26/09/2017


مودی سرکار کے تین سال: سوال اور خواب

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پارلیمانی انتخاب2014 میں نریندرمودی نے ساٹھ مہینے مانگے تھے۔ اس وعدے کے ساتھ کہ ساٹھ سال میں جو نہیں ہوا وہ کردکھائیںگے۔ہر سال ایک کروڑ روزگار ملیںگے۔ کسانوں کو ان کی فصل کی صحیح قیمت،قرضوں سے چھٹکارا، کھیتی کیلئے بجلی اور پانی، کسانوں کی حالت سدھرے گی، خودکشیاں رکیںگی، بے گھروں کو گھر، غریبوں کو مفت گیس اور چولہا، مزدوروں کو مناسب مزدوری، دہشت گردی اور نکسلواد پر لگام لگے گی۔ بدعنوان ڈریںگے اور مہنگائی کم ہوگی، غریب کی تھالی میں کھانا ہوگا۔ عورتوں، بچوں اور عام لوگوں کی حفاظت کا پختہ انتظام ہوگا۔ بے چارگی کے دن ختم ہوںگے، اچھے دنوں کی شروعات ہونے والی ہے۔’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ اسی کو چناوی ٹیگ لائن بنایاگیا تھا۔ کرپشن اور کالی دولت خاص مدعے تھے۔ تقریباً ہر چناوی ریلی میں کہا جاتا تھا کہ بلیک منی ملک واپس آئے گی، ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ جمع ہوںگے۔

دہلی کا سفر آسان اور سہولت بھرا ہوگا۔ گڈ گورنینس سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہوگی وغیرہ۔ اسی کو ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا نام دیاگیا۔ یہ سودا مہنگا نہیں تھا۔ عوام نے نہ صرف ساٹھ مہینے دینے کا من بنایا بلکہ تاریخی اکثریت کے ساتھ مودی جی کی قیادت میں بھاجپا کی سرکار بنوادی۔تین سال پورے ہونے پر سرکار اور بھاجپا نے تشہیر کا وسیع منصوبہ بنایا۔ کارکردگی بتانے کے نام پر 900 شہروں میں جشن منایا جانا ہے۔ اس میں مرکزی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ مرکزی وزرا کے کھانے کا پروگرام بھی شامل ہے۔ میکنگ آف ڈولپنگ انڈیا (مودی)کے نعرے کے ساتھ اس مہم کو نیو انڈیا کا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ تین سالوںپر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی اور سرکار پانچ سال کی ایک میقات سے مطمئن نہیں ہے۔ اس کی محتاط نگاہیں مستقبل پر ہیں۔ اس لئے مودی سرکار اور بھاجپا مسلسل چناوی موڈ میں ہے۔ ان کی پوری توجہ تشہیر پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ہر اسکیم اور قدم کو ایوینٹ بناکر پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنی کارکردگی کا جتنا بکھان کرتے ہیں ،اس سے کہیں زیادہ پچھلی سرکاروں کی مبینہ کمزوریوں اور غلطیوں کا چرچہ ہوتا ہے اور یہ کہاجاتا ہے کہ پچھلے ستر سال میں کچھ نہیں ہوا۔ یہ ان کی ہر تقریر کی ٹیک بن گئی ہے۔وزیراعظم اپنے بھاشن میں جوش سے بھرے نظرآتے ہیں۔ انہیں مسکراتے ہوئے شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔وہ اچھے مقرر ہیں لیکن عوام سے ان کا رابطہ نہ کے برابر ہے۔حزب اختلاف خاص طور پر کانگریس جو آندولن کی پیداوار ہے ،وہ ڈرائنگ روم سے باہر آنے کو تیارنہیں ہے۔ اسی لئے 2019 کے راستہ میں ابھی کوئی رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔کسی بھی سرکار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے تین سال کا وقت ناکافی ہے۔ لیکن اس مدت میں وعدوں اور خوابوں کو پورا کرنے کے ارادے اور منشا کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بھاجپا نے اکثریت کے باوجود انتخابات سے پہلے ہوئے گٹھ بندھن کو جاری رکھا۔ تین سال کے دوران اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ اچھی بات یہ ہے کہ نام بدل کر ہی سہی جو یوجنائیں شروع کی گئیں، انہیں پورا کرنے پردھیان دیا جارہا ہے۔ منریگا پر مودی جی نے شدید تنقید کی تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس فلاحی اسکیم کو ختم نہیں کیاگیا۔اسی طرح آدھار کارڈ کے وہ خلاف تھے لیکن ان کی سرکار نے ہر چیز کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ جی ایس ٹی کی راہ میں انہوںنے ہی روڑے اٹکائے تھے، اب وہ بھی لاگو ہونے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسی طرح مودی سرکار اور پارٹی کی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں دلچسپی ہے؟ کیا ملک کے حالات میں ایسی تبدیلی آئی ہے کہ عوام سرکار کے تین سالہ جشن میں شریک ہوسکیں؟ کیا ملک کے لوگ خود کسی جشن کے منانے کی حالت میں ہیں یا پھر یہ جشن بھی یکطرفہ من کی بات کی طرح ہے؟لوگ سوچ رہے ہیں کہ تین سالوں میں کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا؟ غریبوں کی تعدادکتنی کم ہوئی؟ تعلیم کا معیار کتنا بلند ہوا؟ جرم میں کمی آئی یا اضافہ ہوا؟ قانون وانتظامیہ کی حالت میں کیا تبدیلی آئی؟ بلٹ ٹرین کہاں تک پہنچی؟ دیش ایماندار ملکوں کی فہرست میں کتنا اوپر اٹھا؟ کسانوں کی خودکشیوں میں کتنی کمی آئی؟ سرحد پر جوانوں کی شہادت کم ہوئی یانہیں؟ نکسل واد، مائوواد اوردہشت گردی کی کمر ٹوٹی یانہیں؟ میک ان انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، ہنر کو فروغ دینے جیسی اسکیموںکا کیا حشر ہوا؟ مہنگائی کم ہوئی یانہیں، غریب کی تھالی میں کھانا آیایا نہیں، عورتوں کی حفاظت کیلئے کچھ ہوا(موجودہ قانون کی دفعات واقع ہوجانے کے بعد لاگوہوئی ہیں) عام لوگوں میں محفوظ ہونے کا احساس پیدا ہوا یانہیں۔

