18/10/2017


مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے: روہنگیا مسلمان اور مسلم ممالک

مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے: روہنگیا مسلمان  اور مسلم ممالک 

مرزا انوارالحق بیگ۔


ایک جنگل میں شیر کے  مرنے کے بعد  جانوروں نے سوچا کہ اب ہم شیروں  کی  حکومت سے بےزار آگئے ہیں، تبدیلی آنی چاہیے،   جنگل کے دیگر جانوروں کو بھی موقع ملنا چاہے  ۔ اور  فیصلہ کیا کہ اگلا  بادشاہ  ایک بندر ہو گا۔ بندر بادشاہ نے ابھی تخت سنبھالا ہی تھا کہ ایک ہرنی فریاد کرتی ہوئی آ گئی۔ کہنے لگی کہ ”بادشاہ سلامت! آپ کے راج میں بھڑیا  میرے بچے  کو اٹھا کر لے گیا ہے، بادشاہ سلامت اس کی جان بچائیں“۔ بندر سنتے ہی  اسے دلاسہ دینے لگا کہ تم بے فکررہو میں  ابھی عملی اقدامات کرتا ہوں۔وہ اسی وقت  بہت رفتار سے  ایک درخت سے دوسرے درخت  پر چھلانگیں مارنے لگا۔ہرنی اس  کی یہ لگن اور جذبہ دیکھ کر متاثر ہوئی اور چلی گئی ۔کچھ لمحہ بعد وہی ہرنی روتی ہوئی آئی اور کہنے لگی کہ" بادشاہ  صاحب  وہ پڑوس کا بھیڑیا  میرادوسرا  بچہ بھی لے گیا،  کچھ کیجئے"۔ اس پر بندر نے کہا   میں یہ ہونے نہیں دونگا میں ابھی کچھ کرتا ہوں یہ کہہ کر اس  نے  ایک مرتبہ پھر فوراً تیزی کے ساتھ ایک درخت سے دوسرے درخت پر ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگانی شروع کردیں جبکہ اس دوران وہ ہرنی اپنے بچوں کی جانب چلی گئی ہرنی کے جانے کے بعد بندر بھی خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ لیکن کچھ دیر بعد پھر  وہی ہرنی روتی ہوئی آئی اور کہنے لگی کہ  جناب بادشاہ  صاحب میں کہاں جاکر فریاد کروں، بھیڑیا ایک ایک کر کے میرے سارے  بچوں کو کھا گیا اور اب وہ جنگل میں دندناتا پھر رہا ہے کوئی اس کو کچھ نہیں کہتا “ یہ سن کر بند ر نے ایک بار پھر زوردار بھڑک ماری کہ میں سب کو دیکھ لونگا اس کے بعد پھر تیزی کے ساتھ ایک شاخ سے دوسری شاخ اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگانے لگا۔ کچھ دیر کے بعد بندر نیچے آیا اور ہانپتے ہوئے کہنے لگا" تم نے دیکھا کہ میں نے کتنی محنت کی ہے میں کس طرح بھاگ دوڑ کررہا ہوں، تمہارے بچوں کو بچانے کے لئے بھی میں نے اسی طرح کتنی ہی کوشش کی لیکن کیا کروں میری ساری کوششوں کے باوجود تمہارا بچہ نہ بچ سکا تو اس میں میرا کیا قصور؟ میں نے تو اپنی پوری محنت کی نا!“ ہرنی یہ سن کر کچھ لمحوں کے لئے تو حیران رہ گئی اور پھر یہ کہتی ہوئی وہاں سے چلدی کہ "جناب آپ کا قصور نہیں ہے قصور تو ہمارا ہے جو آپ کو بادشاہ  بنایا جب بندروں کی حکومت ہوگی تو وہ سوائے اچھل کود کرنے کے کچھ بھی نہیں کرسکتے“۔

 

