ قبل قائم ہوئی ہے۔اس لیے ابھی سرگرم حصے داری مناسب نہیں ہے ، بغیر کوئی کام کیے اخلاقی طور پر بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ عوام سے ووٹ مانگا جائے۔ سیاسی پارٹیاں یا تو الیکشن لڑتی ہیں یا اپنے حلیفوں کی حمایت کرتی ہیں یا پھر خاموش رہتی ہیں ، ابھی ہم نے دہلی کی سطح پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
سوال: گزشتہ دنوں میڈیا میں پارٹی صدر کے انتخاب کے تعلق سے کچھ ایسی خبریں آئی ہیں جن سے غلط فہمیاں پیدا ہورہی تھیں کہا گیا ہے کہ صدر کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹا یا گیا ہے ؟
جواب: دراصل ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں میں تبدیلی کا کوئی رجحان نہیں پایا جاتا، پارٹیوں کے اندرداخلی جمہوریت نہیں پائی جاتی ایک شخص جو صدر ہو گیا وہی تا حیات صدر بنا رہتا ہے ایسی صورت میں ایک شخص یا ایک خاص گروپ ہوتا ہے جس کے ارد گرد پارٹی گھومتی ہے اور اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو لوگ سوال کھڑے کرتے ہیں۔ دراصل ہمارے یہاں چار سال پر انتخاب ہونا طے ہے پارٹی جب قائم ہوئی تھی اسی وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ موجودہ نظام وقتی ہے بعد میں پارٹی نیٹ ورک بن جانے کے بعد باقاعدہ نئے سرے سے انتخابات ہوں گے۔ حالیہ انتخاب اسی تناظر میں ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجتبیٰ فاروق صاحب کے کچھ ذاتی مسائل تھے جن کی بنیاد پر وہ ذمے داری سے الگ ہو نا چاہتے تھے، اس بات کو انھوں پارٹی کے سامنے پیش کیا اور پارٹی کی فیڈرل کونسل نے ان کے عذر کو قبول کرتے ہوئے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا اور پھر نئے سرے سے انتخاب عمل میں آیا۔ اس میں کوئی بھی بات معمول کے خلاف نہیں ہوئی۔ ہمارے یہاں انتخابات بہت ہی شفاف طریقے سے ہوتے ہیں ،
یہ بات پہلے سے طے ہے کہ پارٹی میں داخلی جمہوریت ہوگی ، شفافیت ہوگی ، شخصیت پرستی نہیں ہوگی ، پارٹی اپنے نظریات کے گرد رہے گی ، اقدار پر مبنی سیاست کا ہمار ا جو نعرہ ہے وہی محور رہے گا یہ سب باتیں ہمارے یہاں پہلے سے طے ہیں اور اسی پر عمل ہو رہا ہے۔ہمارے ایک ذمے دار ڈاکٹر تسلیم رحمانی صاحب نے استعفیٰ دیا ہے ان کی اور پارٹی میں کچھ اور لوگوں کی رائے یہ تھی کہ پارٹی کو مسلم سیاسی جماعت کے طور پر ابھرنا چاہیے ،
جبکہ ہماری پارٹی میں ہندو مسلمان سبھی شامل ہیں اور پارٹی نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ مسلمانوں سمیت سماج کے دیگر طبقات اور دبے کچلے لوگوں کے مسائل کو ترجیح دے گی لیکن پارٹی کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوں گے۔ پارٹی کسی ایک مخصوص طبقے کو فوکس نہیں کرے گی۔ بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ ہمیں پہلے مرحلے میں صرف مسلمانوں پر توجہ دینی چاہیے ، یہ پارٹی کی طے شدہ پالیسی کے خلاف بات ہے۔ اب جو لوگ پارٹی کی اس پالیسی سے متفق نہیں تھے الگ ہوگئے۔
سوال: ابتدائی دور میں پارٹی میں شامل کچھ بڑے نام اب پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں ، ان کے جانے سے پارٹی پر کیا اثر پڑا ہے ؟
جواب: پارٹی سے اگر کوئی شخص الگ ہوتا ہے تو ظاہر ہے اس سے پارٹی وقتی طور پر ضرور متاثر ہوتی ہے۔ لیکن اگر پارٹی اپنی آئیڈیا لوجی پر قائم ہے ، عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے تو اس طرح کی آمدورفت پارٹی کو متاثر نہیں کرتی ، اور یہ تو سیاسی پارٹیوں میں معمول کی بات ہے۔ بعض لوگ پارٹی کو پوری طرح سمجھے بغیر جب آجاتے ہیں اور پھر انہیں لگتا ہے کہ جیسا انہوں نے سمجھا تھا ویسی نہیں ہے تواس طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ویلفیئر پارٹی نے اول روز سے ہی یہ طے کر رکھا ہے کہ ہم موجودہ بدعنوان، فرقہ پرست اور موقع پرست سیاست کا جواب ہیں ، ہم تیرہ سو رجسٹرڈ پارٹیوں کی فہرست میں ایک اضافہ نہیں ہیں بلکہ ان کا متبادل ہیں ۔ تو جو لوگ ویلفیر پارٹی کو ایک عام سیاسی پارٹی سمجھ کر وابستہ ہوتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ پارٹی دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتی ، بدعنوانی سے دور ہے اقدار پر مبنی سیاست پر مصر ہے، وہ اپنے نظریات سے سمجھوتا نہیں کرنا چاہتی تو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی کلچر کے بغیر کام نہیں چل سکتا وہ ساتھ چھوڑدیتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے ہمیں بھی ان کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: آپ کی صدارت میں پارٹی کے کام کرنے کی موجودہ حکمت عملی سابقہ حکمت عملی سے کس قدر مختلف ہوگی ؟
