26/09/2017


اسلام کے عائلی قوانین پر جامعۃ الفلاح میں دو روزہ سیمینار۵نومبر کو

اہم عہدیداران کی شرکت متوقع

 

بلریا گنج (اعظم گڈھ ) مسلم پرسنل لاء میں ترمیم اور اسلام کے شرعی قوانین سے چھیڑ چھاڑ کی جو خواہش اسلام دشمنوں نے اپنے دلوں میں پال رکھی ہے اس کے خلاف پورا ملک متحد ہوکر مقابلہ کر رہا ہے ۔عالمی شہرت یافتہ مدرسہ ’’جامعۃ الفلاح‘‘ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اسلام کے عائلی قوانین پر دوروزہ سیمینار کا ہی انعقاد کر دیا ہے تاکہ مسلم پرسنل لاء کے فیوض و برکات سے عام ہندوستانیوں کو روشناس کرایا جاسکے۔اس سیمینار میں جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا سید جلال الدین انصر عمری شرکت کر رہے ہیں وہیں ورکنگ کمیٹی میں شامل محمد جعفر بھی مدعو ہیں۔شبلی اکیڈمی کے سربارہ پروفیسر اشتیاق ظلیّ کے ساتھ جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا محمد نصرت کا بھی خطاب ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ مسلم خواتین بڑی تعداد میں اس سیمینار میں شرکت کر رہی ہیں جہاں وہ بطور مقرر اسلام کے عائلی نظام کی برکتوں سے امت کی مائوں اور بہنوں کومستفید کریں گی۔اس سمینار میں جن موضوعات کو  پیش نظر رکھا گیا ہے وہ ’’عورتوں کے حقوق اور اسلام‘‘اسلامی عائلی قوانین کا تحفظ اور خواتین کی ذمہ داریاں‘‘خلع و تفریق کے احکام و مسائل‘‘عائلی نزاعات کا حل کیسے دارلقضاء یا عدالت‘‘’’تعدد ازدواج‘‘،جیسے اہم موضوعات ہیں۔
مدرسہ کے ناظم مولانا محمد طاہر مدنی کہتے ہیں’’اسلام کا عائلی نظام باعث رحمت و سکون ہے، یہ بات اسی وقت عام انسانوں کی سمجھ میں آئے گی، جب ہمارے گھر اس کا عملی ثبوت فراہم کریں‘‘.وہ کہتے ہیں’’ آج تو اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے گھر سکون سے محروم ہو گئے ہیں. گھریلو جھگڑے عام ہو گئے ہیں. فیملی کورٹ برقع پوش خواتین سے بھرے ہوئے ہیں. شادی بیاہ کی بے جا رسموں نے نکاح کو مشکل بنادیا ہے.جبکہ بیویوں کے حقوق نظر انداز کردیئے گئے ہیں. بوڑھے ماں باپ کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے. اولاد کی تربیت سے غفلت برتی جارہی ہے. خواتین کو میراث سے محروم کردیا گیا ہے. مرد اپنی قوامیت کا استعمال بیجا کر رہے ہیں. کتنی عورتوں کو معلق بناکر چھوڑ دیا گیا ہے. نان و نفقہ کی ادائیگی ٹھیک سے نہیںہورہی ہے. طلاق کا غلط استعمال ہورہا ہے. غرض یہ کہ قدم قدم پر ہم اسلامی عائلی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، ایسی حالت میں ہمارے گھر امن و سکون کا گہوارہ کیسے بنیں گے‘‘؟ 
مولانا کہتے ہیں ’’آج ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم اسلامی عائلی قوانین پر پورے طور سے عمل کریں اور حقوق العباد میں کوتاہی نہ کریں. قرآنی ہدایت کو سامنے رکھیں :و عاشروھن بالمعروف. .... عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا ثبوت دیں.تبھی ہمارے خاندان مثالی بنیں گے اور دوسروں کیلئے نمونہ ہوں گے. پھر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے گا۔جامعةالفلاح میں ہونے والا دوروزہ سیمینار کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کے عائلی نظام کی خوبیاں اجاگر ہوں اور مخلصانہ عمل کا جذبہ پیدا ہو. ملک کے موجودہ حالات میں اس سیمینار کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے‘‘۔

 





دیگر خبروں

2
3
4