 کیا یہ کہانی روہنگیا مسلمانوں پر   بڑھتے ہوئے مظالم و نسل کشی  اور ان کے حق میں کئے  جانے والے'اقدامات'، بیانات  اور کچھ مسلم حکمرانوں کی موجودہ روش  پر  چسپاں نہیں ہوتی ہے؟  ایک طرف روہنگیا  مسلمانوں کی حالت زار،دوسری طرف  مسلم  دنیا فرضی خبروں سے مطمئن  کہ ترکی وایران کا اعلان جنگ اوران کی فوجیں مسلمانوں کی مدد کے لئے  میانمار کی سرحد میں  داخل ہو گئیں!  اور یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ سعودی عرب نے  روہنگیا  مسلمانوں  کے لئے بہت بڑا قدم اٹھا لیا ہے اور ایک ملین یعنی دس لاکھ روہنگیا  مسلمانوں کو اپنے یہاں اقامہ دے دیا ہے۔  سوال یہاں  یہ پیدا ہوتا ہے کہ مالدیپ جو کہ تمام مسلم ممالک میں  سب سے چھوٹا  ملک ہے ، ظلم کے خلاف میانمار  کا تجارتی مقاطعہ کرسکتا ہےتو سعودی عرب ،ترکی، ایران اور دیگر مسلم ممالک ظلم کو روکنے  کے لئے میانمار   جیسے دنیا کے پسماندہ ترین ملک سے  کیوں سفارتی تعلقات ختم نہیں کرسکتے؟  دھمکی بھی نہیں  دے سکتے؟  کم از کم وہ ممالک جو ان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، ریلیف  اور آواز سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات سے کیوں  قاصر ہیں اور اب بھی  میانمار  سے خوش گوار سفارتی و تجارتی تعلقات بنائے ہوئے ہیں؟  اس کے بر خلاف حالیہ دنوں میں  قطر کی حکومت نے امریکہ کے بحری طوفان کے متاثرین کے لیے 3کروڑ ڈالر امداد دی ہے اور متحدہ عرب امارات نے بھی ایک کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، شاید ان کی نظر میں امریکہ مدد کا زیادہ  مستحق ہے۔ابھی تک ان ممالک کی طرف سے روہنگین مسلمانوں کے لیے کوئی اعلان نظر سے نہیں گزرا۔

تو ادھرادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا                            مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے

 

یہ بات اب 'عام سادہ لوح مسلمانوں' کے سامنے واضح ہوتے جارہی ہے کہ کوئی مسلم ملک یہاں تک کہ سعودی عرب ، ﺍﯾﺮﺍﻥ و ﺗﺮﮐﯽ مظلومین کی مدد کے لئے میانمار یا کسی غیر مسلم ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ عام مسلمان جو 'بد قسمتی ' سے ' امت مرحومہ'  کا حصہ ہیں اپنے 'حسن ظن' کے مطابق مسلم بھائیوں سے جن کو اللہ نے اقتدار سے نوازا ہوا ہے، کم سے کم اتنی توقع  رکھتے ہیں  کہ مظلوموں کی مدد کے لئے ان کی فوجیں پہنچے گی، اسی بنا پر بلا تحقیق وہ اس خبر کو خوب پھیلا رہے تھے کہ' ایران اور ترکی نے اعلان جنگ کردیا اور انکی فوجیں میانمار کی سرحد میں داخل ہوگئیں 'یا 'میانمار میں انھوں نے فوجی کارروائی کا ارادہ کرلیا ہے یا  یہ زیرغور ہے'۔ اور 'سعودی عرب نے بھی کوئی بہت بڑا قدم اٹھالیا ہے'۔ میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ بے بسی سے تاریخ کا بدترین ظلم اور نسل کشی کا نظارہ کرتے ہوئے  یہ بے چارے عام مسلمان ،مسلم ممالک کی جانب سے کوئی بڑی کارروئی کی توقع کررہے تھے۔ ان کے نظر میں یہ ایمانی غیرت و حمیت کا تقاضہ تھا۔ ظاہر ہے ایسی تمام خبریں من گھڑت اور بے بنیاد تھیں۔ فی الحال کوئی مسلم ملک اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یعنی اپنے زیر اقتدار مسلم بھایئوں سے اس قسم کا 'حسن ظن' رکھنا عبث ہی نہیں بلکہ گناہ ہے؟   اس خوش فہمی سے عوام کو نکلنے میں ہی بھلائی ہے۔ اس کے بر عکس   ان سے یہ توقع تو کی جاسکتی  ہے کہ 'عالمی طاقتوں 'کے ساتھ مل کر یا ان کے اکسانے پر اپنے ہی کسی برادر مسلم ملک یا مسلمانوں پر چڑھ دوڑے اور اسکو کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں۔


