26/09/2017


ہمارا مقصد ہے کہ آج زکوۃ لینے والے کل زکوۃدینے والے بن جائیں/ عامر ادریسی صدر اے ایم پی

اے ایم پی نےتفصیلات پیش کیں

 ممبئی  : بیشتر بین الاقوامی معاشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کی زیادہ تر دولت چند افراد کے ہاتھوں میں جمع ہے۔ دولت کی یہ غیر منصفانہ تقسیم امیر اور غریب کے درمیان نفرت کے احساس کو جنم دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں جب غریب اور امیر طبقہ کے درمیان دولت کی تقسیم کا فرق بہت زیادہ ہوزکوۃکا ایک منظم نظام اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ 

زکوۃ ایک ایک آلہ ہے جو حکومت کو با اختیار بناتا ہے کہ وہ امیروں سے رقم  لے کر غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرسکے۔  ہندوستان کے پس منظر میں جہاں حکومتی ایجنسی اس طرح کا کوئی کام نہیں کرتی یہ ذمہ داری مسلم تنظیموں کی ہے کہ وہ زکوۃ جمع کریں اور اسے صحیح مصرف میں استعمال کریں۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس (اے ایم پی) نے زکوۃ کی وصولی اور تقسیم کا فریضہ چار برس قبل شروع کیا تھا جس کا بنیادی مقصد ہمارے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں مدد کرنا اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ غریب مسلم خاندان اعلیٰ تعلیم اور روزگار یا مالیاتی طور پر مستحکم نہ ہوجائیں۔

یہ قابل غور ہے کہ چار برس قبل اے ایم پی نے زکوۃ کا نظم صرف دو لاکھ روپیوں کی وصولیابی سے شروع کیا تھا جو ۲۰۱۴؁ء  میں چار گنا ہوکر آٹھ لاکھ اور ۲۰۱۵؁ء  میں بیس لاکھ ہوگیا۔ فنڈ میں اضافے کے پیشِ نظر ۲۰۱۶؁ء  میں اپنے زکوۃ مشن میں دو اضافی مقاصد کو شامل کیا ، ایک انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی ) میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کی مدد اور دوسرے یتیم بچوںکی کفالت۔ ۲۰۱۶؁ء میں زکوۃ کلیکشن تقریباً چالیس لاکھ روپئے تھا۔

اے ایم پی اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے کہ اے ایم پی نے ۱۰۳ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ ،۱۲۰ یتیم طلبہ کو بنیادی تعلیم کے لیے اسکالرشپ، ۵ طلبہ کو آئی آئی ٹی کے لیے اسکالرشپ کی تقسیم کا کام مکمل کرلیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ۵۰ خاندانوں کو چھوٹے کاروبار کرنے کے لیے امدد کی تقسیم کا کام بھی جاری ہے۔

                        کل زکوۃفنڈ جمع ہوا                        :           38,79,750  روپئے

                        کل زکوۃ تقسیم                  :           38,66,000  روپئے

                        بقایا جمع رقم                                :           13,750  روپئے

                        اعلیٰ تعلیم کے ۱۰۳  طلبہ کو  10,30,000   روپئے اسکالرشپ دی گئی۔

                        ۱۲۰  یتیم طلبہ کو اسکالرشپ دی گئی 5,73,000 روپئے۔

                        آئی آئی ٹی کے لیے ۵ مخصوص طلبہ کو اسکالر شپ دی گئی 8,50,000   روپئے۔

                        ۱۵۰  فراد کو خود کے روزگار کے لیے 12,65,000  روپئے امداد کے طور پر دیے گئے۔

                        اے ا یم پی کے عطیہ دہندگان کی جانب مخصوص چھ افراد کو مدد دی گئی 1,48,000   روپئے

                        کل امداد یافتہ248 

اے ایم پی اپنے اسکالر شپ پروجیکٹ کے ذریعے اس بات کوشش کرتی ہے کہ زیادہ تر ایسے طلبہ کی مدد کی جائے جو پیشہ وارانہ کورسیس کی تعلیم بالخصوص انجینیئرنگ اور میڈیکل شعبے سے وابستہ  ہیں۔ یہ اسکالرشپ پورے ملک سے آئی ہوئی درخواستوں پر غور کرنے کے بعد انتہائی مستحق اور ذہین طلبہ دی جاتی ہے۔

خود روزگار کے مقصد سے چھوٹا کاروبار شروع کرنیکے لیے بیروزگار نوجوانوں کو25000کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔  یہ مدد پورے ملک بالخصوص دیہی علاقوں کو نظر میں رکھتے ہوئے دی جاتی ہے۔ اے ایم پی کے زکوۃ فنڈ کا اہم مقصد یہ ہے کہ ’’آج کے زکوۃ حاصل کرنے والے کل زکوۃ ادا کرنے والے بن جائیں۔‘‘

آئی آئی ٹی میں داخلہ لینے والے ہر طالب علم کو ہم نے فی کس تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپئے کی مالی مدد دی ہے۔ یہ ہمارے سماج کے وہ جواہرات ہیں جن کے متعلق اے ایم پی کا یہ خیال ہے کہ اس ادنیٰ کوشش کے ذریعے ہم ان ذروںکو چمکا سکیں تاکہ مستقبل میں یہ دوسرے ضرورت مند افراد کی مدد کرسکیں۔

اے ایم پی ضرورت مند یتیم بچے کو اس کے تعلیمی اخراجات کی تکمیل کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے تاکہ وہ بچہ سرپرست کی عدم موجودگی کی بنا پربنیادی تعلیم سے محروم نہ ہوجائے۔اس کوشش کا اہم مقصد یہ ہے کہ قوم کے یتیم بچے اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا محسوس نہ کریں انھیں یہ احساس ہو کہ ان کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں۔

نوٹ   :  ہمارا زکوۃ کی وصولی اور تقسیم کا نظام مکمل شفافیت کا حامل ہے اگر کسی کو اس ضمن میں مکمل تفصیل جاننی ہو تو ہماری ویب سائٹ www.ampindia.org  دیکھ سکتا ہے۔ یاپھر ذاتی طور پر ہمارے دفتر آکر تفصیلات کی جانچ کر سکتا ہے۔ ہمیں آپ سے ان تفصیلات کو شئیر کرکے خوشی محسوس ہوگی۔

زکوۃ حاصل کرنے والے افراد اور زکوۃ دینے والے افراد کے ناموں کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ ا ے ایم پی اسے عوام میں جاری نہیں کرتی ، یہ تفصیل صرف درخواست او ر مناسب تحقیق کے بعد ہی فراہم کی جاتی ہے۔

 





دیگر خبروں

2
3
4