18/10/2017


محدث عصر مولانا ریاست علی بجنوری کی وفات

ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند کے موقر استاذ حدیث حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صبح انتقال کر گئے،بعد نماز ظہر دارلعلوم دیوبندکے احاطہ مولسری میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مزار قاسمی میں تدفین عمل میں آئے گی۔
واضح رہے کہ مولانا اْم المدارس دارالعلوم دیوبند میں تقریبا چالیس سالوں سے تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے،وہاں کے انتہائی موقر ،سینئر اور اہم استاذ تھے ، انتظام وانصرام میں بھی آپ کا خصوصی عمل دخل رہتا تھا،دارالعلوم دیوبند کی مجلس علمی کے بھی آپ اہم ترین رکن تھے ،طلبہ اور اساتذہ آپ سے ہمیشہ قریب رہتے تھے،آپ کی شخصیت کے ساتھ آپ کا درس بھی بہت مقبول تھا،دارالعلوم دیوبند کا مشہور ترانہ’’ یہ علم وہنر کا گہوارہ تاریخ کا وہ شہ پارہ ہے‘‘آپ ہی کا لکھاہواہے ،آپ محدث اور اسلامیات کے ماہر ہونے کے ساتھ ایک باکمال ادیب بھی تھے ،اردو عربی دونوں زبانوں کے ادب پر آپ کو یکساں عبور حاصل تھا ۔ 
اتر پردیش میں واقع ضلع بجنور آپ کا وطن اصلی ہے لیکن عرصہ دراز سے آپ دیوبند میں ہی مقیم ہوگئے تھے ،آپ دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث اور مشہور عالم دین حضرت مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ کے خصوصی شاگرد تھے ،کئی ایک کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
گذشتہ کافی دنوں سے آپ سخت علیل تھے اور متعدد ہسپتالوں میں علاج بھی کرایاگیا،آج صبح 75 کی سال عمر میں دنیابھر میں پھیلے اپنے ہزاروں شاگرددوں او ر عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دارفانی سے رخصت ہوگئے ہیں۔
نماز جنازہ اور دیگر امور کے بارے میں مزید تفصیل کیلئے مولانا سعد ان سے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتاہے

بہ شکریہ ملت ٹائمز





دیگر خبروں

2
3
4