28/07/2017


یقینا اس سے بھی برا وقت ہمارے انتظار میں ہے

محمد وسیم خان


 اتر پردیش کے نتائج سامنے ہیں،سیکولرازم کا راگ الاپنے والی تمام نام نہادسیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میںمصروف ہیں ۔کوئی اکھلیش،کوئی راہل گاندھی ،کوئی مایاوتی،کوئی اسدالدین تو کوئی ڈاکٹر ایوب پر اپنی اپنی طرح سے الزام لگا رہا ہے ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ سیکولر جماعتیں اگر حقیقت میں بی جے پی کو روکنا چاہتی ہیں تو آخر الیکشن سے پہلے یہ نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتیں آپس میں صلح کی میز پر کیوں نہیں آئیں،دلتوں اور مسلمانوں کی لڑائی لڑنے کا دعوہ ایس پی بھی کرتی ہے اوریہی دعوہ بی ایس پی اور کانگریس بھی کرتی ہیں،تو آخران سبھوں کی ایسی کون سی مجبوری ہے کہ یہ پارٹیاںآپس میں اتحاد نہیں کر پارہی ہیں ۔
یہ بات کون نہیںجانتا کہ اگرآج کی تاریخ میں ایس پی،بی ایس پی اور کانگریس وغیرہ آپس میں اتحاد کر کے اترپردیش میں الیکشن لڑجائیں توبی جے پی کا کیا حشر ہوگا،کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔دراصل معاملہ یہ ہے کہ ان سیکولرازم کی علمبردارسیاسی جماعتوں کو دلتوں مسلمانوں اور ان کے مسائل سے کوئی سروکار ہے ہی نہیںان کو تو بس اپنا الّوسیدھا کرنا ہے ۔
یہ سیاسی جماعتیں اگر حقیقت میں بی جے پی کے تئیںسنجیدہ ہوتیں اوربی جے پی کواقتدارسے روکنے کا عزم رکھتیںتو یہ اپنی انا کو چھوڑ آپس میںمعاہدہ کرکے الیکشن لڑتیں اور تب اتر پردیش ہی نہیںپورا ملک دیکھتا کہ کیسے بی جے پی اقتدار میں آتی ہے ،آج اگر اتر پردیش میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تو اس کی ساری ذمہ داری سیدھے سیدھے ایس پی،بی ایس پی اور کانگریس کے اوپر جاتی ہے  ۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایس پی،بی ایس پی اور کانگریس نے وہ کون سا کارنامہ مسلمانوںاور دلتوں کے حق میں انجام دیا ہے کہ ان کو سیکولر اور دلتوں اورمسلمانوں کاہمدردمان لیا جائے ،بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں اور دلتوںکے ساتھ ظلم اورزیادتی میں یہ سیکولر جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی سے کچھ کم نہیں ہیں ،بلکہ اگر دیکھا جائے تو صبح آزادی سے لے کر اب تک یہاں کا دلت اورمسلمان انھیں سیکولر جماعتوں کو ووٹ دیتا آرہا ہے اور محض چند سالوں کوچھوڑکر ان سیکولرپارٹیوں نے دلتوں اورمسلمانوں کے ووٹ کے بل پر حکومت بھی کی ہے ،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اس دوران سب سے زیادہ خسارہ دلتوں اورمسلمانوں کا ہی ہوا ہے۔مایاوتی نے مسلمانوںکو بی جے پی کا خوف دلاکر ان کا ووٹ لیا اورمسلمانوں کے منھ پر طمانچہ مارتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ مل کرحکومت بنالی اور ملائم سنگھ کا آرایس ایس یارانہ وقتاــفوقتاان کی زبان سے ظاہر ہوتا رہا ہے ۔
 کانگریس کے دور اقتدار میں دلتوں اور مسلمانوں کا کیا حال تھا یہ پوشیدہ نہیں ہے ،یہی حال ایس پی اور بی ایس پی کا بھی رہا ،کافی عرصے سے یہ لوگ مسلمانوں اور دلتوں کا ووٹ لے لے کر ان کو بے وقوف بناتے آرہے ہیں۔ مایاوتی سے دلت پرامید تھا کہ یہ کچھ کرینگی مگر مایاوتی بھی ان کی امیدوں پر کھری نہیں اتر پائیں ۔ان تما م سیاسی جماعتوں کا کیا دھرا ہمارے سامنے ہے بی جے پی کا خوف دلا دلا کران سیکولر جماعتوں نے بی جے پی سے بھی برا کام کیا ہے ،تو اگر ان مذکورہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار مل بھی جاتا تو کون سا ہمارا مقدر سنور جاتا ۔دوسری بات یہ ہے کہ ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے انھیں سیاسی جماعتوں کا سہارا لیکربی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عجیب ستم ظریفی ہے کہ ہم جتنی شدت کے ساتھ بی جے پی کو ہرانے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ہی تیزی کے ساتھ بی جے پی اقتدار میں آجاتی ہے اور آج کی تاریخ میں نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ بی جے پی اتر پردیش سے لے کر دہلی تک اقتدار پر قابض ہو گئی ہے ،تو کیا اب ہمیں بی جے پی کے ہرانے کے اپنے طریقہ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے  ؟ 

 

 اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب سبھی سیاسی جماعتوں کو ہم نے باربار آزمالیااور سبھی نے ہمارے ساتھ دغاکی توہمارے لئے ساری سیاسی جماعتیں بی جے پی جیسی ہیں تو ایسے حالات میں اب ہم کیا کریں اور کہاں جائیں ،ایسے حالات میں کچھ آوازیں ایسی بھی اٹھیں کہ مسلمانوں کی ایک اپنی قیادت ہونی چاہئے،لیکن اس کی شروعات کون کرے ،مسلمان آج بھی علماء کی قدر کرتا ہے مگر علماء نے کسی مصلحت کے تحت (جو مجھے نہیں معلوم )سیاست سے دوری بنا رکھی ہے ۔اس حوالے سے کچھ لوگوں نے ایسی کوششیں کیں بھی مگر ان لوگوں کو چنداںکامیابی نہیں ملی اور ان کی مخالفت مسلمانوں نے ہی بڑی شدت کے ساتھ کی ،آج ملت کے وقت نازک ہیں اگر اب بھی سربراہان ملت سر جوڑ کرایک میز پر نہیں بیٹھے تو یقینا اس سے بھی برا وقت ہمارے انتظار میں ہے ۔





دیگر خبروں

2
3
4