جواب: اس وقت پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ الیکشن میں اس وقت قدم رکھے گی جب عوام کے درمیان خدمت کے ذریعے اپنی شناخت قائم کر لے گی ، اس درمیان چار میدانوں میں پارٹی پوری قوت سے کا م کرے گی ۔اول یہ کہ ملک میں بننے والی پالیسیوں میں عوامی دبائو پیدا کرکے ، مباحثوں، سمپوزیم اور میڈیا کے ذریعے مداخلت کر کے عوام دوست پالیسیا ں بنوانے پر زور دے گی جس میں اقتصادی و سماجی فلاح و بہبود سمیت دیگر پالیسیاں شامل ہوں گی اس طرح ہم عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ دوسرے یہ کہ عوام مخالف حکومت کے فیصلوں کے خلاف عوامی بیداری کے ذریعے مخالفت کی جائے گی ، پورے ملک میں احتجاج کریں گے۔تیسرا کام یہ کہ حکومت بہبود کی اسکیمیں بناتی ہے لیکن لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی فنڈ کا صحیح جگہ استعمال نہیں ہوتا یا دوسرے کاموں میں خرچ کر دیا جاتا ہے ہم اس سلسلے میں کام کریں گے۔ اقلیتوں کے تعلق سے بہت سی ایسی اسکیمیں ہیں جن کا فائدہ نہیں پہنچ پا رہا ہے ہم اس پر بڑے پیمانے پر منظم ڈھنگ سے کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ چوتھا کام ہم یہ کر رہے ہیں کہ اگر کسی کو پولیس یا انتظامیہ کی وجہ سے زیادتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بے جا مقدمات میں ملوث کر دیا جاتا ہے ، چھوٹے کاروباریوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، غیر منظم سیکٹر میں کام کر نے والے لوگ ہیں ان لوگوں کو ہماری پارٹی لیڈر شپ فراہم کرے گی ان کے مسائل کو اٹھانا ہے گویا عوام کی خدمت کرتے ہوئے ان تک پہنچنا ہے۔اس سے قبل ہم نے کیرالا میں تین اہم کام کیے ہیں ہم نے ایک مہم شروع کی تھی کہ کیرالا میں شراب بند کی جائے جس میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی بعد میں ساتھ آئیں اب وہاں مرحلے وار شراب بندی کی جا رہی ہے۔ ہم نے دوسری کوشش یہ کی ہے کہ کیرالا میں آبادی کے تناسب سے زمین کم ہونے کی وجہ سے زمینوں کے دام بہت زیادہ ہیں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بے زمین ہیں ہم نے ایک تحریک چلائی اور مطالبہ کیا کہ سرکار بے زمینوں کو زمین مہیا کرائے یہ تحریک بہت مضبوط ہوئی جس کے نتیجے میں بی پی ایل زمرے کے لوگوں کو سرکار نے زمین دینے کا فیصلہ کیا۔
تیسری بات یہ ہے کہ وہاں سڑکوں کو غیر ضروری طور پر چوڑا کر رہی ہے جس کا مقصد سرمایہ دارطبقے کو خوش کرنا ہے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو اجاڑا جا رہا ہے ان کی باز آباد کاری نہیں کی جارہی ہے اس کے خلاف بھی ہم آواز بلند کر رہے ہیں۔
سوال: پارٹی کو اس وقت خارجی اور داخلی سطح پر کن چیلنجوں کا سامنا ہے ؟
جواب: داخلی سطح پر دو طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے اول تو یہ ہے کہ ہماری پارٹی میں زیادہ تر ایسے لوگ آئے ہیں جو پہلے کسی سیاسی پارٹی میں نہیں تھے ، کسی این جی او میں تھے کسی اور شعبے میں کام کر رہے تھے ، کسی ملی تنظیم سے وابستہ تھے انہیں سیاسی میدان میں کام کرنے کا تجربہ نہیں ہے لیکن جذبہ ہے ، صلاحیت ہے ، کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر سیاسی کیڈرس کی تربیت کرکے انہیں سیاسی کام کرنے کے لائق بنائیں،ہمارے سامنے دوسرا چیلنج یہ کہ ہمارے پاس سیاسی میدان سے جو لوگ آرہے ہیں ہم انہیں اقدار پر مبنی سیاست کرنا سکھائیں اپنی پارٹی کے نظریے کے عین مطابق ان کی ذہن سازی کریں۔ تیسرا بڑا چیلنج ہمارے سامنے یہ ہے کہ ہماری پارٹی اس دعوے کے ساتھ میدان میں آئی ہے کہ ہم بدعنوان ،موقع پرست سیاسست کا جواب ہیں ، متبادل ہیں ، جب ہم یہ کہتے ہیں تو ہمیں ہر سطح پر پالیسی کے میدان میں بھی متبادل پیش کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ ہماری خارجہ پالیسی کیا ہوگی ،ہماری ایجوکیشن پالیسی کیا ہوگی ،ہماری معاشی پالیسی کیا ہو گی ، ہماری ترقیاتی پالیسی کیا ہوگی ، ہماری صحت پالیسی کیا ہوگی تو اس وقت ہم ہر سطح پر اپنی پالیسی تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کی معاشی پالیسی چاہتے ہیں۔ الغرض ہم ملک کے سامنے ملک میں رائج موجودہ تمام پالیسیوں کا متبا دل پیش کریں گے ۔