میانمار کے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم   کے سلسلے میں ،  ایک  بڑا مسلم ملک ،   جو سب سے زیادہ فکر مندمحسوس ہوتا ہے ، اور عوام کے دلوں میں بھی اس کے لئے اسی وجہ سے  قدر اور  توقعات  ہیں۔ لیکن اُسکا  بھی یہ حال ہے کہ  جہاں مسلم ممالک پر چڑھائی کرنے کا معاملہ آیا تو  دیر نہیں کی اور اپنی فوجیں روانہ کردی ، لیکن  جب معاملہ مظلوم  روہنگیا مسلمانوں کا آگیا وہاں خاتون ِ اول یا صدر مملکت  کی بیوی  کو بھیج دیا وہ بھی میانمار نہیں بلکہ بنگلادیش میں آباد رفیوجیوں پر اظہار ہمدردی کرنے۔ جہاں  تک دوسرے  ممالک میں آباد ان رفیوجیوں پر اظہار ہمدردی ، دعائیں اور مالی امداد کا کام ہے تو ماشاء ا للہ یہی 'عام سادہ لوح مسلمان' بحسن و خوبی  اسے انجام دے رہے ہیں ۔ ایک طاقت ور سربراہِ ملک  بھی یہی کام کرنے لگے تو  بے بس عوام اور حکمراں میں کیا فرق رہ جائےگا؟  

 

ایک دوسرا بڑا مسلم ملک جو اپنے آپ کو تمام مسلمانوں کا قائد اور 'خادمِ اعظم' تصور کرتا ہے ،  اسکا یہ حال ہے کہ اپنے ہی برادر ملک پرعرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اُسکا  اتنا زبر دست بائیکاٹ کر دیا کہ جنگ تک  کی نوبت آنے کو ہے۔ صرف اس لئے کہ اُس ملک کے دل میں دنیا کے مظلوم اور دین پسند  مسلمانوں ( مطلب تحریکات )کے تعلق سے نرم گوشہ ہے؟  

 

تیسرا بڑا ملک جو 'اسلامی انقلاب' کا الم بردار اور نقیب ہے، اسکا  بھی  حال سن لیجئے۔ وہ ایک ایسے سفاک شخص و حکومت  کا سب سے بڑا محافظ اور حواری بنا ہوا ہے، جس نے تقریباً روہنگیا مسلمانوں کی کل آبادی کے برابر اپنے ہی شہریوں کو ہلاک اور  تباہ و برباد کردیا،  اور جو مسلمانوں کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی  اور بد ترین خانہ جنگی کا سبب بنا ہوا ہے۔یعنی ہمارے حکمرانوں کا رویہ اس قرآنی حکم جس میں کہا گیا کہ مومن  " کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں"، جس کو اقبال نے یوں بیان کیا  ہے کہ 'ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم             رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن'        کے بالکل برعکس  ہے۔

 

   ایک ملک وہ بھی ہے جسے    'مملکت خدا داد ' بھی کہا جاتا ہے اور جسے اللہ نے 'اتفاق'  سے تمام مسلم ممالک میں واحد   ایٹمی طاقت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور  دنیا کی  طاقتور ترین افواج میں اس کا گیارہواں نمبر ہے۔  اسے اپنی حیثیت کا پتہ ہی نہیں ہے   یا تو اس نے اسے پٹاخہ سمجھ لیا ہے یا اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں ہے  کہ  وہ دنیا کی سات بڑی طاقتوں میں شامل ہو گیا ہے۔  یعنی خواب خرگوش سے جاگنے کو تیار ہی نہیں ہے۔   اسکا حال اس لنگور کی طرح ہے جس کے ہاتھ حور لگ جائے اور وہ اس کے خمار سے اس وقت تک باہر نہ آئے، جب تک کہ طوفان ہر چیز کو تہ و بالا کرکے اجاڑ نہ دے۔ باقی ماندہ ملکوں کا شمار و قطار ہی کہاں ؟  ان خیالات کو  آپ طنز کہیں  یا تلخ   با تیں، لیکن ہیں  حقائق  اور امت مسلمہ  ان حقائق  سے  راہ فرار  اختیار نہیں کرسکتی۔