وزیراعظم کے بیرونی دوروں سے ملک میں کتنی سرمایہ کاری ہوئی؟ بلیک منی کی واپسی کا کیاہوا۔ نوٹ بندی سے کتنی کالی دولت باہر آئی، نکسلواد، دہشت گردی رکی یا غریبوں کی حالت سدھری ،اس کے کچھ اعدادوشمار کیا سرکار نے جاری کئے۔ عام آدمی بس یہ سب سوچ رہا ہے۔ سوال نہیں کرسکتا، سوال کرے تو کس سے؟ اس کے سوالوں کا کوئی جواب دینے والاکوئی نہیںہے؟ سرکار کو سوال کرنے والے پسند نہیں۔ میڈیا کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سوال کرے۔ گزشتہ تین سالوں میں وزیراعظم کی ایک بھی پریس کانفرنس نہ ہو، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کروڑوں لوگوںکو روزگار دینے کا دعویٰ کرنے والی سرکار اب تک صرف 14 لاکھ نوکریاں ہی نکال سکی ہے۔ سرکاری آنکڑے کے مطابق روزگار میں بڑھوتری کی شرح صرف 5 فیصد رہی ہے۔ کھیتی اور چھوٹی صنعتیں جوروزگار پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ تھیں، ان کی حالت خراب ہے۔منظم اور غیر منظم دونوں زمروں میں روزگار کم ہوئے ہیں۔ بازار میں آرہے بدلائو کو دیکھتے ہوئے 2020 تک 40 لاکھ سافٹ ویئر انجینئروں میں سے 20 فیصد اپنی نوکری گنوا دیںگے۔ انجینئروں کی مانگ لگاتار کم ہو رہی ہے۔ ایم بی اے کرنے والوں کیلئے بھی نوکریاں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے کئیکالج بند ہوچکے ہیں۔ بھارت کے 48 کروڑ مزدوروں اور دوسرے کاموں میں لگے لوگوں کے کام چھننے کا خطرہ منڈلارہا ہے۔ امریکہ اور دوسرے ممالک کی ویزا پالیسیوں میں تبدیلی  کی وجہ سے وہاں رہ رہے ہندوستانیوں کے روزگار جانے کا امکان ہے۔ اترپردیش، بہار کے اودھی، بھوجپوری علاقوں کے نوجوان بڑی تعداد میں صنعتی شہروں میں آکر چھوٹی موٹی نوکری حاصل کرتے تھے ۔نوٹ بندی کے بعد یہ پوری طرح ٹھپ ہے۔

