26/09/2017


قانون کی بالادستی کی ’سزا‘، خاتون پولیس افسر کا تبادلہ

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں جو خاتون پولیس افسر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی تھیں ان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس افسر سریشتھا ٹھاکر نے بی جے پی کے بعض مقامی رہنماؤں پر ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا تھا جس پر سیاسی کارکنان ان سے الجھ پڑے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

سریشتھا ٹھاکر نے فیس بک پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں لکھا ہے کہ انھیں بتایا گيا ہے کہ ان کا تبادلہ معمول کا عمل ہے، لیکن جس طرح سے تبادلے ہوتے ہیں ان اصولوں کے مطابق ابھی تقریباً ایک برس تک ان کا تبادلہ نہیں ہونا تھا۔

سریشتھا ٹھاکر

 بی جے پی کے رہنما سے پولیس افسر کی بحث و تکرار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا: ’بتایا تو اسے روٹین ٹرانسفر جا رہا ہے، لیکن میرے بیچ کے کسی اور افسر کا ٹرانسفر نہیں ہوا ہے اور طریقہ کار یہ تھا کہ دو سال سے اوپر والوں کا ہی ٹرانسفر کیا جائے گا۔ مجھے تو یہاں صرف آٹھ مہینے ہی ہوئے تھے۔'

ریاستی حکومت کے اس فیصلے پر لوگوں نے غم و غصہ ظاہر کیا ہے۔

بی جے پی کے جن مقامی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چيت کا ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس میں وہ تلخ لہجے میں ان سیاست دانوں سے کہتی ہوئی سنی جا سکتی ہیں کہ ’وزیر اعلیٰ سے لکھوا کر لاؤ کہ پولیس کو گاڑیوں کی چیکنگ اور ٹریفک کی خلاف ورزی پر چالان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

سریشتھا ٹھاکر کا کہنا ہے کہ پولیس افسران سیاست دانوں کے تھوڑا اور احترام کے مستحق ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کا تبادلہ ضلع بہرائج میں کر دیا گيا جو نیپال کی سرحد سے ملحق علاقہ ہے۔

سریشتھا ٹھاکر

انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کا تبادلہ بطور سزا کیا گيا ہے یا پھر اچھا کام کرنے کے لیے بطور انعام ایسا کیا گيا ہے۔ لیکن انھوں نے اس خبر کو مثبت انداز سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 88 پولیس افسران کا تبادلہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اپنی جماعت کے کارکنان سے صلاح و مشورے کے بعد کیا گيا ہے۔

لیکن سریشتھا ٹھاکر کے تبادلے کی خبر سے لوگوں میں غصہ ہے۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پراس کے خلاف آزاز اٹھائی اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ جس افسر نے اپنے فرائض ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی اسی کی چھٹی کر دی گئی۔

لیکن حکومت کے حامی کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تبادلے تو ہوتے رہتے ہیں اور اس پر بہت زیادہ رد عمل کی ضرورت نہیں ہے۔





دیگر خبروں

2
3
4