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر                                        حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے

 

جب کہ اللہ نے مسلم حکمرانوں اور صاحب اقتدار مسلمانوں کو  واضح اعلان فرمادیا   کہ"مسلمانوں!تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں ان بے بس مردوں، عورتوں اوربچوں کے لئے نہ لڑو، جو یہ دعا کررہے ہیں کہ اے پروردگارہمیں اس بستی سے نکال لائیے جس کے باشندے ظلم توڑرہے ہیں اورہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیئے اورہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگارکھڑاکردیجئے”.(سورۃ النساء:75)۔  اللہ کا مسلم حکمرانوں کویہ حکم ان تمام مظلوموں کے لئے ہے  جو ظالموں کی بستی میں اللہ کومدد کے لئے پکاررہے ہیں. ایسے میں ان  حکمرانوں پرفرض عائد ہوتا  ہے کہ ان کی مدد کو جائیں۔  یہ حکم عام مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ یہ حکمرانوں  سے ہے  اور  یہ ان کے فریضہ میں شامل ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر رہے  ہیں تو بہت بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ اور مظلوموں پر  ظلم میں  برابر کے شریک ہیں۔  یہی وجہ تھی  کہ جاج بن یوسف جیسا تاریخ کا ظالم اور جابر شخص بھی  سندھ  سے ایک مظلوم عورت کا  خط  پڑھ کر  تڑپ اٹھا اور تمام تر نا مساعد حالات کے با وجود   اپنے ہی سگے نو عمر بھتیجہ و  داماد محمد بن قاسم کو  صرف چند ہزار کی فوج دے کر راجہ داہر کی لاکھوں کی افواج سے  لڑنے کو بھیج دیا ۔ تاکہ مظلوم مسلمانوں کو نجات دلائی جا سکے۔عباسی دورِ خلافت کا  واحد ان پڑھ حکمران معتصم باللہ    کی غیرت کا   واقعہ بھی سن لیجئے،   جب اسے روم  میں  ایک مسلم  خاتون  کے ساتھ  ظلم  کی داستان  سنائی گئی تو   رو کر  کہنے لگا کہ معتصم تم کہاں ہو، اور یہ اعلان کردیا کہ اے میری بہن  میں آ رہا ہوں!   نجومیوں  اور فالگیری  کرنے والوں نے اسے   یہ کہہ کر روکنا چاہا کہ   ابھی مناسب  وقت نہیں ہے ۔ نجومیوں   کا   بڑا قائل ہونے کے با وجود اس نے   انھیں ہمیشہ کے لئے دربار سے نکال دیا  اور اعلان جنگ کر تے ہوئے یہ تاریخی  جملہ کہا کہ " وہ کون بے غیرت ہوگا، جس کی بہن مدد کے لئے اسے پکارے  اور اسے کہا جائے کہ بیٹھ جاؤ  یہ منحوس  وقت ہے وہ بیٹھا آنسو بہاتا  رہے"۔   یہ حال تو ان  مسلم جابر  اور جاہل حکمرانوں  کی غیرت کا  ہے۔ تو  سوچیے  کہ خلفائے  راشدین  اور عادل حکمرانون کو  کیا  حال رہا ہوگا  ۔

 

