26/09/2017


جمہوریت کو بھیڑ نظام میں کبھی بھی تبدیل نہیں ہونے دیں گے

مہدی حسن عیني قاسمی

 نئی دہلی : جمہوری ملک بھارت میں بڑھ رہے ماب لیچنگ اور خونی بھیڑ  کی درندگی کے خلاف بھارت کے مسلم نوجوانوں کی طرف چلائے جا رہے EIDWITHBLACKBAND# مہم میں آج زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا،

جہاں ملک کے کونے کونے سے لوگ سیاہ پٹی باندھ کر عید کی نماز ادا کر رہے ہیں،
اور خونی بھیڑ کے قہر کی مخالفت کر رہے ہیں،

وہیں اترپردیش کے تاریخی قصبہ نصيرآباد ضلع رائے بریلی کی مشہور جامع مسجد "مولانا سید محمد امین نصیرآبادی." میں
عید کی نماز مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے ادا کرائی،

واضح رہے کہ مولانا قاسمی نے کل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملک بھر کے مسلمانوں سے  Mob leaching کے خلاف سیاہ پٹی باندھ کر عید منانے کی اپیل کی تھی.

عید کی نماز سے پہلے مولانا نے ملک کے طول و عرض میں بھیڑ  کے ظلم کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس خونی بھیڑ کا شکار ہوئے مظلوموں کی تعداد اب تک 70 ہو چکی ہے،
محسن شیخ، اخلاق،
منهاج، اور DSP ایوب سے لے کر جنید احمد تک پر کئے گئے  ظلم کی ایک لمبی داستان ہے،

جس سے نہ صرف بھارت کی جمہوریت کمزور پڑھ رہی ہے،
بلکہ ملک اناركي اور نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے،
اور اس کا خمیازہ کسی ایک خاص کمیونٹی کو نہیں بلکہ ہندوستان کے ۱۲۵ کروڑ شہریوں کو بھگتنا پڑے گا،

اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حکومتیں،سماجی تنظیمیں اور میڈیا خاموش ہیں

ہماری وہ ثقافت اور تہذیب جس میں  عید کی سوئیاں ہندو بھائی تو دیوالی کی گجھيا مسلمان کھاتے ہیں،
فسطائی  طاقتیں اس تہذیب کو ہم سے چھیننے کی ناپاک سازش کر رہے ہیں،
لیکن ہم ہندوستانی مسلمان جب تک زندہ ہیں ان طاقتوں کو کبھی بھی ان کے ناپاک ارادے پورے نہیں کرنے دیں گے،

اسی لئے آج ہم بھارتی مسلمانوں  نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کی نماز کے بعد سیاہ پٹی باندھ کر خاموش احتجاج کریں گے،
اور پوری دنیا کو بتائیں گے کہ مسلمان کا خون پانی نہیں بلکہ خون ہی ہے،

مولانا نے نماز کے بعد بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مہم کو کامیاب بنانے میں ٹیم عمران پرتاپ گڑھي، نوید چودھری کی "میم ٹیم" 
ندیم خان کی پوری ٹیم، sio کی پوری ٹیم
سمیت ملک بھر کے مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام بھارتيوں  کا گرانقدر تعاون رہا ہے،
اور آج کی یہ مہم بھیڑی کے نطام کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کی پہلی سیڑھی ہے،





دیگر خبروں

2
3
4