28/07/2017


جمعیت اہل حدیث نارتھ ایسٹ ممبئی کے زیر سرپرستی ایک روزہ دینی واصلاحی ’اجلاس عام

 گوونڈی، ممبئی(نامہ نگار) ضلعی جمعیت اہل حدیث نارتھ ایسٹ ممبئی کے زیر سرپرستی ایک روزہ دینی واصلاحی ’اجلاس عام‘سوموارکی شام بعد نماز مغرب تادس بجے شب جامع مسجد اہل حدیث ومدرسہ رحمانیہگوونڈی ممبئی میںمنعقدہوئی جس کی صدارت مولاناجلال الدین فیضیؔ حفظہ اللہ (امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث نارتھ ایسٹ ممبئی)اورنظامت کے فرائض مولانا فیض الرحمن الرحمانی؍نائب ایڈیٹرماہنامہ ’الاتحاد‘ممبئی نے انجام دی۔اس اجلاس میں ملک کے معروف خطیب مولانا عبد الغفار سلفی؍ حفظہ اللہ (ریسرچ اسکالر بنارس ہندویونیورسٹی بنارس)اور مولانا مصطفی اجمل مدنی ؍حفظہ اللہ(استاذِحدیث جامعہ اسلامیہ کوسہ،ممبرا)نے خطاب کیا۔مولانامصطفی اجمل مدنی نے’ توکل علی اللہ اوراس کی جھلکیاں‘کے موضوع پرخطاب کیا۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں اللہ پربھروسہ نہیں کرتا،حالانکہ اللہ ہرچیزکوفراہم کرتاہے ۔ لوگ قرآن کی تلاوت کرتے اوراللہ کے صفاتی ناموں کاوردتوکرتے ہیں لیکن انہیں اس کے حقیقی مفہوم علم نہیں ہوتاجیسے کہ اللہ رزاق ہے،اس کامطلب یہ ہواکہ تمام قسم کی غذاصرف وہی فراہم کرسکتاہے اب کسی اورسے مانگنے یاغیراللہ کے سامنے سربسجودہونے کی قطعی حاجت نہیں ہے۔مولانانے مزیدکہاکہ توکل دراصل اللہ تعالی پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ اپنے تمام معاملات میں خواہ ان کا تعلق حصول منفعت سے ہو یا دفع مضرت سے اللہ تعالی پر بالکلیہ اعتماد کرناچاہئے۔توکل عظیم عبادت ہے جسے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف پھیرنا جائز نہیں، مومن صادق اپنے سارے معاملات میں محض اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہے، چاہے رزق کی طلب ہو، مدد کی طلب ہو، شفا وعافیت کی طلب ہو، یا مشکلات سے نجات کی خواہش۔ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی رازق نہیں، وہی ذات عطا کرنے والی ہے، اور وہی ذات چھیننے والی بھی ہے اللہ کافرمان’اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالی پر بھروسہ کرو‘جاؤپکارو! پھر اُن کو چاہیے کہ وہ تمہارا کہنا پورا کر دیں اگرتم اپنے دعوی میں سچے ہو کہ واقعی وہ تمہاری سنتے اور ضرورت پوری کرتے ہیں۔مولانانے اخیرمیں انبیاء کرام کے واقعات بیان کیاجس میں انہوں نے محض اللہ پربھروسہ کرکے صبرکی گھڑیاں گزاریں۔ان کے مولاناعبدالغفارسلفی نے ’امام اعظم کون؟‘کے موضوع پرکتاب وسنت اورعلماء سلف کی کتابوں سے مدلل خطاب کیا۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہااس کائنات میں انبیاء کرام کی ذات سب سے مقدس ہے اورمعراج کی رات اللہ کے رسول ﷺنے تمام انبیاء کرام کوامامت کروائی اس لیے امام اعظم صرف اورصرف اللہ رسول ﷺہیں۔انہوں نے مزیدکہ کہا’اللہ کے رسول صادق مصدوق ہیں اس لیے ان کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی جسے بغیرتامل کے قبول کرناایک مومن کے لیے بے حدضروری ہے،آپ کے علاوہ بنی نوع آدم سے غلطی ہوسکتی ہے۔ قرآن وسنت کے علاوہ دوسری باتوںمیں احتمال کی بنیادپررد واخذ کاامکان قائم ہے۔ مولانانے دوران خطاب صحابہ کرام اورسلف صالحین کی؛ اللہ کے رسول سے والہانہ محبت کابھی تذکرہ کیا۔ علاوہ ازیںمولانامعروف احمدسلفی نے ’حسداوراس کے نقصانات ‘پرقرآن وحدیث کی روشنی میں گفتگوکی۔اس موقع پرجامع مسجداہل حدیث ومدرسہ رحمانیہ کے عہدیدران واساتذہ کرام موجود رہے جن میں مولانامحمدسلمان سراجی،عبدالکریم صاحب،مولانا ہلال احمدسلفی؍ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی،مولانامقصود عالم سلفی،عبدالنورسلفی،محمدعرفان سراجی،قاری عرفان احمد،مولاناعبدالاول ایس کے نگری بطورخاص ہیں۔اجلاس میں علاقہ کے لوگوں کی کثیرتعدادموجودرہی جنہوں نے ہمہ تن گوش ہوکرعلماء کرام کے بیانات کوسنا۔





دیگر خبروں

2
3
4