یہ کہا جاتا ہے  کہ اگر سعودی ،  ترکی ، ایران یا  دیگر  بڑے مسلم ممالک  میانمار   کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھاتے ہیں  تو امریکہ یا دیگر بڑے ممالک ان  کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،   اور ان کی ترقی رک جائے  گی، ان کو   کھنڈر بنا دیا جائے گا یا  صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ یہ سب      غیر اسلامی ، غیر انسانی  خدشات  ہیں اور  غلام ذہنیت  کی عکاسی کرتے ہیں۔ میانمار- امریکی تعلقات سالوں سے نرم گرم چلے آرہے ہیں۔ 2012 کے بعد تھوڑا   improve ہو ئے،  ورنہ اس سے پہلے تک،   دونوں کے سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے۔ لیکن ابھی بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئے۔ کچھ  ایسے ہی  نرم گرم تعلقات  چین کے ساتھ  چلے آرہے  تھے ، لیکن  حالیہ بیان میں  چین نےمیانمار کے مسلم اکثریتی  اراکان  ریاست میں ‘crackdown’  کی حمایت کرکے اپنے موقف  کو واضح  کردیا ،  اور شاید اقوام متحدہ  کے حالیہ  جنرل اسمبلی   کے   اجلاس،  جس میں  میانمار کے مظالم  پر بحث ہونی ہے ، اس کے خلاف قرار داد کو چین   veto کر دے۔ اقوام متحدہ ایک   ایسا toothless     فورم ہے جس میں پانچ بڑے ممالک کو  veto کا حق حاصل ہے،   یعنی فیصلہ کرنے کا  مکمل اختیار  ان ہی پانچ مالک کے پاس ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کرتے ہیں۔    بقیہ 190 کے قریب ممالک  کی حیثیت  ناظرین  سے زیادہ نہیں ۔ اور ہا ں ان پانچ با اختیار ممالک میں کوئی بھی مسلم ملک نہیں ہے ۔ اس لئے مسلم ممالک  ، مسلمانوں کے حق میں  فیصلہ نہیں کر وا پاتے۔  حالاں کہ تمام 57  مسلم ممالک کی کل آبادی تقریباً  170 کروڑ   کے آس پاس ہیں یعنی دنیا کی کل آبادی کا  ایک چوتھائی۔کئی مسلم ممالک معاشی ، عسکری، سیاسی لحاذ سے بہت طاقتور ہیں۔ حالیہ دنوں میں  57  مسلم ممالک کے  مشترکہ فورم OIC  کے اجلاس  میں  حسب معمول میانمار  میں ہورہے مظالم کی مذمت کی گئی ۔ لیکن یہ  فورم بیان بازی سے آگے  ظلم کے سد باب کے لئے کوئی موثر قدم اٹھانے سے  بالکل ناکام رہا ہے  ۔

 

 آپس میں ذرا   ذرا سی بات   پر سفارتی و تجارتی تعلقات  ختم کردینے والے یہ  مسلم ممالک ،  غیر مسلم اکثریتی  ممالک میں مسلمانوں پر  مظالم  کا پہاڑ بھی ٹوٹ جائے تو اِن پر جوں تک  نہیں رینگتی۔  اگر یہ  کسی طرح کی   کوئی عسکری کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو    کیا سفارتی و تجارتی تعلقات  ختم کرنے  یا اپنے یہاں سے برمی ملازمین اور لوگوں کو نکالنے کی دھمکی بھی نہیں دے سکتے ؟ ان کی بے حسی کی وجہ سے روز بروز  مسلم اقلیتوں کے ساتھ دنیا بھر میں ظلم و زیادتی  بڑھتی جا رہی ہے۔اقلیتوں کے  ساتھ اچھا یا برا   سلوک  کا  گہرا تعلق ان مسلم ممالک سے   وابستا ہے۔ جتنی موثر اور طاقت ور ان کی  آواز  اور کارروائیاں ہوگی اتنا اچھا   سلوک اقلیتوں  کے ساتھ  روا رکھا جائے گا۔ جب  ظالموں کو  کسی کارراوئی  کا خوف ہی نہیں ہوگا،  تووہ  ظلم سے کیوں باز آئیں گے؟ کب یہ مسلم حکمران  ، عالمی غلامی کے زنجیروں سے آزاد ہوں گے تاکہ مظلوموں کی فریاد سن سکے؟

