28/07/2017


'نیوز لانڈری ڈاٹ کام' جس نے اندریش کمار کی بولتی بند کردی ، جناب انٹر ویو درمیان میں ہی چھوڑ کر چلے گئے ؛ یہ دیکھ کر کرن تھاپر کا 2007 کا وہ انٹر ویو ذہن میں تازہ ہوگیا جس نے مودی جی کی پیاس بڑھادی تھی

نئی دہلی :  (ایشیا  ٹائمز / ابو انس کی رپورٹ ) اگر آپ سے کوئی پوچھے  کہ گوشت اور 'مانس' میں کیا فرق ہے تو آپ کا جواب ہوگا کہ یہ صرف زبان کا فرق ہے اردو میں گوشت کہتے ہیں اور ہندی میں 'مانس' کہا جاتا ہے ۔ لیکن آپکا یہ جواب آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے  سربراہ اندریش کمار مسترد کرتے ہیں ،

 انہوں نے اپنے طور پر معنیٰ فہمی  کی الگ ڈکشنری تیار کر لی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گوشت کا مطلب  گائے کا گوشت اور مانس کا مطلب بھینس کا گوشت ہی ہوتا ہے اسی ضد پر قائم رہتے ہوئے  وہ 12 جولائی کو نیوز لانڈری ڈاٹ کام  کا انٹر ویو درمیان میں ہی چھوڑ کر چل دیے ۔ اینکر اتل چورسیا کے ساتھ ایک خاص انٹر ویو میں جناب اسی بات پر جناب ناراض ہوگئے ۔

 وہ اینکر کو یہ سمجھانے پر بضد تھے کہ گوشت کا مطلب گائے کا گوشت ہی ہوتا ہے اینکر نے جب استفسار کیا کہ یہ صرف زبان کا فرق ہے تو وہ ناراض ہوگئے ۔  ساتھ ہی اینکر نے ان کے تمام دعووں کو  سائنسی پیمانے پر ثابت کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس پر وہ بری طرح ناراض ہو گئے ۔

 

 دیکھیں : نیوز لانڈری  ڈاٹ کام'  جس نے  اندریش کمار کی بولتی بند کردی

یہ پہلا موقع نہیں ہے  جب  درمیان انٹر ویو ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں اس سے قبل  2007 میں سینئر جرنلسٹ  کرن تھاپر نے نریندر مودی سے  گجرات فسادات کے تعلق سے  ایک خصوصی انٹرویو 'ڈیولس ایڈوکیٹ' سی این این آئی بی این نیوز چینل   کے لیے لیا تھا۔ جس میں کرن تھا پر نے  گجرات فسادات کے تعلق سے مودی جی سے کچھ سخت سوالات کر دیے  تھے ۔

اس وقت انہوں نے بھی کرن کو پہلے تو سمجھانے کی کوشش کی اور کرن کے استفسار  پر انٹر ویو درمیان  میں ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے  ۔

کیا آپ نے غور کیا دونوں واقعات میں ایک بات  مشترک ہے ، وہ یہ کہ آر ایس ایس کے قبیلے کے  لوگ جب اپنی کٹھ ہجتی کو ثابت نہیں کر پاتے ہیں تو وہ  اس طرح کے حالات پیدا کر دیتے ہیں ۔

 مودی جی نے کرن تھاپر سے کے سوالات پر کہا تھا "  کرن دیکھو میں دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہوں آپ بھی اس کی کوشش کیجئے، یہ وقت پرانی باتوں کو دہرانے کا نہیں ہے۔ آپ 2002 اور 2003 میں مجھ سے ملے ہوتے، ہماری آپ کی دوستی بنی رہے بس میں یہی چاہتا ہوں، برائے کرم ایک گلاس پانی پلائیں"۔ اور اٹھ کر چل دیے ۔

 

اس سے قبل مودی جی  نے نیوز لانڈری کے طے شدہ انٹر ویو میں آخر وقت میں مصروفیت کا بہانہ بنا کر منع کر دیا تھا ۔  

 یہ انٹر ویو نیوز لانڈری کے شکریے کے ساتھ ایشیا ٹائمز شائع  کر رہا ہے ۔

ناظرین اسے دیکھ کر خود یہ فیصلہ کریں کہ اینکر نے موصوف کی شان میں کیا گستاخی کر دی تھی؟

 

 





دیگر خبروں

2
3
4