28/07/2017


علامتی کالی پٹی یا عید نہ منانے کا فیصلہ

زبیر خان سعیدی العمری

٢٠١٧ ایک ایسا عہد جسے سوشل میڈیا کا یگ کہا جاتا ہے، جس میں دنیا کے کسی بھی کونے میں واقع ہونے ہونے والی کوئی بھی چھوٹی بڑی خبر نقارہ خدا کی طرح عام ہوجاتی ہے- 

 اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ قوموں کی زندگی میں المیے، حوادث اور مصائب پیش آتے رہتے ہیں اور بدقسمتی سے گزشتہ کچھ برسوں سے اس طرح کے الم ناک واقعات ہماری زندگی کا ایک معمول سے بن چکے ہیں۔ ایسے حوادث کے پیش نظر اکثر اوقات بعض افراد یا حلقوں کی جانب سے یہ سننے میں آتا ہے کہ اس سال ہم عید نہیں منائیں گے۔ اس طرح کے بیانات کے پیچھے یقیناً ایک نیک جذبہ ہوتا ہے، اور اس بار بھی یقینا یہی نیک نیتی، حُبُّ الوطنی، اُخُوَّتِ اسلامی اور انسانیت دوستی کا جذبہ کار فرما ہوگا-
 لیکن سوال یہ ہے کہ عید نہ منانے کا فیصلہ لینے یا علامتی کالی پٹی پہن کر صدائے احتجاج بلند کرنے کا کیا مطلب کیا ہے؟
یہ کوئی جشن یا تہوار تو ہے نہیں، یہ تو ایک اہم عبادت اور سنت ِمصطفیؐ ہے، اخوت ِاسلامی اور اتحادِ امت کا مظاہرہ ہے، جمعیّتِ قومِ ِمسلم کا ایک حسین منظر ہے، اللہ کی بارگاہ میں دوگانہ نمازِ عید کی ادائیگی کا نام ہے، شرافت، متانت اور نفاست جیسی انسانی خصوصیات کا مظہر ہے۔
 ان میں سے کوئی چیز اور کوئی بات ایسی نہیں جو عُسر و یُسر اور رنج و راحت ہر حال میں منائے جانے کے قابل نہ ہو۔ 
 باقی رہا لہو و لعب میں مشغولیت، رقص و سرود کی محافل برپا کرنا، کھانے پینے کی وہ تقاریب جن میں بے جا اسراف کیا جاتا ہو اور مُحرَّماتِ شرعیہ کا ارتکاب اور ہوس ِنفس کی تسکین کے سامان بہم پہنچانا، یہ ایسے امور ہیں جن کا اسلامی تصورِ عید سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو ایک مسلمان کو نہ صرف عید کے مُقدَّس موقع پر بلکہ زندگی کے ماہ و سال کے ہر لمحہ و لحظہ میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے چاہئیں بلکہ ان محرمات و منکَراتِ شرعیہ کو چھوڑنا ہی ایک مومن ِکامل کی حقیقی عید ہے اور ایسی عید اللہ تعالیٰ ہر بندئہ مومن کو نصیب فرمائے۔

اس سے ہٹ کر کہ مسرت کا موقع ہو یا رنج و غم کا، مسلمانوں کا آپس میں مل بیٹھنا، نفرتوں ، عصبیتوں اور کدورتوں کو مٹانا اور محبتوں کی خوشبوؤں کو قلب و نظر میں بسانا اگر اللَّهُ کے بندوں کو عید کے دن میسر ہو جائے، تو یہ معراجِ عید ہوگی۔

رہی بات علامتی کالی پٹی کے استعمال سے صدائے احتجاج بلند کرنے کی تو شاید اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کارگر ہے؟

میرے خیال سے قومی، ملّی اور ملکی سانحات کے موقع پر ہم لازمی طور پر اور اجتماعیت کے ساتھ اللَّهُ تعالیٰ سے رجوع کریں، استغفار کریں اور اس کی رحمتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ آفات و بلیّات کے ٹلنے کی دعائیں کریں
 استغفار بڑا اور کارگر ہتھیار ہے

وما توفیقی الا بالله





دیگر خبروں

2
3
4