 

مسلم ممالک کی جانب سے  کوئی موثر   قدم نہ اٹھانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے  کہ یہ ممالک یا تو امریکہ  یا  پھر روس کے مضبوط اتحادی بنے ہوئے  ہیں ۔ اگر ترکی کی بات کی جائے  جس کی  اس طرح کے مظالم  کے خلاف سب سے بلند  آواز ہے ، وہ فی الوقت امریکہ و یورپ کے ساتھ اتحاد میں شامل  ہے۔  اور وہ  ان کا  افغانستان، عراق اور شام کی فوجی کارروائیوں  میں اول  روز سے مکمل عسکری ساتھ دے رہا ہے ۔اور   عالمی امور میں جو کہا  جارہا  ہے وہ   کرنے پر مجبور  نظر آتا ہے۔ تقریباً  یہی حال  ایران ،سعودی اور پاکستان کا ہے ۔ کسی نہ کسی محاذ پر یہ ممالک  امریکہ  یا روس کے اتحادی  بن کر اپنے ہی برادر مسلم ملک کے خلاف  لڑ رہے ہیں ۔ اصل مجبوری ان ممالک کی یہ ہے کہ جب امریکہ اور  روس  کی مرضی ہوگی تب ہی یہ کوئی قدم اٹھا سکتےہیں ۔ ان کی اس روش  سے ایک طرف عالم اسلام  بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہو رہا ہے اور دوسری طرف بہت تیزی مسلم مملکتیں  غلامی کی طرف سے بڑھ رہی ہیں۔

 

رو ہنگیا مسلمانوں  کا مسئلہ اب بہت پیچیدا  بن چکا ہے ، اسکا  واحد   اور دیر پا حل ان کے لئے علیحدہ اور خود مختار ریاست کا قیام ہے  ۔ یہ مظالم  کوئی نئے  نہیں ہیں  بلکہ تقریباً  دو سو سالوں سے ، وقفہ وقفہ سے ان کے ساتھ ہو رہے ہیں اور  ان کا انخلا بھی بار  بار ہو تا رہا ہے۔ میانمار کی حکومتیں بدل جاتی ہیں،  لیکن ان پر  مظالم  نہیں ختم ہوتے ہیں ۔  حالاں کہ ان کا وطن  صدیوں سے   ریاست اراکان  رہا ہے اس کے  با وجود ان  کی شہریت تسلیم نہیں کی جاتی  ہے ۔ ایک وقت وہ  بھی تھا جب میانمار سمیت رنگون اور اراکان   ریاستیں ، ہندوستان کی مغلیہ  سلطنت میں شامل تھیں۔ ساتھ ہی  صدیوں تک اراکان ایک  آزاد اور خود مختار سلطنت  رہی اور  جوکہ مسلمانوں  کے زیر اثر تھی  ۔

 

  حاصل بحث یہ ہے کہ  جس طرح مشرقی تیمور ، جنوبی سوڈان  اور  قبرص کو وہاں کی عیسائی  آبادی کے مطالبے  کو تسلیم کرتے  ہوئے عالمی اداروں  نے مسلم مملکتوں سے توڑ کر  انھیں  آزاد ریاستوں کا درجہ دلا دیا ۔  اس وجہ سے کہ  وہاں کی اکثریت عیسائی  تھی لیکن  مملکتیں   مسلم؟  اسی طرح   بے خانمہ روہنگیاآبادی، جن کو  اپنے ہی ملک میں  نسلی  تطہیر  کا سامنا  ہے ، کو  ظلم سے نجات اور جائز حق دلانے  کے لئے   مسلم ممالک  اس سمت میں   موثر  پیش قدمی کرے۔ صرف ان کی مالی امداد کر دینا اور دیگر ممالک میں انھیں  وقتی پناہ دے دینا، یا ظلم کی مذمت کرکے   ان کے لئے دو آنسو بہا دینا  مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے ۔

٭٭٭٭٭





دیگر خبروں

2
3
4