26/09/2017


'جشن ریختہ' میں بیت بازی مقابلہ: 'پوروانچل ' کے نوجوانوں نے دکھائے جوہر ؛ محمد عابد اور حبیب الرحمٰن نے علاقے کو دلائی پہچان

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/ ابو انس ) مشرقی اتر پردیش جو ہندی حلقوں میں' پوروانچل '  کے نام سے بھی جانا پہچانا  جاتا ہے ۔  معروف شاعر اصغر گونڈی 'اتر پردیش دینی تعلیمی کونسل' کے بانی قاضی عدیل عباسی،  فن تعلیم و تربیت  کے مصنف و اسلامی نہج پر درسیات تیار کرنے والے جماعت اسلامی ہند قائد افضل حسین ایم اے ایل ٹی، ہندی کے معروف ادیب آچاریہ رام چندر شکل ، مولانا عبد الرحیم بستوی ، سابق ایم ایل اے  شیر اجیار محمد نبی خان ، سابق وی سی اگنو اے ڈبلیو خان ، سابق الیکشن کمشنر اتر پردیش نور محمد، آئی اے ایس عبدالماجد، لوک جن شکتی پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری عبد الخالق ، گرامین بینک اتر پردیش کے سابق جی ایم عبدالوحید صدیقی،  آندھرا پردیش کے سابق پرنسپل سیکریٹری جنت حسین،مولانا صادق علی بستوی، بزرگ شاعر مجیب بستوی یہ سب ایسے نام ہیں جنہوں نے علاقے کو نمایاں پہچان دی ہے ، ان کی بیش قیمتی خدمات آج بھی جاری و ساری ہیں  ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس کے لیے ایک خاص اصطلاح GBS مستعمل ہے ۔ جی بی ایس کے طلبا  کیمپس کی سماجی تعلیمی و سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اکثر زیر بحث ہوتے ہیں بعض اوقات یہاں ان کی غیر تعلیمی سرگرمیاں زیادہ نمایاں رہتی ہیں اور طلبا یونین کے الیکشن کے دنوں میں کچھ زیادہ ہی سرگرمی بڑھ جایا کرتی ہے ۔  جی بی ایس کے یہ ہونہار طلبا نہ صرف علی گڑھ بلکہ دہلی کی جامعات جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونیورسٹی اور جے این یو میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ یہاں اپنی ادبی دلچسپیوں اور تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے کافی زیر بحث رہتے ہیں ۔

16864584_948316338604558_6796996989834299630_n.jpg

جشن ریختہ کے تیسرے دن جب ہم دیوان عام میں جاری بیت بازی مقابلے میں شریک ہوئے تو اس وقت فائنل مقابلہ جاری تھا ، اس مقابلے 8 ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ اور فائنل مقابلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 'مرزاغالب' ٹیم اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی "جون ایلیا" ٹیم اسٹیج پر جلوہ افروز تھی ۔ 

habib.jpg

محمد عابد کو مبارکباد دیتے اہل پوروانچل و ان کے دوست 

اچانک نظر پری کہ یہ دو نوجوان  محمدعابد خان اور حبیب الرحمنٰ کا تعلق تو اپنے دیار سے ہے  عابد خان سنت کبیر نگر ، تپہ اجیار کے مردم خیز آبادی دودھارا سے ہیں جبکہ دوسرے  حبیب کا تعلق بلرام پور سے ہے  ۔ خوشی ہوئی دل سے آس پاس موجود جی بی ایس کے لوگوں نے دعائیں دیں ۔  دوسری ٹیم میں مسٹر خلیق الزماں کا تعلق  اعظم گڑھ سے تھا جنہوں اپنے انداز پیش کش سے سبھی  کا دل جیت لیا ۔ بجا طور پر وطنی تعلق سے کسی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا، اور یہ عیب کی بات بھی نہیں ہے ، پردیش میں یہ احساس کچھ زیادہ ہی ہوتاہے۔

چنانچہ بیت بازی مقابلہ شروع ہوا دونوں ٹیموں نے ایک کے بعد ایک اچھے اشعار انتہائی موثر انداز میں پیش کیے۔ بڑا ہی دلچسپ مقابلہ ہوا ۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دونوں ٹیموں نے بھر پور کوشش کی ۔  بالاخراب نتیجے کی باری تھی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مرزا غالب ٹیم دوسرے مقام پر رہی جبکہ پہلا انعام  جے این یو کی 'جون ایلیا ' ٹیم کے حصے میں آیا ۔  دونوں ٹیموں کو انعامات سے نوازا گیا ۔ اہل پوروانچل کی جانب سے ، عابد ،حبیب اور ان کے دیگر ساتھیوں اور فاتح ٹیم کو بہت بہت مبارکباد ۔ 





دیگر خبروں

2
3
4