دیہی علاقوں میںچاروں طرف بے روزگار نوجوانوں کے ہجوم دیکھے جاسکتے ہیں۔خارجہ پالیسی کے مورچہ پر مودی سرکار کی واہ واہی ہورہی ہے۔ شیئر بازار میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوںنے لوگوں میں یقین پیدا کیا ہے کہ وہ کارروائی کرنے والے لیڈر ہیں۔ سوچھ بھارت ابھیان، جن دھن یوجنا ودوسری اسکیموں کے ذریعہ انہوںنے ایک خاص شبیہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن ان کے ذریعہ لانچ کی گئی زیادہ تر یوجنائیں اوپر نیچے کے جھولے پر جھول رہی ہیں۔ بینک جو کبھی رقم جمع پر انٹریسٹ دیتے تھے، اب ہر ٹرانجیکشن کی فیس وصول کرتے ہیں۔ کسانوںکی خودکشیوں میں قابل ذکر اضافہ ہواہے۔ مہنگائی کو پرلگے، غریب کی تھالی سے کبھی دال غائب ہوئی تھی تو کبھی آلو پیاز اور کبھی سبزی ناپید،ریل کاسفر سہولت کے نام پر مہنگا ہوتا جارہاہے۔ نوٹ بندی کرتے وقت کہا گیا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ غریبوں کو ہوگا۔ نکسل واد کمزور ہوگا اور سوسے زیادہ لوگوں کی جان چلی گئی۔ نوٹ بندی کا سب سے زیادہ اثر غریبوں پر پڑا بہت سے لوگوں کا روزگار چلا گیا۔ رہا سوال حفاظت کا تواس کی صورتحال کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یوپی جہاں بھاجپا سوشاشن کے نام پر اقتدار میں آئی وہاں عصمت دری، لوٹ، ڈکیتی اور قتل کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔اتنا ہی نہیں پولس پر حملوں کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساکھ بھی بھگوا کرن کے چلتے گری ہے۔بھاجپا کی جانب سے بار بار کہا کہا جاتا ہے کہ ان کی سرکار کرپشن فری ہے۔ یاد دلادیں کہ یوپی اے کی بدعنوانیاں آرٹی آئی کے ذریعہ سامنے آئی تھیں۔ موجودہ سرکار نے اس قانون کو کمزور کیا ہے۔

چیف انفارمیشن کمشنر اور لوک پال کا تقررنہیں کیاگیا۔ کہا یہ گیا کہ لوک سبھا میں کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے۔ اس لئے لوک پال کا تقرر نہیں ہوسکتا۔ جس دن ان عہدوں پر تقرر ہوگا، اس دن سرکار کی کمیوں کا پتہ لگ پائے گا۔ سرکار خود مختار آئینی اداروں کو بھی اپنے لحاظ سے چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ فلم انسٹی ٹیوٹ ہو یا یونیورسٹیاں ،آئی آئی ٹی ہو یا الیکشن کمیشن ہر جگہ سرکار کا دخل اور منشا صاف دکھائی دیتی ہے۔ملک میں پہلی مرتبہ فوج کو آگے کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ فوجی افسران جس طرح بیان دیتے ہیں لگتا ہے جیسے کوئی سیاسی لیڈر بول رہا ہو۔ بیسیوں سال تک یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ آرمی چیف کون ہے۔ فوج کو بالواسطہ یا بلا واسطہ سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ فوج یا عوامی خدمت کے اعلیٰ افسران کیلئے یہ دروازہ بھی نہیں کھلا ہونا چاہئے کہ وہ سبکدوشی کے بعد وزیر ہوسکتے ہیں۔ لالچ کی حالت میں ان کا غیر جانب دار رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کمیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہی تشہیر کا سہارا لیا جارہا ہے، تاکہ عام آدمی کو ایسا لگے کہ سرکار کچھ کررہی ہے۔

کئی لوگ ذاتی واد، ریزرویشن کی مخالفت اور گئو رکشا کو اسی پالیسی کا حصہ مانتے ہیں۔ گئو رکشا کے نام پر دلتوں، اقلیتوں خاص طورپر بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں پر حملے اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ وزیراعظم نے دو مرتبہ ان عناصر سے سختی سے نپٹنے کو کہا۔ لیکن ان کی پارٹی کے صدر امت شاہ نیخود ہی مودی کے بیان  کے اثر کو کم کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی اور سرکار اس ماحول کو2019 تک بناکر رکھنا چاہتی ہے تاکہ ایک طرف لوگ سرکار کی کمیوں پر سوال نہ کرکے ان مسئلوں میں الجھے رہیں اور دوسری طرف 2019 میں کامیابی مل جائے۔ میڈیا بٹا ہوا ہے،کوئی بولتا ہے تو اسے ملک مخالف کہہ کر چپ کردیا جاتاہے ۔ایسی صورت میں جو کرنا ہے عوام اور سول سوسائٹی کو کرنا ہے لیکن جلدی۔





دیگر خبروں

2
3
4