ہمارے سامنے خارجی چیلنج ملک میں فرقہ پرستی کی موجودہ سیاست کا ہے۔ بر سر اقتدار پارٹی ہندو ووٹ کو پولرائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس کے جواب میں ہمارے درمیان بھی ایسی پارٹیاں کھڑی ہو رہی ہیں جو مسلمانوں کا کمیونل پولرائزیشن چاہتی ہیں۔ ایسی پارٹیاں وقتی طور پر کچھ کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں جسے دیکھ کر ہمارے درمیان سے بھی کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ یہی راستہ بہتر ہے۔ اس سے مسلمانوں میں جذ باتیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ مسلم کمیونلزم درست نہیں ہے اس سے ہندوستانی مسلمانوں کا بھیانک نقصان ہوگا ۔ اس سے سماج میں صف بندی پیدا ہو گی اور ٹکرائو ہو گا اور اس بڑے پیمانے پر انتشار پیدا ہوگا، اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست مذہب اور ذات کی بنیاد پر ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔
سوال:آپ اپنی پارٹی کا تعارف ملک میں مسلم پارٹی کے طور پر کرانے کی بجائے ایک ایسی پارٹی کے طور پر جس کی پہچان عام سیاسی جماعت کی ہو کیسے کریں گے۔ جبکہ ماضی میں جتنی بھی پارٹیاں مسلمانوں کے ذریعے قائم کی گئیں سبھی کا تعارف مسلم سیاسی جماعت کے طور پر ہوا ؟
جواب: ویلفیر پارٹی آف انڈیا ایک آزاد پارٹی ہے ، دستوری طور پر اس پارٹی کا کسی مسلم جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سچائی صرف یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے پہلی بار اپنے ارکان کو کچھ شرطوں کے ساتھ کسی پارٹی سے وابستہ ہونے کی اجازت دی ہے۔ جماعت اسلامی نے پہلی بار اپنے ان ارکان کو جو اس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں یہ موقع دیا ہےکہ اگر انتخاب لڑنے کا موقع ملتا ہے تو وہ انتخاب بھی لڑ سکتے ہیں ، اس سے یہ سمجھ لینا کہ جماعت اسلامی پارٹی کو چلا رہی ہے صحیح نہیں ہے اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ اس پارٹی کی قیادت صرف مسلم افراد ہی کر رہے ہیں کیونکہ آپ دیکھیں ہماری مرکزی ٹیم میں ہمارے تین نائب صدر ہیں جس میں دو غیر مسلم ہیں ، ہمارے چار سکریٹری ہیں جن میں دو غیر مسلم ہیں۔ ہماری کیرلا کی ریاستی ٹیم میں چودہ میں سے 9ضلع صدر غیر مسلم ہیں اور ورکنگ کمیٹی کے32 ارکان میں سے 16 غیر مسلم ہیں۔ گویا پارٹی میں غیر مسلمین کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے۔ دوسری بات سمجھنے کی یہ ہے اس وقت سیاسی میدان میں سب سے زیادہ بے وزن و بے وقعت مسلمان ہیں ہر ذات اور طبقے کی اپنی پارٹی ہے اس لیے فطری طور پر اس کے قریب آنے والے زیادہ تر مسلمان ہوں گے۔ اب اگر ہماری پارٹی میں مسلمان زیادہ نظر آرہے ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مسلم پارٹی ہے بلکہ مسلمانوں کو ہی سب سے زیادہ اس وقت سیاسی سر پرستی کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک کا مسلمان یہ محسوس کر رہا ہے کہ سبھی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کا ووٹ تو لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کے مسائل سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ لوگوں کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ویلفیر پارٹی ان کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے اس لیے مسلمان ویلفیر پارٹی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ پارٹی نے اب تک جن ایشوز پر آواز بلند کی ہے ان سب کا تعلق عام لوگوں سے تھا ہم نے مرکزی سطح پر یو اے پی اے کے خلاف تحریک چلائی۔ ابھی حالیہ دنوں میں متناسب نمائندگی کے مطالبے کو لے کر آواز بلند کی ہے ان دونوں ایشوز کا تعلق سبھی کمزور طبقات سے ہے۔ملک کے مسلمان ویلفیر پارٹی کو جائے پناہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

0 comments